گلگت بلتستان کے انتخابات!- دھرتی بچائیں یا بیچ دیں؟ – اقبال عیسیٰ خان
.
گلگت بلتستان صرف ایک خطہ نہیں، ایک احساس ہے۔ یہ برف پوش پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں اور بہتے دریاؤں کی سرزمین ہونے کے ساتھ ساتھ غیرت، قربانی اور شناخت کی علامت بھی ہے۔ آج جب انتخابات کی دہلیز پر کھڑا یہ خطہ ایک نئے مستقبل کی طرف دیکھ رہا ہے، تو سوال صرف یہ نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون اس دھرتی کا محافظ بنے گا اور کون اسے مفادات کی منڈی میں بیچ دے گا؟
یہ انتخابات ایک سادہ سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک ٹیسٹ کیس ہیں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔ وہ نوجوان جو تعلیم یافتہ ہیں، باشعور ہیں، اور سوشل میڈیا کے دور میں دنیا کو سمجھتے ہیں۔ کیا وہ اپنی دھرتی کی اہمیت کو بھی اسی شدت سے سمجھتے ہیں؟ یا پھر وقتی نعروں، لسانی تقسیم اور ذاتی مفادات کے جال میں الجھ کر اپنے مستقبل کا سودا کر بیٹھیں گے؟
ایک دانشمند قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے فیصلے جذبات کے ساتھ ساتھ شعور سے بھی کرتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کے پاس آج ایک سنہری موقع ہے کہ وہ ایسے نمائندے منتخب کریں جو نہ صرف ان کے مسائل کو سمجھتے ہوں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی حکمتِ عملی بھی رکھتے ہوں۔ ایسے لیڈر جو ترقی کے نام پر وسائل کو بیچنے کے بجائے انہیں محفوظ رکھیں، جو باہر کے ایجنڈوں کے بجائے مقامی ضروریات کو ترجیح دیں، اور جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھیں۔
نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ووٹ صرف ایک حق نہیں، ایک امانت ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو یا تو علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے یا پھر اسے ایسے ہاتھوں میں دے سکتی ہے جو صرف اپنے مفادات کے اسیر ہوں۔ اگر آج کا نوجوان خاموش رہا، غیر سنجیدہ رہا یا وقتی لالچ میں آ گیا، تو کل تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔
یہ واضح ہے کہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں بیرونی قوتوں کی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے۔ یہ حالات مزید ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں۔ عوام کو اپنے فیصلے میں دوراندیشی دکھانی ہوگی، ایسے افراد کو آگے لانا ہوگا جو نہ صرف وفادار ہوں بلکہ بصیرت کے حامل بھی ہوں۔
میں یہ کہوں گا کہ قیادت صرف کرسی کا نام نہیں، یہ ایک عہد ہے، عوام کے ساتھ، زمین کے ساتھ، اور تاریخ کے ساتھ۔ وہی لوگ قیادت کے اہل ہیں جو اس عہد کی پاسداری کر سکیں۔
یہ وقت ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام، خاص طور پر نوجوان، اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔ یہ فیصلہ کریں کہ وہ اپنے علاقے کو ایک مضبوط، خودمختار اور باوقار خطہ بنانا چاہتے ہیں یا وقتی فائدوں کے لیے اسے دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔
یہ انتخابات صرف ووٹ کا معاملہ نہیں، وقار کا سوال ہے۔ شناخت کا سوال ہے۔ مستقبل کا سوال ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، تحفظ یا سودا؟
