Chitral Times

Apr 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میرا جسم میری مرضی…….تحریر۔صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

”میرا جسم میری مرضی“ جو پاکستان میں نسواں کی جانب سے خواتین کے جسمانی خودمختاری کے حقوق کے مطالبہ اور صنف پر مبنی تشدد کے خلاف اٹھائے جانے والا ایک نعرہ ہے۔

گزشتہ دو سالوں سے عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر گونجنے والا یہ نعرہ بہت سے تنازعات کو جنم دیا۔ اس نعرے کے تخلیقکار اس لائق نہ  تھے کہ اپنی بات کو واضح طور پر سامعین تک پہنچاتے۔ بہرحال  اس قبیح اور مبھم نعرے سے عورت مارچ کا اصل مقصد فوت ہوگیا۔ ناقدیں نے عورت مارچ والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوۓ اسے غیر شرغی اور انسانی اقدار کے منافی قرار دی دیا۔ دراصل عورتوں کے حقوق سے کوئ انکاری نہیں لیکن عورتوں کے چند علمبردار عورتوں کے حقوق سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے بجاۓ ایسے حرکات کو ترویج دی جو معاشرے میں فحاشیات کے زمرے میں آتے ہیں۔

مطالبات جو وہ کررہی ہیں، نہ وہ خواتیں کے حق میں مناسب ہیں، نہ ہی انسانیت کے فلاح کیلۓ بہتر ہیں۔ ایسے بیہودہ  مطالبات اور مبہم نعروں کی وجہ سے خواتین کے اصل حقوق پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ خواتیں کے حقیقی مسائل کا حل شاید ان کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ، بس مردوں کو کوسنا اور ماحول کو فحاشی سے آلودہ کرناچاہتی ہیں۔ حالیہ مارچ میں کئ جوڑے سامنے آۓ ،جو کہتے ہیں کہ دو مردوں کے درمیان سیکس کرنا فطرتاً جائز ہے۔ ایک اور لڑکی سے پوچھا گیا کہ آپ کے  نزدیک خواتیں کے ایسے کونسے مسائل ہیں جس کے حل آپ کے مطالبات میں شامل ہیں؟ تو کہتی ہے ہمیں بوئے فرنڈ رکھنے کی اجازت نہیں دیجاتی ہے۔ آپ خود آندازہ لگاسکتے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں اور ان کا ایجنڈا کیا ہے، وہ کس نظام سے متاثر ہیں۔آج پاکستان میں فیمینزم کے نظریات کو جنس پرستی اور فری سیکس سوسائٹی کا استعارہ  کرلیے ہیں۔ اگر انہیں مطلوبہ آذادی دی جاۓ تو پاکستان جو اللہ واحد اور رسول اللہ کے نام سے وجود میں ایا ہے، کو ہمارے اقدار اورتہزیب کے قبرستاں بن بنادینگے۔

پاکستانی خواتیں کے مطالبہ یہ نہیں کہ بازاروں میں انہیں ننگے ناچنے دیی جاۓ۔ نہ مرد سے الگ رہنا چاہتی ہیں، نہ عورت کو شوہر کا کھانا گرم کرنے یا موزہ ڈھونڈنے میں کوئی مسلہ ہے، ڈوپٹہ سر پر لینے سے بھی کوئ قیامت نہیں اۓ گی۔ یہ مطالبات ہمارے خواتیں کے ہیں ہی نہیں،  بڑے بڑے مسائل سے ہمارے خواتیں دوچار ہیں۔ ہمارے خواتیں کو شادی سے انکاری پر اس پر تیزاب پھینک دی جاتی ہے، پسند کی شادی پر قتل کیجاتی ہے، خلع لینا چاہے تو وہ لے نہیں سکتی،  جہیز کے بغیر کوئ اسے قبول نہیں کرتا، عورت کا دکھ یہ ہے کہ وہ محلے کے بدمغاشوں کی شکایت باپ بھائی سے کرنے سے ڈرتی ہیں، مرد کی توجہ اس پر پڑ جائے تو یقین کیا جاتا ہے کہ عورت نے ہی ورغلائ ہو گی۔ عورت کی غلطی کو زمانہ معاف نہیں کرتا ۔ عورت کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بھائیوں کی خاطر جائیداد میں حق چھوڑ کر اچھی بہن ہونا ثابت کرنا ہوتا ہے، عورت کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ساری عمر ماں باپ کی عزت کی خاطر مرد کی مار پٹائ سہنی پڑ تی ہے۔ معاشی طور پر بد حال یا اپاہج کے بچیوں سے کوئ شادی نہیں کرتا، کوئی بیوہ کے بچوں کے سر پر دست شفقت نہیں رکھتا اور انکے حق جائیداد مل بانٹ کے کھاتے ہیں۔

خواتیں مرد کے ساتھ مل کر اس مسلہ کی حل چاہتے ہیں۔ مرد سے صرف وہی مقام چاہتی ہیں، جو اسلام انہیں دیا ہے۔ وہ ان پاک رشتوں سے توجہ اور حق چاہتے ہیں جو کہ وہ حقدار ہیں۔


عورت آزادی مارچ کرنے والے یقینی طور پر پاکستانی معاشرے میں موجود عورت کی حقیقی مسائل سے بے خبر ہیں ۔عورت آزادی مارچ ایک مخصوص غیر ملکی ٹولے کا ایجنڈا ہے ۔جہاں فحاشی، تمباکو نوشی اور سرکشی کے جلکیاں نظر اتی ہیں۔ 

ایک عورت کہتی کہ شادی کے بعد ہم چند سال شوہر سے آزاد رہنا چاہتے ہیں، اگر آزاد ہی رہنا ہے تو شادی کیوں۔  یہ لوگ آزادی میں اتنی اگے جاچکے ہیں کہ ذندگی کے سارے خوشیاں پیکے لگ رہی ہیں۔ اب یہ ڈپریشن اور نفسیاتی مسائل کے شکار ہیں۔ جس کی تسکین کیلۓ ایسے مواقع تلاش کرتی ہیں۔ اگر ان کی بس میں ہوتا تو آج  ہی پیرس نائیٹ کلپ اسلام آباد کے ریڈ زون میں مناتے۔ افسوس اس بات کی ہے کہ وہ دوسروں کو بھی فحش کی آلودگیی میں دکھیل رہے ہیں۔

 عورت آذادی مارچ کا اصل مسلہ شریعت اسلام سے ہے وہ چاہتی ہیں کہ کسی طرح بھی اسلام کو ہمارے گھر سے نکالا جاۓ۔ اگر وہ چاہتےخواتیں کو انکےحقوق ملے، تو خواتیں کے مسائل کو منظر عام پر لاتے اور ان کے حل کیلۓ تدابیریں سوچھتے، پاکدامن خواتیں کی نمائیندگی کرتے، نہ کہ اپنے خواہشات کو خواتیں کے مسائل کا نام دیکر پاک سر زمین پر شیطان کے ننگے رقص دکھاتی پھیرتیں۔ 

ہم  الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ نے خواتیں کے جو حقوق مختص کیے ہیں اگر اس پر عمل کیا جاۓ تو کوئ عورت مذکورہ بالا مسائل سے دوچار نہیں ہونگے۔ اسلامی معاشرے میں مسلمان مردوں پر لازم ہے کہ وہ خواتیں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ ان پر تششد اور بد سلوگی سے کریز کرے۔ جب وہ کسی راستے سے گزرنا چاہے تو اسے راستہ دی جاۓ تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنے تعلیم حاصل کرسکے اور ملازمت وغیرہ اسلام کے دائرے میں رہ کر اپنے بچوں کے رزق حلال کا ذریعہ بن سکے اورایک باوقار زندگی گزار سکے ۔ جب ہم انکے عزت و آبرو کا خیال نہ رکھیں گے تو معاشرے میں ایسے ایسے فتنے جنم لیتے رہنگے، غلط طریقے کار اور غلط مطالبات منوانے کی کوشش کرینگے۔

خلاصہ یہی ہے کہ معاشرے میں خواتیں کو وہی مقام دیا جاۓ جو اسلام نے انکے کیلۓ مختص کی ہے۔ انکی عزت و آبرو کی حفاظت کیجاۓ۔ انکے مسائل سنے اور حسب استطاعت حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ معاشرے میں استحام آۓ۔

وما علینا الاالبلاع۔


شیئر کریں: