Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ اما رت اسلا می افغا نستا ن ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد۔اما رت اسلا می افغا نستا ن۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

امارت اسلا می افغا نستا ن کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلا متی کونسل نے افغا نستا ن میں سیا سی اور سفارتی مشن کی بحا لی کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں نا روے کی طرف سے قرارداد پیش کی گئی، نا روے کے سفیر مو نا جول نے قرار داد پر گفتگو کر تے ہوئے افغا نستا ن میں انسا نی المیے کی طرف کونسل کی تو جہ مبذول کی انہوں نے عورتوں، بچوں اور معا شرے کے کمزور طبقوں کو خوراک، ادویات اور دیگر لا زمی ضروریات کی شدید کمی کا ذکر کیا، قرار داد پر رائے شما ری ہوئی تو 15ارکان میں سے 14ارکان نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا ویٹو پاور رکھنے والے مستقل ممبر روس نے رائے شما ری میں حصہ نہیں لیا افغا نستا ن میں اقوام متحدہ کے مشن کے لئے نیا مینڈیٹ انسا نی اور اقتصا دی بحران کے خا تمے کے ساتھ ساتھ پائیدار امن اور قومی و ملکی استحکا م کے لئے بھی بیحد اہم ہے

قرار داد کی منظوری سے ایک دن پہلے اقوام متحدہ کے جینوا دفتر نے ایک رپورٹ شائع کی تھی رپورٹ میں بتا یا گیا تھا کہ مارچ 2022میں جو تازہ ترین صورت حا ل ہے اس کے مطا بق افغا نستا ن میں گذشتہ 9 مہینوں کے اندر انسا نی المیے میں 40فیصد اضا فہ ہو اہے، عمو می طور پر افغا نستا ن کے 95فیصد لو گ غذائی قلت کا شکا ر ہو چکے ہیں خا ص طور پر جن گھر انوں میں کوئی مرد کما نے والا نہیں ان کنبوں کے اندر 100فیصد لو گ غذا ئی قلت کا شکا ر ہو چکے ہیں 9ما ہ پہلے بھو ک اور افلاس سے دو چار ہو نے والوں کی ابادی ایک کروڑ 40لا کھ تھی مارچ 2022ء میں متاثرین کی آبادی بڑھ کر 2کروڑ 30لا کھ ہو گئی ہے اقوام متحدہ کے سکر ٹری جنرل انٹو نیو گو تریس کے نما ئندہ خصو صی برائے افغا نستا ن رمیز ایکباروف نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 34صو بوں میں سے 28صو بوں کو غذائی قلت، بھوک اور افلا س کا سامنا ہے اور یہ عالمی برادری کے لئے ایک چیلنج ہے

رپورٹ کے مندر جا ت پڑ ھ کر مجھے لبنا نی مفکر اور دانش ور خلیل جبران کی نظم یا د آئی دوسری جنگ عظیم کے دوران لبنا ن کے کئی ہزار لو گ بھو ک اور افلا س کے ہا تھوں مو ت کے منہ میں چلے گئے وجہ یہ تھی کہ لبنا ن کا وہ علا قہ جنگ میں نہ جر منی کے ساتھ تھا نہ اتحا دیوں کے کیمپ میں تھا جنگ کے دونوں فریق اپنے ہی دوستوں کو خوراک کی رسد جا نے دیتے تھے خلیل جبران اپنی نظم میں مر نے والے ہم وطنوں سے کہتا ہے کہ میں تمہاری مو ت پر آنسو نہیں بہا تا کیونکہ تم نے جنگ میں بہادری نہیں دکھا ئی بلکہ گھروں میں محصور ہو کر روٹی کے لئے ہاتھ پھیلا یا میں تمہاری مو ت پر اپنے مو تی جیسے آنسو ضا ئع نہیں کر سکتا مو جو دہ حا لات میں چو تھی عالمی جنگ چھیڑ گئی ہے تیسری عالمی جنگ میں ایک بڑی طا قت اور اس کی اتحا دی 28مما لک نے افغا نستا ن کو روما ل یا ٹشو پیپر کی طرح استعما ل کیا، نا ک صاف کر نے کے بعد ٹشو پیپر کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اتنا بھی نہ سوچا کہ اس ٹشو پیپر کے ساتھ 3کروڑ کی انسا نی آبا دی کا حال اور مستقبل وابستہ ہے

ٹشو پیپر کو پھینکنے کے بعد انسا نی المیے جنم لے سکتے ہیں امریکہ اور نیٹو کے پا س افغا نیوں کو بموں سے چھلنی کرنے کے بعد بچے ہوئے لوگوں، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بھوک یا افلا س سے مار نے کی ایک دلیل یہ بھی ہے واشنگٹن اور بر سلز کے تھنک ٹینک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ افغا نستا ن کے لو گ داڑھی رکھتے ہیں، پگڑی پہنتے ہیں عورتوں کو چادر یا بر قعہ پہناتے ہیں، اپنے بازاروں میں شراب فروخت نہیں کرتے، مسجدوں میں نما ز یں پڑھتے ہیں، رمضان کے روزے رکھتے ہیں ان کا مذہب ہم سے جدا ہے ان کی تہذیب ہم سے جدا ہے ہم ان کو زندگی کا حق کیوں کر دے سکتے ہیں چنا نچہ افغا نستا ن کے 8ارب ڈالر امریکی بینکوں میں منجمد کئے گئے ہیں ٹشو پیپر سے جو کا م لینا تھا وہ پورا ہوا ٹیشو پیپر کی جگہ ردی کی ٹوکری ہے ان حا لا ت میں سلا متی کونسل نے اقوام متحدہ کے افغا ن مشن کو مزید ایک سال کا مینڈیٹ دیکر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے امارت اسلا می افغانستا ن کی نظر یں اب او آئی سی (OIC) پر لگی ہوئی ہیں اسلا م اباد کا نفرنس کے بعد اوآئی سی کو اپنا کر دار کرنا چا ہئیے۔

 


شیئر کریں: