چترال و گلگت بلتستان میں شہزادہ رحیم آغا خان کے پُروقار استقبال پر اسماعیلی برادری میں روحانی خوشی کی لہر ۔ تحریر: محمد اسحاق خان
۔
حاضر امام، عزت مآب شہزادہ رحیم آغا خان کے حالیہ دورۂ پاکستان نے خصوصاً چترال اور گلگت بلتستان کے اسماعیلی جماعت کے دلوں میں خوشی، امید اور روحانی جذبے کی ایک نئی اور بامعنی لہر پیدا کر دی۔ کئی برسوں کے طویل انتظار کے بعد حاضر امام کی اپنے مریدین سے ملاقات ایک تاریخی، یادگار اور روح پرور لمحہ ثابت ہوئی۔ اس پانچ روزہ دورے کے دوران حاضر امام نے اسلام آباد، گلگت بلتستان اور چترال کے مختلف علاقوں کا دورہ فرمایا، جہاں جماعتی اجتماعات، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
چترال اور گلگت بلتستان میں حاضر امام کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ چترال کے دور دراز علاقوں سے ہزاروں اسماعیلی افراد اپنے روحانی پیشوا کی زیارت اور دیدار کی سعادت حاصل کرنے کے لیے پرواک اور گرم چشمہ کی جانب رواں دواں تھے۔ عقیدت مند نہایت ادب، احترام اور بے پناہ محبت کے جذبات کے ساتھ اپنے امام کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہر جانب خوشی، عقیدت اور روحانی وابستگی کا ایسا دلکش اور پُرکیف ماحول تھا کہ نوجوان، بزرگ، خواتین اور بچے سب اپنے امام کی ایک جھلک کے لیے بے حد بے قرار نظر آئے۔
اپر چترال (پرواک) میں ہزاروں عقیدت مند اپنے روحانی پیشوا کے دیدار کے لیے جمع ہوئے۔ اس موقع پر حاضر امام نے اپر چترال (پرواک) میں دو مرتبہ اپنے مریدین کو خصوصی دیدار سے نوازا۔ عقیدت مند نہایت نظم و ضبط، احترام اور عقیدت کے ساتھ موجود تھے، جبکہ فضا روحانی خوشی اور مسرت سے معمور تھی۔
اسی طرح لوئر چترال (گرم چشمہ) میں بھی ا حاضر امام کا پرتپاک استقبال کیا۔ لوئر چترال (گرم چشمہ) میں حاضر امام نے اپنے مریدین سے خصوصی ملاقات فرمائی اور انہیں دیدار سے نوازا۔ دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے عقیدت مندوں نے اس لمحے کو اپنی زندگی کی عظیم سعادت قرار دیا۔
اس موقع پر حاضر امام نے اپنے فرامین میں اتحاد، محبت، بھائی چارے، تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم اور خدمتِ انسانیت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ علم حاصل کریں، محنت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔
اپنے خطابات میں انہوں نے فرمایا کہ زندگی آزمائشوں اور مشکلات کا نام ہے، مگر مضبوط ایمان، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ انسان کو ہر مشکل سے نکالنے کی طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے جماعت کو یہ بھی نصیحت کی کہ وہ علم کے حصول، کاروباری مہارتوں کے فروغ اور خدمتِ انسانیت کو اپنا شعار بنائیں تاکہ دنیا میں ایک باوقار اور مثبت شناخت قائم ہو سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی فرمایا کہ امام اور متعلقہ ادارے ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ترقی و فلاح کے سفر میں ان کی رہنمائی جاری رکھیں گے چترال ایئرپورٹ پر گورنر خیبر پختونخوا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، دیگر حکومتی نمائندوں، جماعتی رہنماؤں اور اہم شخصیات نے حاضر امام کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر عقیدت، احترام اور روحانی جذبات دیدنی تھے۔ مختصر ملاقات کے بعد حاضر امام کو پُرخلوص جذبات کے ساتھ رخصت کیا گیا۔
دورے کے دوران آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کو مزید وسعت دینے پر بھی گفتگو ہوئی۔ تعلیم، صحت، خواتین کی ترقی، نوجوانوں کی فلاح اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے حوالے سے مختلف امور زیرِ غور آئے۔
آخر میں اسماعیلی برادری کی جانب سے تمام سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ، رضاکاروں، اپر چترال (پرواک) اور لوئر چترال (گرم چشمہ) کی اسماعیلی و اہلِ سنت برادریوں، گلگت بلتستان کے عوام، اور تمام حکومتی نمائندوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اس تاریخی دورے کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دعا ہے کہ چترال میں اسماعیلی اور اہلِ سنت برادری کے درمیان امن، محبت اور بھائی چارہ اسی طرح ہمیشہ قائم رہے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔







