Chitral Times

Sep 21, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دل تو پاگل ہے – تحریر: ظہیر الدین

Posted on
شیئر کریں:

دل تو پاگل ہے – تحریر: ظہیر الدین

برسوں پہلے لتا منگیشکر کی آواز میں گانا ‘دل تو پاگل ہے، دل دیوانہ ہے ‘ منظر عام پر آنے کے بعد شہرت کی بام عروج پر پہنچ گیا۔ سیما حیدر کی کہانی جب میڈیا پر چھاگئی تو اس گانے کے بول حقیقت کے روپ دھار تے ہوئے محسوس ہورہا ہے بلکہ لگتا ہی کچھ یوں ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والی اس جوان سال خاتون اس گانے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہی یہ انہونی سی قدم اٹھاکر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ ویسے تواپنے دیس میں ‘چھ بچوں کی ماں کا آشنا کے ساتھ فرار ہونا ‘کوئی انہونی بات نہیں۔ کسی بھی اردویا کوئی علاقائی زبان میں شائع ہونے والی کسی بھی دن کی اخبار کی باریک بینی سے چھان بین کریں تو اس نوعیت کی ایک آدھ خبر ضرور مل جائے گی۔ دل پھینک سیما نے غلام حیدر کے ساتھ شادی بھی والدین کی مرضی کے خلاف اور اپنے گھر کی دہلیز پار کرکے کیا تھا لیکن یہاں بات ہی کچھ اور ہے۔ سیما کا دل اس انڈین گانے کے پیمانے پر ‘پاگل پلس ‘ہے جوچارمرتبہ دل کی خاطر چار عدد دہلیزیں عبور کی یعنی پہلے والدین کے گھر کی اور پھر شوہر کے گھر کی۔ والدین کی دہلیز کو چھوڑنا تو ذیادہ عام سی بات ہے لیکن شوہر کو داغ مفارقت دینے والی دیوانہ اور پاگل دل رکھنے والی خواتین کی تعداد لاکھوں میں ایک ہی کوئی ہوسکتی ہے۔ دل کے ہاتھوں مجبور سیما نے اپنے ملک کی دہلیز کے ساتھ مذہب کی دہلیز بھی کراس کرگئی اور ان کی وجہ شہرت بھی یہی ہے۔

کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں جاسکتے اور سیماحیدر کی محبت کا اشکار ا اس وقت ہوا جب ان کے شوہر اور loveسچن مینا کا ایک پڑوسی وکیل نے عدالت سے اس شادی کے بارے میں تحریری شکایت کی اور 4جولائی کو پولیس نے تعزیزات ہند کے فارن ایکٹ سمیت دوسرے دفعات کے تحت انہیں اور اعانت جرم کے پاداش میں ان کے شوہر اور سسر کواترپردیش پولیس نے گرفتار کرلیا اور8جولائی کو ضمانت پر رہا کردئیے گئے۔

seema haider and husband

چمکدار سیاہ بال اور دل موہ لینے والی سیاہ آنکھوں کے ساتھ اپنی حسن سے اہل دلوں کا دل لبھانے والی 28سالہ سیما حیدر4جولائی کو اپنی گرفتاری کے بعد سے عالمی میڈیا کا مرکز بن گئی ہے اورتین ماہ کراچی کے ملیر میں ایک عام سی محلے میں رہنے والی ایک گمنام عورت دیکھتے ہی دیکھتے چہار دانگ عالم میں مشہورہوگئی اور اپنے 23سالہ شوہر کو بھی جوپیشہ کے لحاظ سے ڈرائیورہے، کو بھی شہرت سے ہمکنارکیا۔ 2014ء کو گھر سے بھاگ کرغلام حیدر سے اپنی پسندکی شادی کی۔ غلام حیدر نے دولت کے ذریعے سیما کو خوشیوں میں اضافہ کرنے کے لئے قربانی دی اور سعودی عرب میں کام شروع کیا اور سال میں دو بار گھر آتے رہتے اور عرصے میں ان کے چار بچے بھی ہوئے جن میں ایک بیٹا فرہان علی (8سال)، تین بیٹیاں فروا (6سال)، فریحہ بتول (4سال)اور فرہا بتول (ڈھائی سال) شامل ہیں۔

اپنے سپنوں کا راجہ سچن مینا سے ان کی برقی ملاقات 2019ء میں معروف ان لائن گیم پب جی کے battleground نامی ایک کھیل میں ہوئی جس میں وہ سپاہیوں اور اسلحہ وگولہ بارود سے کھیلنے اور حربی داؤپیچ ازمانے کی بجائے وہ نظروں کی جنگ لڑتے لڑتے ایک دوسرے کو گھائل کربیٹھے اور پہلے جان، پھر جان جان اور پھر جان جانان کا سلسلہ چل نکلا اور بالاخر ایک دوسرے کی ہستی کا سامان بھی بن گئے اور نتیجہ تومن شدی و من توشدم تک جاپہنچی۔ سعودی عرب سے ہر ماہ ریال کی بوچھاڑ جاری رہی اوروطن عزیز میں مہنگائی وگران اور بے روزگاری کی جانکاہ درد سے بے خبر سیما حیدر پب جی اور لمبی لمبی ویڈیو کال میں چار سال گزار دئیے اور وہ مرحلہ بھی آہی گیا جب ‘پاگل پلس ‘دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس سال مارچ میں اس نے نیپال کا سفرکرکے سچن کے ساتھ ایک مندر میں جاکر ہندوانہ طریقے سے شادی کی اور انڈیا کی 1940ء کے عشرے کی مشہور ومعروف اداکارہ نرگس کی یاد تازہ کی جوکہ اسی پاگل دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر دین اسلام کو ترک کرکے ہندو اداکار سنیل دت کے ساتھ 1958 ء میں شادی رچالی تھی جس کے ساتھ انہوں نے بڑے بڑے اردو اور ہندی فلموں میں ہیروئن کا کردار نبھاتے نبھاتے اسکرین کی دنیا میں دیکھے جانے والی مناظر کو حقیقت کا لباس پہنادیاجبکہ یہاں پر پب جی نے انگارے کا کام سرانجام دے دیا۔

حسن کی دیوی سیما اور اپنے چار پھول جیسے بچوں کی آرام و راحت اور مستقبل کو سنوارنے کے دھن کو ذہن پر سوار کرکے سعودی عرب میں محنت کی صغوبتیں جھیلنے والے بے چارا غلام حسین کو اپنی نصف بہتر کا سفر نیپال اور شادی پر شادی کا کانوں کان بھی خبر نہ ہوئی۔ وفا سے عاری اور موقع کی یاری پر یقین رکھنے والی سیما نے شادی کے موقع پر تخفہ میں ملنے والی پلاٹ کو 12لاکھ روپے میں فروخت کرکے چار بچوں کے ہمراہ کراچی سے کھٹمنڈو کی جہاز پکڑلی جہاں سے بس کے ذریعے اترپردیش اپنے پیاکے ہاں پہنچ گئی جہاں اس نے عالمی میڈیا کے ہاتھوں شہرت کا آب حیات نوش فرمائی۔ اب تک میڈیا کو ان کی طرف سے دی جانے والی انٹرویوز میں انہوں نے اپنے فیصلے پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس بات کا بار بار اعادہ کرتی رہتی ہے کہ اس نے اپنی منزل پالی ہے جس کے لئے اس نے گھر بار، اپنی محبت میں نیم پاگل شوہر، ملک اور یہاں تک مذہب بھی قربان کرڈالی۔ اگرچہ جفاکار بھارتی عوام نے اسے ذرہ برابر بھی قومی بہو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ گرداننے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن سیما اس کی پرزور تردید کرتی ہوئی اتنی رسوائی (یا شہرت) مول لینے کے پیچھے ‘دل تو پاگل ہے ‘کے فلسفے کو کارفرما محرک بتارہی ہیں۔ بیسویں صدی کا چترالی بزرگ شاعر نے بھی شائد سیماحیدر ہی کے لئے اپنی معروف لوک گیت میں کہا تھا کہ

پری افوتے بغائے ہاووچے غشوتے بغائے
مسلمانیو پے چھی، کافرو نسو تے بغائے
(خوشی ہے کہ پری اپنی عیش وعشرت کے لئے دوسری شہر منتقل ہوگئی لیکن اس میں رونے والی بات یہ ہے کہ وہ مسلمانی ترک کرکے ایک کافر کے پاس چلی گئی)


شیئر کریں: