جنریشن ایکس: وہ نسل جسے کبھی بولنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔ درویش کریم، وادی ہنزہ
۔
میں سن ۱۹۶۹ میں پیدا ہوا ہوں، اور اس حساب سے میرا تعلق اُس نسل سے ہے، جسے دنیا بڑے فخر سے جنریشن ایکس کہتی ہے۔ جنریشن ایکس کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ کوئی ہمیں مضبوط کہتا ہے، کوئی برداشت کرنے والی نسل، کوئی کہتا ہے کہ ہم آخری نسل ہیں جس نے ٹیلی فون کی گھنٹی، خط، ریڈیو، کیسٹ، وی سی آر، کمپیوٹر اور موبائل سب کے ادوار دیکھے ہیں۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ بلکل درست ہیں، لیکن میری نظر میں ہماری نسل کے ساتھ ایک ایسا دکھ بھی جڑا ہوا ہے جس پر ابھی تک کوئی تحقیقی مقالہ شایدنہیں لکھا گیا ہے۔
ہمیں بچپن سے یہی سبق دیا گیا کہ
“خاموش رہو، بڑے بات کر رہے ہیں۔”
“تم ابھی بچے ہو، تمہیں کیا پتا”
“پہلے بڑے بولیں گے۔”
“زیادہ عقل مت جھاڑو۔”
“بڑوں کا سنو”
چنانچہ ہم نے ادب اور تہذیب کے مارے اپنی زبانوں پر قفل لگائے رکھی۔ اور جو بزرگوں نے کہا، مان لیا، جو فیصلہ کیا، تسلیم کر لیا، جو نصیحت کی، سر جھکا کر سن لی اور اس پر کاربند بھی رہے۔ الحمدللہ، ہم نے اس تربیت پر عمل بھی کیا اور خوب کیا۔
پھر وقت گزرا، بال سفید ہوئے، چشمے لگ گئے، گھٹنوں سے اور کمرسے آوازیں آنے لگیں، اور ایک دن اچانک پتا چلا کہ اب ہم خود بھی بزرگوں کی صف میں کھڑے ہو چکے ہیں۔
ہم نے سوچا کہ چلو، اب شاید ہماری باری آ گئی ہے۔ اب شاید کوئی کہے گا۔
“انکل جی، آپ کیا کہتے ہیں؟”
“سر، آپ کے تجربے سے رہنمائی چاہیے۔”
“آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے۔”
مگر ابھی ہم نے امید کا چراغ جلایا ہی تھا کہ دنیا نے ایک نیا اعلان کر دیا،
” جین زی کو سنو”
“ان کے جذبات کو سمجھیں”
“ان پر اپنی رائے مسلط نہ کریں”
“ان کی آواز کو اہمیت دیں”
اب ذرا ہماری حالت ملاحظہ فرمائیں۔
بچپن میں بڑوں کی بات سنتے رہے۔ اور اب بڑھاپے میں بچوں کی بات سن رہے ہیں۔
یعنی پوری زندگی ایک تابیدار سامع کے فرائض انجام دیتے رہے، مگر بولنے کا موقع کبھی ہمارے ہاتھ میں نہیں آیا۔ یعنی کبھی والدین کی سنو، کبھی استاد کی سنو، کبھی باس کی سنو، اور اب بچوں کی سنو۔
لگتا ہے قدرت نے جنریشن ایکس کو دنیا میں مستقلاً سننے کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔
بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر کل کوئی نئی جنریشن ڈبل اے یا ڈبل بی آ گئی تو ماہرین فوراً کہیں گے کہ
“براہِ کرم ان کی بھی بات سنیے”
اور ہم کہیں گے؛
“جی بالکل”
تو دوستو، میرا خیال ہے کہ جنریشن ایکس دنیا کی وہ واحد نسل ہے جس نے ساری زندگی دوسروں کو بولنے کا موقع دیا، لیکن اپنی باری کے انتظار میں ہی عمر گزار دی۔ البتہ اس سب کے باوجود ایک بات ضرور ہے۔ ہم نے بڑوں کا احترام بھی سیکھا، چھوٹوں کو سمجھنا بھی سیکھا، اور دو نسلوں کے درمیان وہ پل بن گئے جس پر سب آرام سے چلتے رہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ پل سے کبھی کسی نے نہیں پوچھا۔
“بھائی، تمہارا حال کیسا ہے؟”
میرے تمام جنریشن ایکس کے دوستوں سے سوال ہے، کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ ہم وہ نسل ہیں جو پوری زندگی “جی بہتر”، “جی ٹھیک ہے”، اور “جی آپ درست فرما رہے ہیں” کہتے کہتے یہاں تک پہنچ گئی؟
