Chitral Times

Dec 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان -“ایک مثالی استاد پنشن پہ جارہا ہے” -محمد جاوید حیات

شیئر کریں:

اساتذہ معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو انگلیوں کے اشارے پہ ہوتا ہے ایک لحاظ سے محسن، ایک لحاظ سے معصوم، ایک لحاظ سےذمہ دار طبقہ ہے۔اس کا کام یا اس کو عظیم بناتا ہے یا ملزم و مجرم ۔کیونکہ اس کے ہاتھ میں قوم کی منزل ہوتی ہے انسانیت کا تاج محل ہوتا ہے فرد کی تربیت اور انسان کا معیار ہوتا ہے استاد کے پاس دنیا نہیں ہوتی۔ عہدہ نہیں ہوتا پروٹوکول نہیں ہوتا ۔ایک روشنی ہوتی ہے جو اس کی آنکھوں سے شاگردوں کی آنکھوں پہ پڑتی ہے ایک کرن جو اس کے دل سے نکل کر شاگرد کے اندر کی دنیا کو منور کر دیتی ہے ۔ناصر استاد ان اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں جو واقعی قوم کا محسن ہے ۔ناصر احمد یکم فروری 1962ء کو تورکھو کے مشہور گاوٴں شاگرام میں پیدا ہوئے ۔

آپ کے ابو حبیب صوبیدار اپنے زمانے کی نامی گرامی شخصیت تھے بہت متمول خاندان تھا گھر میں پولو کے لیے گھوڑا ۔شکار کے لیے کتا ۔باز اور نوکر چاکر ۔۔۔گھرانا بھرا پورا تھا ۔مہمان آتے محفلیں سجتیں ۔گاوں کے ضرورت مند آکر اپنی ضروریات پوری کرتے ۔ناصر احمد ناز ونعم میں پلے۔ سکول گاوٴں سے پڑھا ۔ہائی سکول شاگرام سے میٹرک کیا ۔پھر مذید تعلیم حاصل کرنے پشاور سدھارے ۔پڑھائی مکمل ہوئی تو استاد بنے ۔روایتی نہیں ہمہ جہت استاد ۔۔کھیل کا میدان ہو ۔تربیت کی بھٹی ہو۔ بچوں کی مدد امداد کا موقع ہو۔۔۔ ناصر استاد آگے آگے رہے ۔بچوں کا یہ کاروان ان کے پیچھے پیچھے رہا ۔

ناصر استاد نے چترال کے اچھے خاصے اداروں میں کام کیا جن میں چترال کے مشہورو معروف تعلیمی ادارہ گورنمنٹ سنٹینیل ماڈل ہائی سکول سرفہرست ہے جہان آپ نے کئی سال گزارے اور شاگردوں کا ایسا گھیپ چھوڑا جو آپ کی زندگی کا سرمایہ ہیں ۔ناصر استاد خود ہمہ جہت ہیں ۔پولو سے لے کر ان ڈور گیم کریم تک امتیازی حیثیت سے کھیلتے ہیں اور اپنی ثانی نہیں رکھتے ۔ ناصر استاد نے بڑےپسماندہ دور میں علم کا چراغ جلایا ہے اور قوم کے محسن ٹھرے ہیں ۔ملازمت کے آخری دور اپنے مادر علمی ہایر سیکنڈری شاگرام میں گزارے اور یکم فروری 2022ء کو پنشن پہ جائے گا ۔ناصر استاد سماجی کارکن رہے ہیں ۔

عوام کے دکھ درد میں اور سماجی کاموں میں آگے آگے رہے ہیں ۔ان کو شاگردوں سے والہانہ محبت ہے اس لیے شاگرد اس کے ارد گرد پروانوں کی طرح منڈلاتے ہیں ۔ ناصر یار باش ہیں ۔بڑا دسترخواں رکھتے ہیں مہمان نواز ہیں ۔خوش خوراک اور خوش لباس ہیں ۔ بزلہ سنج اور سوشل ہیں ۔طبیعت میں خاکساری اور ملنساری ہے ۔دریا دل ہیں ۔ اس جیسا استاد پھر اس قوم کو شاید ملے ۔وہ سکول نہیں آئینگے لیکن استاد نہ برا ہوتا ہے نہ پنشن پہ جاتا ہے وہ قوم کے لیے مینارہ نور ہوتا ہے ۔۔۔

مجھے اساتذہ سے محبت ہے اس لیے کہ ان کی خدمات قابل تحسین ہوتی ہیں ان کو بھلایا نہیں جا سکتا ۔۔شاید پھتر کا معاشرہ ہو کہ وہاں پر استاد کا مقام نہ ہو ۔۔ناصر جیسے استاد اپنے الگ مان رکھتے ہیں اور ایڈنٹیٹی بھی ۔۔محکمہ تعلیم ایک نابعہ روزگار سےمحروم ہو رہا ۔۔ اللہ ان کو عمر نوح عطا کرے

nasir ahmad teacher

شیئر کریں: