The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال گرم چشمہ روڈ کے تعمیر کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن داخل 

Chitral Times

چترال گرم چشمہ روڈ کے تعمیر کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن داخل 

چترال گرم چشمہ روڈ کے تعمیر کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن داخل 

چترال گرم چشمہ روڈ کے تعمیر کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن داخل

پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال تا گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ چترال( گرمچشمہ دوراہ پاس روڈ 82.5 کلومیٹر) کو فیڈرل PSDP میں شامل کروانے کیلئے سابق صوبائی وزیر سلیم خان نے ایک رٹ پٹیشن پشاور ہائی کورٹ میں جمعہ کے روز ایڈوکیٹ شیر حیدر اور ایڈوکیٹ قاسم علی شاہ کے ذریعے داخل کردیا۔ اس رٹ یٹیشن میں فیڈریشن اف پاکستان کو بذریعہ وفاقی سکریٹری کمیونیکیشن و وفاقی سکیریٹری پلانگ کمیشن، چیرمین NHA، جنرل منیجر نارتھ NHA جیبرپختونخوا اور جنرل مینجرNHA (P&CA) کو فریق بنایا گیا ہے،

پٹیشنر سلیم خان نے اس عوامی اہمیت کے حامل کیس میں وفاقی اداروں کو فریق بنا کر ان سے بذریعہ معزز عدالت عالیہ وضاحت طلب کیا ہے کہ چترال گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ کو سال 2017 میں سالانہ ترقیاتی پرگرام میں شامل کرکے بذریعہ ٹینڈر ٹھیکہ دار کو ایوارڈ کیا گیا۔ بعد ازان کوئی معقول وجہ بتاۓ بیغر ایک سال بعد کروڑوں روپے ٹھیکدار اور کنسلٹینٹ کو ادائیگی کے بعد ADP سے نکالا گیا۔

اس کے بعد نسپاک کنسلٹنٹ کے ذریعے دوبارہ سروے اور اسٹیمیٹ تیار کرنے کے بعد پلانگ کمیشن نے اکنیک میں اس اہم پراجکٹ منظور کرنے کے بجائے اس کو دوبارہ ڈراپ کیا۔ اور کنسلٹنٹ کو پھر سے کروڑوں روپے کنسلٹینسی کیلے ادا کیا گیا۔ اخر مفت میں اتنے فنڈز ضائع کرنے کی ضرورت کیا تھی۔
پٹیشنر سلیم خان نے وقاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوۓ موقف اپنایا ہے۔ کہ اخر کار اس پسماندہ علاقے کے عوام کے ساتھ وفاقی ادارے ناانصافی اور ظلم کیوں کر کررہا ہے۔

کیا چترال کے عوام کو آئین پاکستان کے مطابق بہتر اور پختہ روڈ پر سفر کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اگر تمام پاکستانیوں کے حقوق برابر ہیں تو چترال کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک وفاق کیوں کر کررہا ہے

پٹیشنر سلیم خان نے وفاقی حکومتی اداروں سے یہ سوال بھی کیا ہے کہ اس پراجکٹ کو کب تک سالانہ ترقیاتی پرگرام میں شامل کیا جائیگا۔ اور وقاقی حکومت کب تک گرم چشمہ چترال کے عوام کو دوراہ پاس تک یہ روڈ پختہ کرکے دیگا۔
اس کیس کو رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ میں داخل کرتے وقت معروف ایڈوکیٹ محییب اللہ تریچوی، قاسم علی شاہ اور شیر حیدر بھی ہائی کورٹ میں موجود تھے۔

سلیم خان کے مطابق چترال-گرمچشمہ-دوراہ پاس روڈ (82.5 کلومیٹر) چترال لوئر کو وسطی ایشیا سے منسلک کرنے کی ایک واحد روٹ ہے، جو کہ حکومت نے ہمیشہ چترال کے علاقے میں انفراسٹرکچر کو نظر انداز کیا ہے جو کہ شہریوں کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے، کہ ہر شہری کو ملک بھر میں سفر کرنے کے لیے مناسب محفوظ راستہ فراہم کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور اس لیے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کہ وہ عوام کو سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی مناسب سہولیات فراہم کرے۔

اقتصادی طور پر، چترال گرم چشمہ- دوراہ پاس روڈ تجارت کے لئے نہ صرف پاکستان بلکہ بدخشاں، سمرقند اور دیگر ایشیائی شہروں کے تاجروں ایک شگون ہے اور اس علاقے میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پاس چترال میں معاشی تبادلے اور ثقافتی تعامل کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے لائف لائن کا کام کرے گا۔ یہ تجارتی راستہ خطوں کو جوڑنے اور سامان، آئیڈیاز اور ثقافتی طریقوں کے بہاؤ کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کریگا۔ اس راستے سے اشیاء اور علم کے تبادلے سے خطوں کی خوشحالی اور ثقافتی خوشحالی میں نمایاں مدد ملے گی۔

chitraltimes Saleem khan ex minister pettition phc against nha for gchashma road 2