پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر کے عوام کو مزید مشکلات میں نہ ڈالا جائے، وزیر اعلیٰ کا وفاق کو واضح مؤقف
.
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ایران جنگ کے باعث فیول سپلائی لائنز کی صورتحال کے حوالے سے حکومتی مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس سے براہ راست عوام متاثر ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ و پیٹرولیم کے ساتھ منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران کیا جس میں مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی کے باعث پٹرولیم کی سپلائی لائنز متاثر ہونے کے خدشات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کو وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ سپلائی بحران اور اس کے نتیجے میں قیمتوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر واضح کیا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشکل حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کریں نہ کہ بحران کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مناسب طرز حکمرانی نہیں کہ حکومتیں خود غیر ضروری اور فضول اخراجات جاری رکھیں اور جب بحران پیدا ہو تو اس کا بوجھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر عوام پر ڈال دیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کا حل یہ نہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ حکومتیں لگژری اخراجات میں کمی لائیں اور انہی وسائل کو عوام کو ریلیف دینے اور سبسڈی فراہم کرنے کے لیے استعمال کریں تاکہ مہنگائی کے ممکنہ اثرات سے عام آدمی کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ہر اس اقدام کی حمایت کرے گی جس کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور معاشی دباؤ کو کم کرنا ہو، تاہم ایسے کسی بھی اقدام یا تجویز کی حمایت نہیں کرے گی جو مہنگائی سے پسے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کا سبب بن سکتا ہو۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنی شاہ خرچیاں کم کر کے عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی بدولت ایوانوں میں بیٹھے ہیں اور عوام کے ٹیکس سے ہی حکومت اور ادارے چلتے ہیں، اس لیے عوام کو ریلیف کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔


