Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیلابی صورت حال – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

سیلابی صورت حال – محمد شریف شکیب

مون سون بارشوں کی حالیہ لہر نے خیبر پختونخواکے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی ہے صوبے کا دور افتادہ اور پسماندہ ضلع چترال سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔گلیشئیر پھٹنے اور طوفانی بارش سے اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی، چرون، جنالی کوچ، تریچ، لاسپور اور وادی یارخون میں درجنوں رابطہ سڑکیں، پل، پشتے، رہائشی مکانات، دکانیں، سکول، بجلی گھر، آبپاشی کی نہریں، پائپ لائنیں، تیار فصلیں اور پھلدار درختوں کے باغات تباہ ہو گئے۔ لوئر چترال کے علاقوں دنیں، شالی، کریم آباد گرم چشمہ، بکر آباد، بمبوریت اور عشریت میں بھی سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

 

لواری ٹنل کے قریب براڈم کے مقام پر سیلاب آنے سے چترال ملک کے دیگر حصوں سے کٹ گیا ہے جبکہ تحصیل گرم چشمہ کی سڑک شالی اور اپر چترال کا زمینی رابطہ ریشن کے مقام پر پھر بند ہو چکا ہے۔دریا کے کٹائو کی وجہ سے ریشن میں دو درجن رہائشی مکانات، فصلوں سمیت سینکڑوں ایکڑ زرخیز اراضی اور باغات دریا برد ہوچکے ہیں شادیر کے مقام پر متاثرین نے اپنے مکانات گرا کر، پھلدار درخت اور فصلیں کٹوا کر عارضی طور پر کچی سڑک بنوا کر راستہ کھول دیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ، این ایچ اے حکام، اور سیاسی رہنمائوں نے متاثرین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایک ہفتے کے اندر تمام متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا اور دریا کے کنارے پشتے تعمیر کرنے کا کام شروع کیا جائے گا مگر حسب سابق یہ وعدہ بھی ایفا نہ ہوسکا۔

 

وزیر اعلی نے سیلاب اور بارشوں کے متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنے، رابطہ سڑکیں کھولنے اور مزید بارشوں کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔تاہم نچلی سطح پر سرکاری اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کے احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور متاثرین بے یارومددگار پڑے رہتے ہیں۔زمینی راستے منقطع ہونے کی وجہ سے سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور موسمی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے۔صوبائی حکومت کو صورتحال کا خود نوٹس لے کر متاثرین کی داد رسی کرنی چاہئے بصورت دیگر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔


شیئر کریں: