Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انتظامیہ گبور میں 1975 کے نوٹیفکیشن پر عمل کروا کر غیر مقامی چرواہوں کو نکال دیں ۔فضل مولاپریس کانفرنس 

Posted on
شیئر کریں:

انتظامیہ گبور میں 1975 کے نوٹیفکیشن پر عمل کروا کر غیر مقامی چرواہوں کو نکال دیں ۔فضل مولاپریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) گرم چشمہ گبور کے رھایشی فضل مولا نے منگل کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرم چشمہ گبور سے ہی تعلق رکھنے والا محمد حسین اینڈ کمپنی علاقے میں دادا گیری کے زریعے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ 1975 کے نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری چراگاہ سے اس علاقے کے مقامی لوگ استفادہ کر سکتے ہیں لیکن موصوف ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کو مس گائڈ کرکے ایک قرارداد کے ذریعے مقامی لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے علاقے کے عوام نے یہ بات ڈی سی کے نوٹس میں بھی لا چکے ھیں۔ لیکن اس شخص نے گبور سے باہر کے چرواہوں کے تقریباً آٹھ ہزار بکریوں کو لا کر ھمارے چراگاہوں پر چرا رہا ہے اور ایک بکری پر 6 سو روپے بھتہ لے رہا ہے فضل مولا نے کہا کہ اس شخص کی اس بدمعاشی سے علاقے کے لوگوں کو اپنے اپنے بکریاں چرانے کاجگہ ختم ھو گیا ہے انہوں نے ڈپٹی کمشنر اسسٹنٹ کمشنر سنیر سول جج سیشن جج سے1975 کے نوٹیفکیشن پر عمل کروا کر اس شخص کو بھتہ خوری سے باز رکھ کر مزکورہ علاقے سے باہر کے چرواہوں کو نکال دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ورنہ علاقے میں مقامی اور غیر مقامی چرواہوں میں تصادم کا خطرہ ہے۔

انھوں نے مذید کہاکہ محمد حسین نے ایک قرار داد میں ہمیں حاجی فیاض کا کارندہ کہاہے جبکہ حاجی فیاض کے محمد حسین کے خاندان پر بہت احسانات ہیں مگر وہ ان کی شکرگزاری کے بجائے حاجی فیاض کے خلا ف اپنی پوری قوم کو جمع کرکے دشمنی پر تلی ہوئی ہے ۔ انکی جائداد پر ناجائز قبضہ کررہا ہے اور جھوٹا ایف آئی ار بھی ان کے خلاف درج کروایا ہے ۔

انھوں نے مذید بتایا کہ حاجی فیاض اتالیق حیدرعلی شاہ سے گبور میں زمین خریدی ہے جوکہ چار سال تک حاجی فیاض کے قبضے میں تھی۔ چار سال بعد مذکورہ شخص نے مقامی مزارعین کو اکساکر حاجی فیاض اور اتالیق کے خلاف کیا۔ اور خود مقامی لوگوں کی سرپرستی کرکے ان لوگوں کے خلاف کئی پریس کانفرنس بھی کیا۔

 

فضل مولا نے مذید بتایا کہ اس شخص کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے حیدر علی شاہ اور استاد رحمت اللہ کے درمیان تنازعات کھڑے ہوئے ، اور سول و فوجداری مقدمات بنے۔ اسی طرح مذکورہ شخص گبور میں کئی اور لوگوں کے درمیان فسادات پیدا کرکے کئی اور مقدمات بنوائے۔ انھوں نے مذید بتایا کہ اس شخص کی شرارت کی وجہ سے گبور میں چار سو کنال سے زائد زمینات پر مقدمہ ہوکر عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اور کئی چراگاہیں زیر مقدمہ ہوکر زیر سماعت ہیں۔ اور اس کا روز گار ان مقدمات میں کسی ایک فریق کا مختار بن کر چندہ جمع کرنا سے ہوتا ہے۔

 

انھوں نے مذید کہا کہ مذکورہ شخص دھوکہ دہی کے زریعے گزشتہ سال بھی چراگاہ زیرک گول میں بیرونی مال لانے کیلیے این او سی حاصل کیا تھاجو ہماری مخالفت پر انتظامیہ نے کینسل کردیا ۔ جبکہ اس شخص نے گوجر برادری کے زریعے سینیر سول جج میں حکم امتناعی لیا اور یہ چالیس لوگوں کا مختار بنا ہوا ہے۔

 

فضل مولا نے مذید بتایا کہ کہ اس سال بھی گبورمیں بیرونی مال مویشی والوں کی این او سی کے ہم مخالف ہیں مگر یہ شخص پھر سے چالیس بندوں کا مختار بنا ہوا ہے۔ اور ڈی سی کو مس گائیڈ کرکے این او سی حاصل کیا ہے۔ جوکہ 1975نوٹفیکشن کے منافی اور خلاف قانون ہے۔ اور ہم اس بابت ڈی سی سے درخواستی ہیں کہ ڈی سی بیرونی مال مویشی لانے اور وہاں چرانے کی حکم دینے کی اختیار اگر رکھتے ہیں تو چترال کے جنگلاتی ایریا سے رائیلٹی میں ہمارے حصہ کو الگ کرکے ہمیں دیا جائے۔

 

فضل مولا نے ڈپٹی کمشنر ، اے سی ، سینئر سول جج اور سیشن جج چترال سے اپیل کی ہے کہ وہ 1975نوٹفیکشن کے اصل حقیقت کے مطابق فیصلہ کرکے خلاف قانون جانے والوں کے خلاف حسب ضابطہ کارائی کریں۔ ورنہ انصاف ملنا اور امن قائم کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔

fazal moula press confrence chitral chitraltimes


شیئر کریں: