ثناء یوسف قتل کیس: عدالت نے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی،
۔
اسلام آباد (نمائندہ) معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف قتل کیس میں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے سنایا۔
عدالت نے ملزم پر جرمانہ بھی عائد کیا، جبکہ مختلف قانونی دفعات کے تحت اضافی قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ملزم کو ڈکیتی اور گھر میں داخل ہو کر جرم کرنے کی دفعات کے تحت بھی سزا دی گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر چوبیس لاکھ روپےجرمانہ بھی عائد کردی گئی ہے۔جبکہ دس دس سال قید کی الگ سزا دی گئی ہے۔
فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثناء یوسف کی والدہ نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے سے “بہت زیادہ مطمئن” ہیں۔ انہوں نے اس مشکل وقت میں وکلاء، دوستوں اور دیگر افراد کے تعاون کو بھی سراہا۔
کیس کی سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ سہ پہر 3 بجے سنانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے ملزم کو سزائے موت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے ثناء یوسف کے قتل کا نہ کوئی اعتراف کیا اور نہ ہی کوئی انکشاف کیا ہے۔ دورانِ سماعت عدالت میں ملزم کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس بھی پیش کیے گئے۔
واضح رہے کہ ثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں ان کے گھر میں قتل کیا گیا تھا۔ واقعے کے دو روز بعد پولیس نے ملزم عمر حیات کو فیصل آباد سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل اور مقتولہ کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران 25 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر مقدمے کی 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔ استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ شواہد، موبائل فرانزک، کال ریکارڈ اور دیگر ثبوت ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
یادرہے کہ ثنا یوسف کا تعلق چوئنچ مستوج اپر چترال سے تھی ، وہ سید یوسف حسن کی صاحبزادی تھیں۔
https://chitraltimes.com/sana-yusuf-upper-chitral-murdered-in-islamabad


