چترال کے ہمہ گیر اور ممتاز شخصیت امیر اللہ خان یفتالی (مرحوم ) کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے ہمہ گیر اور ممتاز شخصیت امیر اللہ خان یفتالی کے بارے میں تعزیتی ریفرنس ہفتے کےروز ولی ہاؤس دنین میں منعقد ہوا جس کا اہتمام معروف قانون دان عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ نے کیا تھا جبکہ پروفیسر اسرارالدین صدر مخفل تھے اور یفتالی کے بھائیوں میں سہروردی خان اور ولی محمد یفتالی مہمان خصوصی تھے۔
اس موقع پر مقررین نے یفتالی کی زندگی کی سیاسی، سماجی اورثقافتی شعبوں میں نمایان کارکردگی اور خدمات اور پولو کے کھیل کے فروع میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی جبکہ شعراء نے انہیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر خطاب کرنے والوں میں عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ کے علاوہ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، معروف دانشور علی اکبر قاضی، شہزادہ تنویر الملک، صاحب نادر ایڈوکیٹ، الحاج عیدا لحسین، خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان، سابق ایم پی اے سید سردار حسین، ظفراللہ پرواز، لیاقت علی خان، عنایت اللہ اسیر، محمد شفیع شفا، ظہیر الدین اور سہروردی خان شامل تھے۔
یفتالی کو منظوم خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں ذاکر محمد زخمی، انصارنعمانی، شفیع شفاء اور افضل اللہ افضل شامل رہے۔ مقررین نے یفتالی کی زندگی کی مختلف شعبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ تین بار مسلسل ضلع کونسل کا ممبر رہنے والا یفتالی بادشاہ گر مانے جاتے تھے جس نے اپنی سیاسی زندگی کا آعاز پاکستان تحریک استقلال سے کیا جو بعد میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرکے زندگی بھر اس کے ساتھ وفا نبھائی۔
انہوں نے یفتالی کی ثقافتی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے قائم کردہ کلچرل میوزیم اور لائبریری سمیت دوسرے کارناموں کا ذکر کیا اور کہاکہ انہیں یہ اوصاف ان کے والد گرامی بابائے لاسپور گل ولی خان یفتالی اور اور دادا لیفٹیننٹ ولائت خان سے ملی ہیں جوکہ اپنے زمانے میں اس علاقے کے ہیر و سمجھے جاتے تھے۔
انہوں نے پولو کے میدان میں یفتالی کو پولو کا ایک با صلاحیت کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہاکہ جشن شندور کا سلسلہ شروع کرنے میں بھی ان کی محنت کا عمل دخل شامل ہے۔ انہوں نے ان کی مہمان نوازی کے قصے بیان کئے جوکہ اپنی مثا ل آپ ہیں جبکہ ان کی خوش لباسی کا ذکر بھی تفصیل سے کیا گیا۔
انہوں نے امیر اللہ خان کے انتقال کو اپر اور لویر چترال کے لئے عظیم نقصان قرار دیا اور ان کے اہل خاندان پر زور دیاکہ وہ امیر اللہ خان یفتالی کے روایات کو برقرار رکھیں جس نے اپنی کردار کے ذریعے اپنے نام کو چترال کی تاریخ میں امر کردیا ہے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر اسرار الدین نے امیر اللہ خان یفتالی کے دادا لیفٹیننٹ ولائت خان کے ساتھ ملاقات اور انٹرویو کے بارے میں تفصیلات بیان کی اور ان کی دوراندیشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ تمام مقررین نے بہت ہی باریک بینی سے یفتالی کی زندگی کے مختلف شعبوں پر سیر حاصل بحث کرکے ان کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ یفتالی کے برادر خو د سہروری خان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ عبدالولی خان عابد کا ان کے خاندان کے ساتھ بہت ہی قریبی تعلق ہے جس نے یہ پروگرام منعقد کیا ہے۔
انہوں نے شرکاء کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ یفتالی کی legacyکو قائم رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ اجائے گا اور ان سے محبت کرنے والے اس خاندان کے ساتھ اپنے تعلق کو پہلے کی طرح قائم رکھیں۔ تمام مقرریں نے امیر اللہ یفتالی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے پر عبد الولی خان ایڈوکیٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے چترال کی ثقافت اور مہمان نوازی کو زندہ رکھنے میں ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر نورالہدیٰ یفتالی نے نظامت کے فرائض سرانجام دئیے جبکہ ارشاد یفتالی ودیگربھی موجود تھے۔







