جب سائے حقیقت بن جائیں – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر
.
آج کل افلاطون، سقراط اور ارسطو کے فلسفیانہ نظریات زیرِ مطالعہ ہیں۔ کبھی کبھی انسان کو لگتا ہے کہ صدیوں پُرانے یہ فلسفی دراصل ہمارے عہد ہی کے ہم عصر ہیں۔ زمانہ بدل گیا، لباس بدل گئے، ذرائع ابلاغ بدل گئے، گفتگو کے انداز بدل گئے، مگر انسان کے بنیادی سوال وہی ہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ سچ کہاں ہے؟ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، کیا واقعی وہی حقیقت ہے؟ اور کیا ہر مشہور بات لازماً سچ بھی ہوتی ہے؟
افلاطون کی ایک مشہور تمثیل ’’غار‘‘ اسی انسانی کیفیت کو ایک نہایت خوبصورت اور گہری علامت میں بیان کرتی ہے۔تصور کیجیے، ایک تاریک غار ہے۔ غار کے اندر کچھ لوگ بچپن ہی سے زنجیروں میں جکڑے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں بند ہیں اور گردنیں اس طرح کہ وہ صرف اپنے سامنے موجود دیوار کو دیکھ سکتے ہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے کی آزادی انہیں حاصل نہیں۔ ان کے پیچھے ایک آگ جل رہی ہے۔ آگ اور قیدیوں کے درمیان کچھ لوگ مختلف اشیا اٹھائے گزر رہے ہیں۔ ان اشیا کے سائے غار کی دیوار پر پڑتے ہیں۔ قیدی انہی سائے کو دیکھتے ہیں، انہی کے بارے میں بات کرتے ہیں اور انہی کو حقیقت سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی قیدی ساری زندگی صرف یہی سائے دیکھتا آیا ہو تو اس کے لیے حقیقت کا مطلب ہی وہ سائے بن جاتے ہیں۔
پھر ایک دن ان میں سے ایک قیدی کی زنجیریں کھول دی جاتی ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ پیچھے مڑتا ہے۔ آگ کو دیکھتا ہے۔ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اسے یقین نہیں آتا کہ جسے وہ حقیقت سمجھتا رہا، وہ تو محض دیوار پر پڑنے والا عکس تھا۔ اسے غار سے باہر لے جایا جاتا ہے۔ باہر کی روشنی اس کے لیے ابتدا میں ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔ وہ سورج کی طرف دیکھ نہیں سکتا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں روشنی کی عادی ہوتی ہیں۔ پہلے اسے چیزوں کے عکس دکھائی دیتے ہیں، پھر خود چیزیں، اور آخرکار وہ سورج کو دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس دُنیا کو وہ حقیقت سمجھتا رہا، وہ حقیقت کا صرف ایک سایہ تھی۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔۔۔ وہ آزاد انسان دوبارہ غار میں واپس آتا ہے۔ وہ اپنے ساتھی قیدیوں کو بتانا چاہتا ہے کہ باہر ایک اور دُنیا ہے، زیادہ روشن، زیادہ وسیع اور زیادہ حقیقی۔ مگر قیدی اس کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ اس پر ہنستے ہیں۔ اسے دیوانہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک حقیقت وہی ہے جو انہوں نے ہمیشہ دیکھی ہے۔
اور شاید یہی انسانی المیہ ہے۔ انسان اکثر سچ کو اس لیے رد نہیں کرتا کہ وہ جھوٹ ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ اس کے مانوس تصورِ حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔
اس تمثیل کو فلسفیانہ انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
1۔ غار کیا ہے؟
افلاطون کا غار اس مادی دُنیا اور محدود انسانی ادراک کی علامت ہے، جہاں انسان اکثر ظاہری چیزوں کو ہی مکمل حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ جو دکھائی دے، جو سنائی دے اور جو عام طور پر تسلیم کیا جائے، ہم اسے حقیقت کا آخری درجہ سمجھنے لگتے ہیں۔
2۔ قیدی کون ہیں؟
قیدی عام انسان ہیں؛ ایسے انسان جو بغیر تحقیق، بغیر سوال، بغیر غور و فکر اور بغیر اپنے ذہن کو استعمال کیے زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی زنجیر شاید لوہے کی نہیں بلکہ ذہنی ہے۔ وہ اس لیے آزاد نہیں کہ انہوں نے کبھی آزادی کا سوال ہی نہیں اُٹھایا۔
3۔ سائے کیا ہیں؟
غار کی دیوار پر پڑنے والے سائے جھوٹی یا نامکمل معلومات، افواہوں، ظاہری حقیقت، تقلید، تعصب اور ادھورے علم کی علامت ہیں۔ آج کے زمانے میں یہ سائے اور بھی زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ، کسی کا فارورڈ کیا ہوا پیغام، ایک وائرل ویڈیو، کسی مقبول شخص کا بیان یا محض اس لیے کہ ’’سب لوگ یہی کہہ رہے ہیں‘‘۔۔۔ ہم کبھی کبھی ان سب کو تحقیق کے بغیر حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔
4۔ آگ کیا ہے؟
غار میں موجود آگ محدود علم کی علامت ہے۔ وہ اندھیرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی، صرف اتنی روشنی دیتی ہے کہ کچھ سائے دکھائی دینے لگیں۔ محدود علم بھی ایسا ہی ہے۔ وہ ہمیں کچھ سمجھاتا ہے، مگر اگر ہم اسے مکمل علم سمجھ بیٹھیں تو یہی محدود روشنی ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نئی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔
5۔ غار سے باہر نکلنا کیا ہے؟
غار سے باہر نکلنا تعلیم، عقل، فلسفہ، تحقیق، سوال اور فکری بیداری کے ذریعے حقیقت کی تلاش کی علامت ہے۔ یہ سفر آسان نہیں۔ کیونکہ انسان کے لیے اندھیرے سے روشنی کی طرف آنا جتنا مشکل ہے، کبھی کبھی اپنی پُرانی سوچ سے باہر نکلنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ تعلیم صرف کتاب پڑھنے کا نام نہیں؛ تعلیم دراصل اپنے یقین کو سوال کے سامنے رکھنے کا حوصلہ ہے۔
6۔ سورج کیا ہے؟
افلاطون کے فلسفے میں سورج Form of the Good یعنی ’’خیرِ مطلق‘‘ کی علامت ہے۔ جس طرح سورج اپنی روشنی سے دُنیا کی اشیا کو ہمارے لیے قابلِ دید بناتا ہے، اسی طرح خیرِ مطلق انسان کے ذہن کو حقیقت کے ادراک کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ گویا غار سے باہر نکلنے کا سفر صرف اندھیرے سے روشنی کی طرف سفر نہیں، بلکہ ظاہری علم سے اعلیٰ تر فہم اور حقیقت کی طرف سفر ہے۔
7۔ آزاد قیدی کون ہے؟
آزاد ہونے والا قیدی دراصل فلسفی ہے؛ وہ شخص جو سچائی کو تلاش کرنے، سوال اٹھانے اور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن افلاطون کا فلسفی صرف اپنے لیے آزاد نہیں ہوتا۔ وہ واپس غار میں جاتا ہے تاکہ دوسروں کو بھی روشنی کا راستہ دکھا سکے۔ یہاں افلاطون کے استاد سقراط کی زندگی کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ سقراط نے ایتھنز کے لوگوں کو سوال کرنے، اپنے خیالات کو پرکھنے اور اخلاقی و فکری زندگی پر غور کرنے کی دعوت دی۔ بالآخر انہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور 399 قبل مسیح میں موت کی سزا دی گئی۔ شاید اسی لیے سقراط کا ایک تصور آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ ایک ایسی زندگی جس میں انسان اپنے خیالات کا محاسبہ کرتا رہے۔
اور اب ذرا اپنے غار کی طرف دیکھیے۔۔۔۔ افلاطون کی غار صرف قدیم یونان میں نہیں تھی۔ ہر معاشرے میں اس کے اپنے غار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسے بے شمار سائے ہیں جنہیں ہم حقیقت سمجھ کر نسل در نسل آگے بڑھاتے ہیں۔ کبھی افواہ خبر بن جاتی ہے، کبھی رائے حقیقت کا لباس پہن لیتی ہے، کبھی شخصیت دلیل پر غالب آ جاتی ہے اور کبھی اکثریت کی آواز کو سچ کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کا ماخذ دیکھتے ہیں؟ کتنے لوگ اپنی پسندیدہ رائے کے خلاف موجود دلیل بھی پڑھتے ہیں؟ کتنے لوگ یہ کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں کہ ’’ممکن ہے میں غلط ہوں؟‘‘ اور کتنے لوگ اپنی ہی بنائی ہوئی فکری دیوار سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال صرف دوسروں سے نہیں، ہم سب سے ہے۔
پاکستان کو صرف سڑکوں، عمارتوں، پلوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی ضرورت نہیں؛ اسے فکری روشنی کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے اسکول اور جامعات چاہییں جہاں بچے صرف جوابات یاد نہ کریں بلکہ سوال کرنا بھی سیکھیں۔ ہمیں ایسا معاشرہ چاہیے جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، تحقیق کو بے ادبی نہ کہا جائے اور دلیل کو شخصیت سے کم تر نہ سمجھا جائے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں ’’غار‘‘ شاید پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اب ہمارے سامنے سائے صرف ایک دیوار پر نہیں پڑتے؛ ہماری موبائل اسکرینیں ہر لمحہ نئے سائے تخلیق کرتی ہیں۔ الگورتھم ہمیں وہی دکھاتے رہتے ہیں جو ہم پہلے سے پسند کرتے ہیں، اور یوں کبھی کبھی ہماری اپنی پسند ہی ہماری نئی غار بن جاتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر خبر پر یقین کرنے سے پہلے رکیں، ہر دعوے پر سوال کریں، ہر مقبول رائے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھیں اور اپنے ذہن کے دروازے اختلافِ رائے کے لیے کھلے رکھیں۔ کیونکہ شاید اصل آزادی زنجیریں ٹوٹنے کا نام نہیں۔ اصل آزادی یہ ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اس کی زنجیریں کہاں ہیں۔
افلاطون کی غار سے باہر نکلنے والا شخص ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ روشنی ہمیشہ آرام دہ نہیں ہوتی۔ کبھی آنکھیں چندھیا دیتی ہے، کبھی پُرانے یقین ٹوٹتے ہیں، کبھی اپنے ہی لوگوں کی ناراضی مول لینا پڑتی ہے۔ مگر حقیقت کی تلاش کا سفر اسی تکلیف سے گزرتا ہے۔ اور شاید ہمارے معاشرے کو آج سب سے زیادہ ضرورت ایسے ہی لوگوں کی ہے جو غار میں بیٹھے سائے گننے کے بجائے ایک لمحے کے لیے گردن اٹھائیں، پیچھے دیکھیں، آگ کو پہچانیں، زنجیروں پر سوال اٹھائیں اور پھر روشنی کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ کریں۔ کیونکہ غار ہمیشہ باہر نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی غار ہمارے اپنے ذہن کے اندر بنی ہوتی ہے۔
آخرکار افلاطون کی غار ہمیں کسی قدیم یونانی قصے کے انجام تک نہیں، بلکہ اپنے عہد کے ایک بنیادی سوال تک لے آتی ہے کہ ہم جسے حقیقت سمجھتے ہیں، کیا واقعی وہ حقیقت ہے، یا صرف دیوار پر لرزتے ہوئے سائے؟ پاکستانی معاشرے میں یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں معلومات کی فراوانی کے باوجود تحقیق کی عادت، اختلافِ رائے کی برداشت اور دلیل کی ثقافت کو ابھی مزید مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے ذہن درکار ہیں جو ہر وائرل بات کو سچ نہ سمجھیں، ہر مقبول رائے کے آگے سر تسلیم خم نہ کریں اور اپنے ہی نظریات کو سوال کی کسوٹی پر پرکھنے کا حوصلہ رکھیں۔ تعلیم کا مقصد محض حافظے کو معلومات سے بھر دینا نہیں بلکہ شعور کو اتنی روشنی عطا کرنا ہے کہ انسان سائے اور حقیقت میں امتیاز کر سکے۔ شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ غار میں اندھیرا ہے، بلکہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے سائے کو ہی سورج سمجھ بیٹھے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اپنے فکری غاروں سے باہر نکلیں، سوال کو دشمن نہیں بلکہ علم کا دروازہ سمجھیں، تحقیق کو اپنا چراغ بنائیں اور خیرِ مطلق کی اس روشنی کی جستجو جاری رکھیں جہاں انسان صرف یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھنے لگتا ہے کہ اسے ایسا کیوں دکھائی دے رہا ہے۔