Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حضورِ اقدس اکی پسندیدہ اشیائے خورد و نوش….. تحریر: مفتی محمد وقاص رفیعؔ

Posted on
شیئر کریں:

حضرت ابو عبیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہانڈی پکائی ، چوں کہ آقائے نامدار علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ’’دستی‘‘ کا گوشت بہت ز یادہ پسند تھا ، اس لئے میں نے ایک ’’ دستی ‘‘پیش کی ، پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری طلب فرمائی ، میں نے دوسری پیش کردی ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اور طلب فرمائی ، میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بکری کی دو ہی’’ دستیاں‘‘ ہوتی ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم چپ رہتے تو میں جب تک مانگتا رہتا اس دیگچی سے دستیاں نکلتی رہتیں ۔‘‘ (شمائل ترمذی)

 

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ’’ گوشت‘‘ (Meat) آیا ، اس میں سے’’ دستی‘‘ کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو’’ دستی‘‘ کا گوشت بہت مرغوب تھا ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا۔ایک اور حدیث میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ: ’’ گوشت کو دانتوں سے کاٹ کر کھایا کروکہ اس سے ہضم بھی خوب ہوتا ہے اور بدن کو بھی زیادہ موافق آتا ہے۔

 

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پہلو کا بھنا ہوا گوشت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پیش کیا ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا ۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھنا ہوا گوشت مسجد میں کھایا۔

 

گوشت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’ گوشت‘‘ اہل دنیا و اہل جنت کی سب غذاؤں کا سردارہے ۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’ پشت کا گوشت عمدہ گوشت ہوتا ہے۔ ( ابن ماجہ)

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرتبہ دعوت کی ، میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا ، اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں’’ جو‘‘(Barley) کی روٹی اور’’ کدو گوشت ‘‘کا شوربہ پیش کیا ، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پلیٹ کے سب اطراف سے’’ کدو‘‘(White gourd) کے ٹکڑے تلاش فرماکر نوش فرمارہے تھے ، چنانچہ اس وقت سے مجھے بھی’’ کدو‘‘ مرغوب ہوگیا ۔

 

حضرت جابر بن طارق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ’’کدو ‘‘کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے جارہے تھے ، میں نے عرض کیا : ’’ اس کا کیا بنے گا ( یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ’’ اس سے سالن میں اضافہ کیا جائے گا۔‘‘

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’کدو ‘‘ (بہت زیادہ) مرغوب تھا ۔ ( چنانچہ) ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آیا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعوت میں تشریف لے گئے (راوی کو اس میں شک ہے) جس میں کدو تھا ، چوں کہ مجھے معلوم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مرغوب ہے اس لئے اس کے قتلے ( ٹکڑے) ڈھونڈ کر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کردیتا تھا۔(شمائل ترمذی)

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ : ’’سرکہ‘‘ (Vinegar)بھی کیا ہی اچھا سالن ہے۔( مسلم)نیز مرفوعاً مروی ہے کہ : ’’اے اللہ! ’’سرکہ‘‘ میں برکت ڈال کہ وہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن تھا۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ : ’’جس گھر میں ’’سرکہ‘‘ ہو وہ گھر محتاج نہیں ہے۔‘‘(طب نبوی علامہ ذہبیؒ )

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’ثرید‘‘ (یعنی شوربے میں توڑی ہوئی روٹی ) بہت زیادہ پسند تھی (سنن ابو داؤد) اسے آپ تمام کھانوں پر فضیلت دیتے تھے ۔ چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے کہ ’’ ثرید‘‘ کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے ۔ ( بخاری و مسلم)
حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ’’ زیتون‘‘ کا تیل(Olive oil) کھانے میں بھی استعمال کرو اور مالش میں بھی ، اس لئے کہ یہ ایک بابرکت درخت کا تیل ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ’’ زیتون‘‘ کا تیل کھاؤ اور مالش میں استعمال کرو ، اس لئے کہ وہ مبارک درخت سے پیدا ہوتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم’’ ککڑی‘‘(ترsnake cucumber,) تازہ پکی ہوئی کھجوروں کے ساتھ تناول فرمارہے تھے ۔ (بخاری و مسلم)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ’’تربوز‘‘ کو تازہ کھجوروں کے ساتھ نوش فرماتے تھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’خربوزہ‘‘ اور’’ کھجور‘‘ اکٹھے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔(شمائل ترمذی)

 

حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز سے پہلے تر کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے ، اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے افطار فرما لیتے تھے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں تو پھر پانی سے روزہ افطار فرمالیا کرتے تھے۔( ابو داؤد)
ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو ایک ’’ سیب‘‘ (Apple)عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ: ’’ یہ قلب کو تقویت دیتا ہے ، طبیعت کو خوش کرتا ہے اور سینہ کی کرب کو دور کرتا ہے۔‘‘( نسائی)

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ کو پینے کی سب چیزوں میں میٹھی اور ٹھنڈی چیز مرغوب تھی۔بظاہر تو اس حدیث سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی مراد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے شہد کا شربت اور کھجوروں کا نبیذ مراد ہو ۔( خصائل نبوی ترجمہ شمائل ترمذی)

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دونوں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ(اپنی خالہ) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ایک برتن میں دودھ (milk)لے کر آئیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے نوش فرمایا ، میں دائیں جانب تھا اور حضرت خالد بن ولید بائیں جانب ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اب پینے کا حق تمہارا ہے ( کہ تم دائیں جانب ہو) اگر تم اپنی خوشی سے حضرت خالد بن ولید کو ترجیح دینا چاہو تو دے سکتے ہو ، میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوٹے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا ۔حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کی بہت تعریف فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ دودھ کے علاوہ مجھے کوئی ایسی چیز معلوم نہیں جو کھانے اور پینے دونوں کی طرف سے کافی ہوجائے ۔(ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ) ایک روایت میں آتاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’گائے کا دودھ شفاء ہے اور اس کا گھی دوا ہے۔‘‘(طب نبوی للذہبی)

 

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’پنیر‘‘ کا ٹکڑا نوش فرماتے دیکھا ہے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ تبوک کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر لایا گیا آپ نے چاقو منگوایا اور بسم اللہ الخ کہہ کر اس کا ٹکڑا کاٹا ۔ ( ابو داؤد)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ’’کھجور‘‘ اور ’’ستو‘‘ سے فرمایا تھا ۔ایک روایت میں’’ حیس‘‘ نامی حلوہ کا ذکر آیا ہے جب کہ ایک دوسری روایت میں ’’پنیر‘‘ کا نام آیا ہے۔(خصائل نبوی )حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’حلوہ‘‘(Sweetmeat) اور ’’شہد‘‘ (Honey)پسند فرماتے تھے۔ ‘‘ (بخاری)ایک روایت میں آیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ : ’’تم پر لازم ہے کہ دو شفاء دینے والی چیزوں کو استعمال کرو ایک ’’شہد‘‘ اور دوسرا ’’قرآن۔‘‘ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ : ’’اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی چیز میں خیر ہوتی تو’’سینگی‘‘ لگوانے اور ’’شہد‘‘ پینے میں ہوتی۔‘‘ (بخاری ومسلم) ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’مکھن‘‘(Butter) اور’’چھوہارہ‘‘ (Kate) مرغوب تھا ۔ایک اور جگہ مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انگور(Grape) اور تربوز (Water melon)پسند تھے۔(طب نبوی علامہ ذہبیؒ )
صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’کلونجی‘‘ کا استعمال کیا کروکہ اس میں سوائے موت کے باقی تمام بیماریوں سے شفاء ہے۔‘‘ایک مرتبہ شاہِ روم نے زنجبیل (ادرک ، سونٹھSinger,) کا ایک بھرا ہوا گھڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیۃً بھیجا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ایک ایک ٹکڑا سب کو کھانے کے لئے عطاء فرمایا۔( طب نبوی علامہ ذہبیؒ ؒ )حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ’’بہی‘ ‘ (Quince) کا ایک دانہ عنایت فرمایاا ورارشاد فرمایا کہ : ’’اسے لے لو ! کیوں کہ یہ دل کو راحت پہنچاتا ہے۔‘‘(ابن ماجہ)

M.waqqasrafi1986@gmail.com


شیئر کریں: