Chitral Times

Dec 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

استاد جی عبداللطیف معتصم کی گلگت آمد –  خاطرات :امیرجان حقانی

شیئر کریں:

استاد جی عبداللطیف معتصم کی گلگت آمد –  خاطرات :امیرجان حقانی

استاد محترم مفتی عبداللطیف معتصم  صاحب اپنے رفقاء سمیت گلگت تشریف لائے. جامعہ فاروقیہ کراچی فیز 2 کے استاد  مفتی عمرفاروق صاحب اور استاد جی معتصم صاحب کے ساتھ تین رفقاء اور تھے.
وہ گلگت بلتستان کے حسین و جمیل مناظر، بہتے آبشار، رواں دریا، کالے کالے پہاڑ، برف میں لپٹی چوٹیاں، میٹھے پانیوں کے سرزمین ، خوبصورت اور مہمان نواز لوگ اور  بلندیوں پر پھیلے قدرت کی رعنائیوں کا نظارہ کرتے ہوئے 17 نومبر 2022 بروز جمعرات کو، رات 9 بجے میرے پاس پڑی بنگلہ پہنچے. رات کا قیام یہی تھا.
اگلے دن جامعہ فاروقیہ کے اساتذۂ کرام نے مرکزی جامع مسجد گلگت میں جمعہ پڑھانا تھا. مفتی عمرفاروق صاحب نے مختصر تقریر کی اور مفتی عبداللطیف معتصم نے اردو میں بھی تقریر کی لیکن فی البدیہہ عربی زبان میں ایک شاندار و مفصل خطبہ دیا. مفتی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان و بیان پر عبور عطا فرمایا ہے.
استاد جی کو اللہ نے فارسی، اردو اور عربی تینوں زبانوں میں ملکہ عطا فرمایا ہے. کئی اردو کتب کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا ہے. استاد جی کمال کے خطاط بھی ہیں. راقم نے ان سے معلم الانشاء(عربی تحریر کی مشق و گرائمر) کنزالدقائق(فقہ اسلامی) اور حسامی(اصول فقہ) پڑھی ہے. ساتھ ساتھ اردو (نوری نستعلیق) اور عربی(خطہ رقہ) سیکھا ہے.
استاد جی معتصم صاحب کے ساتھ زمانہ طالب علمی سے ایک دلی تعلق ہے.یوں کہیں بے تکلفی ہے. یہ تعلق17 سال سے مسلسل بڑھتا جاتا ہے اور استاد جی کی محبتوں میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے. استاد جی اپنے جملہ طلبہ سے محبت کرتے ہیں. انتہائی خوش اخلاقی سے ملتے ہیں اور اپنے تلامذہ کو اپنے “ساتھی” کہتے ہیں، اور پرانے تلامذہ کو “ہمارے پرانے ساتھی” کہہ کر تعارف کرواتے ہیں. یہ ان کی عظمت اور ذرہ نوازی ہوتی ہے. ورنا تو مجھ جیسے استادوں کو استاد ہونے کا “ہیضہ” چڑھا ہوتا ہے. کہیں کوئی شاگرد دیکھ لیا تو ہر ایک کو بتاتے پھرتے ہیں کہ وہ میرا شاگرد ہے.اور کہیں اتفاق سے کوئی شاگرد کوئی اچھی پوسٹ پر ہو، یا کوئی ترقی حاصل کرے یا نامور بن جائے تو موقع بے موقع ہر ایک کو بتاتے ہوئے اتراتے رہتے ہیں اور  مجھ جیسے کچھ ناہنجار استادوں کو تو ہر جگہ شاگردوں پر بھرم جمائے رکھنے کا “کرونا” بھی ہوجاتا ہے. اور آپ سب جانتے ہیں کہ “ہیضہ” ہو یا “کرونا” دونوں صحت کے لیے مضر اور نقصان دہ ہیں . لیکن قربان جاؤں استاد عبداللطیف معتصم صاحب پر، مجھ جیسے علم و عمل سے بے بہرہ انسان کو بھی مولانا سے پکارتے ہیں، اگرچہ اپنی بے بضاعتی، بے عملی اور کم مائیگی کی وجہ سے جب استاد جی مولانا کہتے ہیں تو شرمندگی سی محسوس ہوتی کہ کہاں مولانا جیسا عظیم ٹائٹل اور کہاں یہ ناہنجار.
کہاں میں اور کہاں یہ نکہت گل
نسیم صبح یہ تیری مہربانی ہے
استاد جی کو  اپنے استاد ہونے کا گھمنڈ نہیں رہتا مگر ان کے تلامذہ انہی پر ہمہ وقت دل و جان نچھاور کررہے ہوتے ہیں. استاد جی افغانستان اور پاکستان میں جہاں بھی تشریف لے جاتے ہیں تو ان کے تلامذہ انہیں یوں ویلکم کہتے ہیں.
 چشم ما روشن دل ما شاد
 استاد جی اور ان کے رفقاء کا، گلگت بلتستان کا تین روزہ مختصر دورہ تھا. پہنچنے سے قبل کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھا مگر استاد جی جیسے ہی میرے پاس پہنچے تو احباب کو اطلاع عام کیا کہ جس نے ملاقات کرنی ہے کرلیں. جس نے جمعہ میں بیان سننا ہے سن لیں. یہاں کے فضلاء فاروقیہ اور امیر اہل سنت و الجماعت و کوہستان حضرت مولانا قاضی نثار احمد صاحب اور ان کے رفقاء نے فاروقیہ کے اساتذہ کو خوش آمدید کہا. نماز جمعہ کے بعد قاضی صاحب کے ہاں مدرسہ نصرۃ الاسلام میں فاروقیہ کے اساتذہ کرام کے اعزاز میں خصوصی دعوت طعام تھی. قاضی صاحب کی دعوتیں محدود نہیں ہوتی. ان کا دسترخوان بڑا وسیع ہوتا ہے. ہر ایک کو بڑی محبت سے کھلاتے ہیں.وہ کھلا کر خوش ہوتے ہیں. سالن تک مہمان کی پلیٹ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں. بار بار  سالن کا ڈونگہ مہمانوں کے آگے کرتے رہتے ہیں. یہ خاصہ صرف اور صرف قاضی نثار احمد صاحب کو حاصل ہے. ہم بھی اپنی مسجد میں جمعہ پڑھا کر پہنچ گئے. شہر کے بہت سارے علماء موجود تھے. قاضی صاحب کی چاہت پر آئندہ کا قیام جامعہ نصرۃ الاسلام میں رکھا گیا. ورنا ناچیز کا خیال یہی تھا کہ دن بھر گھومنے کے بعد رات کا قیام غریب خانے میں ہو. فضلاء فاروقیہ اور دیگر علماء و احباب، اساتذہ سے ملتے رہے، ضیافتوں کا اہتمام کیا.
جمعہ کے دن گلگت شہر کی معروف پکنک پوائنٹ گارہ لے جایا گیا. کارگاہ بدھ پر اساتذہ کرام اور مہمانوں کو تفصیلی بریفنگ دی. ہفتہ کے دن میرا، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں IBA اور میزان بینک کے اشتراک سے اسلامک فائنانس پر ایک سیشن تھا اس لیے اساتذہ کو کمپنی دینے سے قاصر رہا تاہم جامعہ نصرۃ الاسلام کے احباب بالخصوص مولانا حبیب اللہ دیدار، اساتذہ اور مہمانوں کو ہنزہ لے گئے.ان کی معیت میں دیگر احباب بھی تھے. ہنزہ کی یخ ہواؤں اور برف سے اساتذہ کرام خوب محظوظ ہوئے. عطاء آباد جھیل میں اٹھکھیلیاں کی اور فطرت کی حسین تخلیق سے لطف اندوز ہوئے. ہمارا خیال تھا  اگلے دن ان کا غذر کا سفر بھی ہو مگر کچھ لازمی امور کی وجہ سے انہیں آج اتوار کو ہر حال میں واپس جانا ہے.یوں استاد جی اور ان کے رفقاء کو پڑی بنگلہ سے الوداع کہا.
راقم نے گلگت بلتستان کی روایت کے مطابق اساتذہ اور مہمانوں کو  مور کے تاج(شانٹی) کے ساتھ روایتی ٹوپی اور شال پہنایا. ہمیں زیادہ خدمت کا موقع نہیں ملا. اگلی دفعہ ان شا اللہ.
پڑی بنگلہ میں راقم نے گھر، مسجد اور تعلیمی ادارہ کا کام شروع کیا ہے. اساتذہ نے وہاں کام تفصیل سے دیکھا. اور وہی تعمیراتی کام پر کھڑے ہوکر استاد جی نے دعا کروائی اور خوب سراہا. یقیناً ہم طلبہ کے لیے اکابر و اساتذۂ کی دعائیں، حوصلہ افزائی اور دل لگی بڑی تقویت کا باعث ہوتی ہیں. ہمیں ایک حوصلہ ملتا ہے. پھر سے ایک طویل عرصہ تک کے لیے سماجی وعلمی خدمات کے لئے چارج ہوتے ہیں. میرا معمول ہے، جب بھی علمی کاموں میں چارجنگ کم ہو تو اساتذہ اور بزرگوں سے رابطے بڑھاتا اور دعائیں لیتا.یوں پھر سے چارج ہوتا اور علمی سے و سماجی سلسلے شروع ہوجاتے ہیں. اس میں بڑی برکتیں ہوتی ہیں.
بہر حال بہت سارے احباب نے اساتذہ کرام کی ضیافتیں کرنی تھی.مگر قلت وقت کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا. یار زندہ صحبت باقی

شیئر کریں: