Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ انتخابات کا بجٹ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ انتخا بات کا بجٹ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خبروں کے مطا بق الیکشن کمیشن آف پا کستان نے عام انتخا بات کے لئے بجٹ کا جو تخمینہ پیش کیا ہے اس کی رو سے الیکشن پر 47ارب روپے خر چ ہونگے 47ارب روپے میں دو بڑے ہسپتال بن سکتے ہین اگر اعلیٰ تعلیم پر یہ رقم خر چ کی جا ئے تو چار یو نیورسٹیاں بن سکتی ہیں، اگر اس رقم کو سڑ کوں کی تعمیر پر لگا یا جا ئے تو 150کلو میٹر سڑ کیں بن سکتی ہیں اگر اس رقم کو بیرونی قر ضوں کی واپسی پر خر چ کیا جا ئے تو 23کروڑ 5لا کھ ڈالر کا بیرونی قرضہ اتر سکتا ہے اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم انتخا بات پر اُ ٹھنے والے اخراجا ت کا رخ کسی اور شعبے کی طرف موڑ دیں، حا شا وکلا، ایسا مطلب ہر گز نہیں، یہ وہ رقم ہے جو ملک میں جمہوریت کے تسلسل کی ضما نت دیتی ہے سول با لا دستی کی ضما نت دیتی ہے

ووٹ کی عزت پر مہر تصدیق ثبت کر تی ہے عوامی حا کمیت کے تصور کو اجا گر کر تی ہے، عوام کی رائے کو مقدم گرداننے کا ثبوت فراہم کر تی ہے دنیا کے جمہوری مما لک میں پا کستان کو سر اُٹھا کر چلنے کے قابل بنا تی ہے، قو می آزادی کے تصور کو پختہ کر تی ہے بیرونی سازش اور غیر ملکی مدا خلت کے امکا نا ت کو ختم کر تی ہے اور یہ ایسے اعلیٰ وارفع مقا صد ہیں جن کے لئے 47ارب کیا قومیں 247ارب بھی خر چ کر تی ہیں زند ہ قو میں اپنی قومی آزادی، قومی وقار اور قومی عزت پر سمجھو تہ نہیں کر تیں، قومی حمیت اور قومی ننگ و نا مو س کو تما م چیزوں پر مقدم رکھتی ہیں اگر انتخا بات نہ ہوئے تو اسمبلیوں کے 1410اراکین کا انتخا ب کس طرح ہو گا؟

صدر،وزیر اعظم، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور چیئر مین سینیٹ، ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کا انتخا ب کیسے ہو گا وفاق اور چاروں صو بوں میں 377رکنی کا بینہ وزراء مشیروں اور معا ونین خصو صی کی تقرری کیسے ہو گی چار صو بے وزرائے اعلیٰ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے بغیر کیسے چلینگے، حکومت کا ڈھا نچہ نہیں ہو گا تو حکومت کس طرح ہو گی حکومتی رٹ (Writ) کس طرح قائم ہوگی؟ اگر فیلڈ مار شل ایوب خا ن کے دور حکومت کو ہم ملکی تاریخ کا سنہرا دور کہتے ہیں تو کا بینہ کے قابل وزراء کی وجہ سے کہتے ہیں اگر جنرل ضیا ء الحق کے دور حکومت کو شاندار معا شی ترقی کا دور مانا جا تا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی کا بینہ ملک کے بہترین لوگوں پر مشتمل تھی،

اگر جنرل پر ویز مشرف کا دور حکومت ملکی تاریخ میں اقتصادی ترقی کے بڑے بڑے نشا نات کی وجہ سے یا د گار دور کہلا تا ہے تو اس کا میا بی کا سہرا بھی ان کی کا بینہ کے سر ہی سجتا ہے ورنہ اکیلا آدمی اتنے بڑے بڑے کام انجام نہیں دے سکتا حکمران کے ساتھ ایک ٹیم ہوتی ہے اور کا میا بی یا نا کا می کا دارو مدار اُس ٹیم کی صلا حیت، قابلیت اور کا کر دگی پر منحصر ہو تا ہے اس بات میں صداقت ہے کہ ہمارے ہاں حزب اختلا ف حکومت کو کا م کرنے نہیں دیتی، 5سال خا موشی سے ووٹ کا انتظار نہیں کرتی، یہ بات بھی سچ ہے کہ ہماری اسمبلیوں کے 1410میں سے 1100اراکین وہ لو گ ہیں جو پارٹیاں بدل کر بار بار آتے ہیں، آنے کے بعد بھی پارٹیاں بدل کر حکومتوں کو عدم استحکام سے دو چار کر تے ہیں ہماری اسمبلیوں میں جمہوری کلچر پروان چڑ ھنے میں وقت لگے گا ایسے واقعات کے تنا ظر میں سیا سی قو توں کو مل بیٹھ کر مقتدر اداروں کو بھی ساتھ ملا کر تین بڑے فیصلے کر کے آئینی ترامیم کے ذریعے ان فیصلوں کو نا فذ کر نا چا ہئیے

پہلا فیصلہ یہ ہونا چاہئیے کہ آئیندہ انتخا بات متنا سب نما ئندگی کی بنیاد پر ہو نگے، دوسرا فیصلہ یہ ہونا چاہئیے کہ اسمبلیوں کی مدت 4سال ہو نی چاہئیے، تیسرا فیصلہ یہ ہونا چاہئیے کہ انتخا بات میں ہار نے والی جماعت 4سال انتظار کریگی ملک میں شور شرابہ اور عدم استحکام نہیں ہو گا ان فیصلوں کے بعد اگر انتخا بات پر 47ارب روپے لگا ئے گئے تو خسارے کا سودا نہیں ہوگا۔

 


شیئر کریں: