Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کم عمری میں شادیوں کا مسئلہ ۔ محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

کم عمری میں شادیوں کا مسئلہ۔محمد شریف شکیب

نئی تحقیق کے مطابق لڑکیوں کی بچپن میں شادیوں کی روک تھام کے لئے تعلیم سب سے اہم ذریعہ ہے۔ لڑکی اگر تعلیم حاصل کررہی ہو تو والدین بھی تعلیم پوری کئے بغیر ان کی شادی کرکے اپنی سرمایہ کاری کو غارت نہیں کرنا چاہیں گے۔اور لڑکیاں خود بھی ڈگری لئے بغیر شادی پر تیار نہیں ہوں گی۔ پشاور پریس کلب میں بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے سیمینار سے خطاب میں ماہرین تعلیم، خواتین ارکان اسمبلی اور حقوق نسواں کمیشن کے نمائندوں کا موقف تھا کہ بچپن کی شادیوں کے لڑکیوں کی تعلیم اور صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بچپن کی شادیوں پر قابو پانے کے لیے تعلیم کی سہولیات کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ لڑکیاں تعلیم یافتہ ہونگی تو سماجی، سیاسی اور معاشی طور پرقومی دھارے کا حصہ بن سکیں گی

روزگار حاصل کرکے اپنے خاندان کی کفالت کریں گی ماہرین کا کہنا تھابچپن کی شادیاں نہ صرف بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے مضر ہیں بلکہ معاشرے پر بھی نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں سکول جانے کی عمر میں شادیاں ہونے کے بعد بیشتر لڑکیاں دوبارہ تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں۔ خیبر پختونخوا میں بچپن کی شادیوں پر پابندی کا قانون گذشتہ کئی سالوں سے التوا میں پڑا ہوا ہے۔مجوزہ قانون میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے شادی کی عمر کو 18 سال مقرر کرنے کی تجویز ہے۔کم عمری میں بچوں کی شادی کرانے والے والدین کے لئے بھی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔کچھ عرصہ قبل وفاقی شرعی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ بچپن کی شادی پر پابندی اسلام سے متصادم نہیں لہٰذا اس پر پابندی لگا دینی چاہیے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اپنی تجاویز میں شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی دونوں کے شناختی کارڈ کا ہونا لازمی قرار دے دیاتھا۔ہمارے معاشرے خصوصاً دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادیوں کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔بعض علاقوں میں انہیں روایات کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ غگ کا رواج صوبے کے اکثر علاقوں میں رائج ہے جس کے تحت لڑکی کے گھر کے باہر آواز لگائی جاتی ہے کہ اس گھر میں فلاں نام کی لڑکی ہماری ہوگئی۔اگر لڑکی کے والدین نے انکار کریں تو دشمنی مول لینے کے مترادف ہے۔یہ دشمنی کئی جانیں بھی لے سکتی ہے۔ زندگی بھر اس لڑکی کا کہیں اور رشتہ نہیں کیاجاسکتا۔یہ غگ والوں کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ لڑکی کے لئے کس کا رشتہ اور کب لے کر آتے ہیں۔کچھ علاقوں میں دشمنیاں ختم کرنے کے لئے کم عمر بچیوں کی مخالف فریق کے عمر رسیدہ افراد سے بیاہ کرائی جاتی ہے۔

قرآن سے شادی، وٹہ سٹہ اور کاروکاری کی بدعتیں بھی ہمارے معاشرے میں رائج ہیں بعض علاقوں میں ان رسومات اور روایات کو جرگوں اور پنچائتوں کی تائیدوحمایت بھی حاصل ہے۔ غیر اسلامی اور غیر اخلاقی رسومات پر پابندی کا قانون بناکر ہی ان خرابیوں کو دور کیاجاسکتا ہے۔ماہرین کی یہ تجویز بھی وزن رکھتی ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کئے جائیں تو وہ اپنے نقصان اور فائدے کا فرق جان سکتی ہیں۔کم عمری میں شادی کرنے والی پچاس فیصد لڑکیاں مختلف مسائل سے دوچار ہوتی ہیں زچگی کے دوران ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور بعض معصوم بچیاں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔کم عمری میں بچہ پیدا کرنے والی لڑکیاں بھی معاشرتی، خاندانی اور مالی مسائل کی وجہ سے ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہیں۔یہ ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے جس پر قانون سازوں، دانشوروں، اہل علم، علمائے کرام اور رائے عامہ ہموار کرنے والوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور اس کے لئے ٹھوس اور جامع لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔

 


شیئر کریں: