Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کروناسے گرے ڈینگی میں اٹکے – پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

بڑی مشکلات کے بعد کرونا میں کمی آنے ہی لگی تھی کہ ڈینگی نے آدبوچا۔ ہم ابھی ایک مصیبت سے نہیں نکلتے کہ دوسری آ گھیرتی ہے۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا،محاورہ ہماری موجودہ صورتحال کی درست عکاسی کر تا ہے۔ ڈینگی بخار کی چار روائیتی اقسام ہزار سال پہلے بھی موجود تھیں مگر گزشتہ چند سو سالوں میں اس نے انسانوں کو مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ 1970سے قبل دنیا بھر میں صرف 9ممالک کو شدید ڈینگی کے خطرات کا سامنا تھا۔ اب ڈینگی تقریبا 100سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے۔ گزشتہ چند عشروں میں اس نے دنیا میں اپنے پنجے گاڑھنے کے ساتھ ساتھ تباہی مچارکھی ہے۔ ڈینگی وائرس کی وجہ سے دنیا کی تقریبا آدھی آبادی خطرے میں ہے۔ ملیریا کے بعد ڈینگی اس وقت دنیامیں بخار کی دوسری سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ ڈینگی کی وجہ سے سالانہ تقریبا100-400ملین انفیکشن ہوتے ہیں جن میں سے 96ملین شدید نوعیت کے حامل قرار دیے جاتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر کے 129ممالک کو ڈینگی انفیکشن کاسامنا ہے جبکہ اس کا 70% جنوبی ایشیاء میں پایا جاتا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے WHOکے مطابق گزشتہ دو عشروں کے دوران ڈینگی وائرس میں 8%اضافہ ہوا ہے۔سال 2000میں ڈینگی کے کل 505,430کیس تھے جو 2010میں بڑھ کر2.4ملین اور 2019میں 5.2ملین سے تجاوز کر گئے۔ ڈینگی کی وجہ سے2000میں شرح اموات 960تھی جو 2015میں بڑھ کر4032ہو گئی۔ عالمی سطح پر ڈینگی کی وجہ سے کس حد تک اور کتنی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ابھی اس کے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔جنوب مشرقی ایشیاء اور مغربی پیسیفک کے علاقوں میں اس کی شدت بہت زیادہ ہے اور دنیا بھر میں ڈینگی کی بیماری کا 70%جنوبی ایشیاء میں پایا جاتا ہے۔ ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے ساتھ ساتھ  مختلف ممالک میں اس کا پھیلاو بھی لگا تار بڑھتا جا رہا ہے۔

اب ایشیاء اور دیگر علاقوں کے ساتھ یورپ میں بھی اس کے پھیلاو کے خطرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔2010میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے ڈینگی وائرس کے واقعات فرانس، کروشیا کے علاوہ تین دیگر یورپی ممالک میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دوسال کے قلیل عرصے میں یہ یورپ کے 10ممالک تک پھیل گیااور 2012میں 2000سے زیادہ ڈینگی کے کیسیز رپورٹ ہوئے۔سال 2020میں ڈینگی کے وار جاری رہے اور دنیا بھر کے کئی ممالک اس سے متاثر ہوئے۔ سال 2021میں بھی ڈینگی نے پاکستان سمیت بہت سے ممالک کو متاثر کیا۔ کرونا کی وجہ سے صحت کے مسائل پہلے ہی ابتر ہیں۔ محکمہ صحت پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے اوردنیا بھرمیں صحت کے شعبے پر بہت زیادہ دباو کی وجہ سے ان گنت مسائل کا سامنا ہے۔ WHOنے کرونا کے دوران ویکٹر بورن بیماریوں بشمول ڈینگی کی تشخیص، روک تھام، احتیاطی تدابر اور ان کے علاج پر بہت زور دیا ہے۔

اگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو کرونا وباء اور ڈینگی انسانوں کے لیے مہلک ترین ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر ڈینگی کے سب سے زیادہ خطرناک حملے 2019میں دیکھنے کو ملے جب امریکہ میں 3.1ملین ڈینگی مریض تشخیص ہوئے، جن میں 25,000سے زیادہ کیس شدید ڈینگی کا شکار تھے۔ بنگلہ دیش میں 101,000، ملائشیاء میں 131,000, فلپائن میں 421,000,ویتنام میں 420,000جبکہ ایشیاء میں 320,000کیس رپورٹ ہوئے۔ 2016کو بھی ڈینگی کا سال کہا جا تا ہے کیونکہ اس عرصہ کے دوران امریکہ میں 2.38ملین، برازیل میں 1.5ملین ڈینگی مریضوں کی تشخیص ہوئی جو 2014کے مقابلے میں 3%سے بھی زیادہ ہے۔ مغربی پیسیفک ریجن میں 375,000سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے جبکہ فلپائن میں 176411اور ملائشیاء میں 100028مریض تشخیص ہوئے اور ان دو ممالک میں گزشتہ سالوں کے دوران بھی تقریبا یہی شرح رہی۔ 2017میں شدید ڈینگی کے مریضوں میں 53%کمی دیکھنے کو ملی جبکہ گزشتہ عشرے کے دوران ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔

پاکستان میں تو ڈینگی تقریبا سارا سال ہی اپنے حملے جاری رکھتا ہے تاہم اکتوبر اور دسمبر کے دوران اس کی شدت میں اضافہ ہو جا تا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی تین چوتھائی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ز ندگی بسر کر رہی ہے جنہیں صحت کے شدیدترین مسائل کا سامنا ہے۔ صحت کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے ڈینگی نے پاکستان کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ بے شمار دیگر بیماریوں کے پھیلاو کے ساتھ ساتھ ڈینگی ایک بار پھر حملہ آور ہو چکا ہے۔ پنجاب کے اکثر ہسپتالوں میں جگہ دستیاب نہیں ہے۔ سال 2019میں پاکستان میں تقریبا50,000افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے مگر اس کے باوجود ڈینگی کے مکمل خاتمے، اس کی روک تھام یا اس کے مناسب علاج کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔دیگر صوبوں میں بھی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔

ہمارے ہسپتالوں میں جگہ اور عملے کی قلت کے ساتھ مناسب تربیت اور ادوایات کی بھی شدید کمی ہے جس کے سبب ہمارے ہسپتال کسی بھی بیماری کے پھیلاو کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ کویڈ کی وجہ سے ہسپتالوں میں بستروں کی شدید کمی ہے ایسی صورتحال میں اگر ڈینگی 2019والی صورت اختیار کر لیتا ہے تو ہمارا کیا بنے گا؟ اللہ اللہ کر کے کرونا کے مریضوں میں کمی آنا شروع ہوئی تھی کہ ڈینگی نے حملہ کر دیا۔ ہر حکومت مسلے کا دیرپا حل نکالنے کے بجائے درد کم کرنے والی ادوایات کی طرح عارضی حل کو ترجیح دیتی ہے۔ ڈینگی دراصل ہماری بدانتظامی، لاپرواہی، عدم توجہ، صفائی کے ناقص نظام اور مستقبل کے لیے کسی ٹھوس لائحہ عمل کی عدم موجودگی کا شاخسانہ ہے۔ جب ہمارے شہر، گلیاں کوڑے کا ڈھیر بنے رہیں گے، ہر جگہ پانی کے جوہڑ بنے رہیں گے، کچرا جگہ جگہ جمع رہے گا پھر ڈینگی کسی صورت بھی ختم نہیں ہو سکتا۔

ہم ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے سابقہ حکومتوں پر الزام تراشی کرتے اور ہر مسلے کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کو ٹھہرانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ کروناوباء کی وجہ سے عوام کی معاشی سکت جواب دے چکی ہے اور رہی سہی کسر مہنگائی خان نے نکال دی ہے۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے یوں محسوس ہوتا ہے روزمرہ کے استعمال کی چیزیں کوہ قاف کی پہاڑی پر چپکا دی گئی ہیں۔ ادوایات میں کئی سو گنا اضافہ، نادار افراد کے لیے جان بچانے والی ادوایات کی مفت فراہمی پر پابندی اور بنیادی ادوایات کی ترسیل اور فراہمی میں کمی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

اب عوام جمہوریت، کرونا یا ڈینگی کے بجائے دووقت کے کھانے کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انکا سارا وقت اس سوچ میں گزر جا تا ہے کے اگلا کھانا ملے گا بھی یا نہیں۔ مہنگائی کے اس عالم میں موت کی دعا مانگتے بھی ڈر لگتا ہے کہیں دفنانے کے بجائے کووں اور چیلوں کے کھانے کے لیے نہ پھینک دیا جائے۔ عوام ہر طرف سے مصیبت میں مبتلا ہے۔ ایک طر ف کرونا نے جینا دوبھر کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے اور رہی سہی کسر ڈینگی نے نکال دی ہے۔ پی ٹی آئی نے ایسی ریاست مدینہ میں لا کھڑا کیا ہے جہاں نہ آگے جانے کا کوئی راستہ ہے اورنہ پیچھے مڑنے کا۔ کرونا،مہنگائی اور اب ڈینگی نے عوام کا حوصلہ توڑ دیا ہے۔ بنیادی سہولیات کی دستیابی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر یوں لگتا ہے ریاست نے غریب عوام کا خون نچوڑے کا تہیہ کر رکھا ہے۔


شیئر کریں: