Chitral Times

Jul 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلدیاتی انتخابات میں مزہبی جماعتوں کی ناکامی . تحریر عبدالباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چروائے کی صدا- بلدیاتی انتخابات میں مزہبی جماعتوں کی ناکامی – تحریر عبدالباقی چترالی

چترال میں دوسرے مرحلے کے انتخابات میں مزہبی جماعتوں کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔جبکہ حکمران جماعت تحریک انصاف چترال کے تین تحصل کونسلوں اور کئی ویلج کونسلوں میں شاندار کامیابی حاصل کیے۔اور پیپلز پارٹی تحصیل دروش میں تحصیل کونسل کا سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے ۔جبکہ مسلم لیگ (ن)جے یوآئی اور جماعت اسلامی کی کارکردگی مایوس کن رہی ۔حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی میں اقلیتی وزیر کا اہم کردار رہا ۔بلدیاتی انتخابات شروغ ہونے سے پہلے وہ چاروں تحصیلوں کا تفصیلی دورا کیا اور عوام کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا ۔اور کئی علاقوں میں ترقیاتی فنڈ بھی جاری کیے ۔جبکہ مزھبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے لوئیر اور اپر چترال کے عوام مزھبی جماعتوں سے مایوس ہو کر حکمران جماعت تحریک انصاف کو ووٹ دیا ۔موجودہ ایم این اے اور ایم پی اے کے ناقص کارکردگی کا خمیازہ بلدیاتی انتخابات میں مزہبی جماعتوں کو بھگتنا پڑتا ۔2015 کے بلدیاتی انتخابات میں مزہبی جماعتیں اتحاد کر کے ویلج کونسل سے ڈسٹرکٹ کونسل تک سیٹین جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔حالیہ بلدیاتی انتخابات میں جے یوآئی جماعت اسلامی کے بجائے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کر کے الیکشن لڑ کر بری طرح  شکست سے دوچار ہوئے ۔ جے یوآئی کا لوئیر چترال اور اپر چترال میں مستحکم ووٹ بینک ہونے کے باوجود ویلج کونسلوں اور تحصیل کونسلوں میں ناکامی پارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد  یوآئی کے لئے اچھی ثابت نہیں ہوئے ۔مستقبل میں جے یوآئی کی صوبائی قیادت کو اس ناپاک اتحاد پر نظر ثانی کرنا پڑے گا ۔کیونکہ مسلم لیگ ن چترال میں ایک غیر فعال اور غیر منظم جماعت تصور کیا جاتا ہے ۔اس کا غیر فعال ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپر چترال میں انتخابات سے چند دن پہلے مسلم لیگ ن کا اپر چترال کے لئے عبوری ڈنچھ تشکیل دیا گیا ۔اور سابقہ ایم پی اے سید احمد کو مسلم لیگ ن اپر چترال کا صدر مقرر کیا گیا ۔جبکہ تحصیل ،یو سی اور وی سی عہدارون کا نام ونشان نہیں تھا۔پارٹی فعال نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے تحصیل کونسل کے دونوں امیدوار تحصیل دروش اور اپر چترال میں بری طرح ناکام ہوئے ۔ مزہبی جماعتوں کے لئے آئیندہ بھی اتحاد کے بغیر کامیابی حاصل کرنا مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔
اگر مزہبی جماعتیں اپنے اختلافات ختم کر کے اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تو آنے والے قومی انتخابات میں کامیابی کا امکان ہے۔مگر مزہبی جماعتوں کا اتحاد مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔جے یو آئی اپر چترال کا امیر مولانا شیر کریم شاہ عرصہ دراز سے پشاور میں مقیم ہے۔اور پارٹی کا نائب امیر مولانا فتح الباری لوئیر چترال میں مستقیل رہائش پذیر ہے ۔پارٹی کے دونوں عہدار ضلع سے باہر رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے پارٹی کارکنوں میں مایوسی اور بد دلی پھیلی ہوئی ہے ۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کارکنوں کے انتخابی مہم عدم دلچسپی سے ان کے ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے ۔تحصل کونسلوں کے پارٹی ٹکٹ دیتے وقت صوبائی قیادت زمینی صورتحال کو نظر انداز کر کے من پسند افراد کو پارٹی ٹکٹ دینے پر پارٹی کارکنوں میں اختلافات پیدا ہوگئے ۔اس اختلافات کی وجہ سے پارٹی امیدواروں کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑتا ۔
مزہبی جماعتوں کے ناکامی کا دوسرا سبب موجودہ عوامی نمائندوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مزہبی جماعتوں سے چترالی عوام کا اعتماد اور اعتبار آٹھ چکا ہے ۔کیونکہ 2018 کے قومی انتخابات میں چترال کے عوام نے مزہبی جماعتوں پر اعتماد کر کے ان کے امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب کیا تھا ۔مگر مزہبی جماعتوں کے نمائندوں نے چترالی عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ۔اور چترالی عوام کو مایوس کر دیا۔موجودہ ایم این اے اور ایم پی اے کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے چترال میں مزہبی جماعتوں کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے ۔

شیئر کریں: