چترال کی پہچان، حیا، دین اور وقارہے، ناچ گانا نہیں! – تحریر: ابو سلمان
چترال وہ سرزمین ہے جس کی فضاؤں میں پاکیزگی کی مہک اور گھاٹیوں میں ایمان کی حلاوت بسی ہوئی ہے۔ یہاں کی پہچان نہ شور شرابہ ہے، نہ رنگین لہو و لعب؛ بلکہ دین داری، شرافت، مہمان نوازی، حیا اور عزت ہےوہ سرمایہ جس پر آج بھی اہل چترال فخر کرتے ہیں۔
صدیوں سے اس خطے کے گھروں میں قرآن کی تلاوت کی مٹھاس گونجتی رہی، درویش صفت بزرگوں کی دعائیں نسلوں کو گھیرے رکھتی رہیں، اور نوجوان اپنی پیشانیوں پر حیا کے اجالے سجائے بڑے ہوتے رہے۔ یہی وراثت چترال کی اصل شناخت ہے، یہی اس خطے کی حقیقی ثقافت۔
مگر افسوس کہ آج کچھ حلقے، چند مخصوص افراد ذاتی مفادات، وقتی نمود، اور شہرت کے لالچ میں اس مقدس شناخت کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’چترال کی ثقافت‘‘ کے نام پر ناچ گانے، مخلوط اجتماعات اور بے ہودہ سرگرمیوں کو فروغ دینا نہ صرف چترال کی تاریخ سے غداری ہے بلکہ اس کے دینی تشخص کو مسخ کرنے کی ایک خاموش سازش بھی محسوس ہوتی ہے۔
اسلام کا معیار: مسلمان کی ثقافت پاکیزہ ہوتی ہے
اسلامی نقطۂ نظر سے ناچ گانا کسی بھی صورت مسلمان کی ثقافت نہیں۔
یہ عمل:
دل کو زنگ آلود کرتا ہے،
نگاہوں سے حیا چھینتا ہے،
معاشرے کو بے مقصد تفریح میں مبتلا کرتا ہے،
اور سب سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پسندیدہ زندگی کے خلاف جاتا ہے۔
مسلمان کی ثقافت وہ ہے جو اخلاق کو بلند کرے، دل میں خشیت پیدا کرے، رویّوں کو سنوارے اور کردار کو مضبوط کرے۔ ناچ گانا ان اقدار کے سراسر متضاد ہے۔
چترال کی اصل شناخت کیا ہے؟
چترال کی شناخت وہ نہیں جو چند افراد اپنے مفاد کے لیے پیش کر رہے ہیں،
بلکہ وہ ہے جو ہماری تاریخ، ہماری تہذیب، اور ہمارے گھروں میں آج بھی زندہ ہے
دینی غیرت
پاکیزہ معاشرت
عائلی نظام کی مضبوطی
خواتین کا باحجاب وقار
نوجوانوں کی مہذب سمت
اخوت و محبت کی فضا
یہی چترال کا سرمایہ ہے، یہی ہماری پہچان، یہی ہمارے آباؤ اجداد کی وراثت۔
قومیں اپنی اقدار سے ہی زندہ رہتی ہیں
کسی معاشرے کی اصل تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنی تہذیب کو پسِ پشت ڈال کر بے مقصد رنگینیوں میں کھو جاتا ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا چند افراد کی خواہشات کے لیے چترال جیسی باوقار سرزمین کو غلط سمت میں دھکیل دینا نہایت غلط بات ہے؟
کیا چند لمحوں کی موسیقی کے بدلے ہم اپنی نسلوں کا اخلاقی مستقبل داؤ پر لگا دیں؟
کیا ہم اپنی بچیوں اور نوجوانوں کا وہ حیا بھرا چہرہ کھو دینا چاہتے ہیں جس پر ہمیشہ چترال فخر کرتا آیا ہے؟
یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں
< اہلِ قلم کو اپنی <تحریروں سے راہنمائی کرنی ہوگی،
معززینِ علاقہ کو آواز اٹھانی ہوگی،
والدین کو اپنے گھروں میں نگرانی بڑھانی ہوگی،
علماء اور سماجی رہنما کو مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا،
نوجوانوں کو اپنی تہذیب کا پرچم بلند رکھنا ہوگا۔
چند لوگوں کے غلط رویّے چترال کے مقدس تشخص کو بدل نہیں سکتے،
مگر ہماری خاموشی اسے نقصان پہنچا سکتی ہے۔
چترال کو ناچ گانے کی نہیں
بلکہ اس کے اصل اثاثے دین، حیا، سادگی، اخلاق اور وقار کی ضرورت ہے۔
یہی وہ اوصاف ہیں جو چترال کو باقی دنیا سے ممتاز کرتے ہیں۔
یہی وہ قدرے کی خوشبو ہے جو یہاں کے ہر باسی کے دل میں رچی بسی ہے۔
آئیے، ہم سب مل کر اپنی تہذیب، اپنے دین اور اپنی شناخت کی حفاظت کریں۔
کیونکہ جو قوم اپنی اقدار کھو دیتی ہے، وہ کچھ بھی نہیں بچاتی۔
