Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افغاستان کو منقسم کرنے کے منصوبے؟………. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

سابق صدر آصف زرداری نے اگست  2010 میں فرانسیسی اخبار Le Monde کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ”اتحادی افواج، افغانستان میں (افغان) طالبان کے خلاف جنگ میں شکست کھارہی ہیں، اس جنگ میں دنیا کو متحد ہونا چاہیے نہ کہ تقسیم۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ (افغان) طالبان کا افغانستان میں برسراقتدار آنے کا امکان نہیں ہے تاہم ان کی گرفت پہلے سے مضبوط ہے‘ یہ بات سب سے اہم ہے کہ ہم لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی جنگ میں شکست کھا رہے ہیں‘ امریکی اور اتحادی افواج نے افغانستان کے زمینی حقائق کا غلط اندازہ لگایا ہے‘ صرف طاقت کے استعمال سے جنگیں نہیں جیتی جاسکتی“۔  افغان جنگ پر امریکہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سابق صدر کے موقف کو رد کردیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا تھا کہ،  ’میرا نہیں خیال کہ صدر اوباما، صدر زرداری کے موقف سے اتفاق کریں گے۔‘


11 برس بعد وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر کے موقف کی ایک طرح سے توثیق کی کہ پاکستان نے امریکہ کا ہمیشہ ساتھ دیا لیکن اس نے ہمیشہ ہمیں ہی بُرا کہا۔ سابق صدر زرداری نے مستقبل کی  پیش گوئی کرتے ہوئے بتا دیا تھا کہ امریکہ اور نیٹو زمینی حقائق کے برعکس عمل پیرا ہیں، زمینیوں کو فتح کرنے کے بجائے اگر دلوں کو فتح کرنے کی پالیسی اپنائی جاتی تو آج امریکہ کو بدترین شکست کا سامنا نہ ہوتا۔ وزیراعظم نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو دیئے انٹرویو اور اپنے آرٹیکل میں دو ٹوک موقف دیا کہ امریکہ کو اب کوئی فضائی اڈا نہیں ملے گا اور افغان طالبان کے خلاف بھی کوئی فوجی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم نے واضح پالیسی بیانیہ امریکی رویئے کو دیکھتے ہوئے اختیار کیا ، خیال رہے کہ راقم نے11جون کو’روزنامہ جہان پاکستان‘میں شائع اپنے کالم میں وزیراعظم سے امریکہ کو فضائی اڈے دینے  کی افواہوں پر واضح پالیسی بیان دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا تھا۔

21جون کو وزیراعظم نے عالمی نشریاتی ادارے میں بالاآخر پالیسی بیان دے دیا، جس سے غیر مبہم پالیسی واضح و افواہوں کا  قریباََخاتمہ ہوا۔ حزب اختلاف کی تنقید اپنی جگہ اب بھی برقرار لیکن  وزیراعظم کیپالیسی بیان کے بعد حکومتی وزرا ء، سفارتی حکام نے بھی کھل کر موقف کا اظہار کیا، گو کہ اس سے قبل ان کی وضاحتیں آتی رہیں لیکن وہ شکوک میں مزید اضافہ کردیتیں، اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے خصوصی ان کیمرا اجلاس بلانے کی بھی بات کی گئی، سینیٹر شیری رحمان و حنا ربانی کھر کا  موقف بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان کے کردار کو دیکھتے ہوئے موجودہ بات چیت کے نتائج میں پاکستان کا کیا حصہ ہوگا، نیز پاکستان افغانستان کے مستقبل کے متعدد ممکنہ منظر ناموں کے لئے کیسے تیاری کررہا ہے۔


سابق صدر آصف زرداری نے اپنے دور اقتدار میں جن خدشات پر کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا تھا آج مکمل طور پر موجودہ صورت حال اسی بے یقینی کی عکاسی کررہی ہے۔ ذرائع کے  مطابق افغانستان میں نسلی و فرقہ وارنہ بنیادوں پر مسلح جنگجو گروپوں میں بھرتی  کا عمل شروع ہے، جس سے خطرہ ہے کہ پشتون اور دیگر نسلی اکائیاں آبادی کی تناسب سے انتظامی طور پر تقسیم  ہوسکتی ہیں، ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں پشتونوں کی آبادی42 سے 48 فیصد اور دیگر نسلی اکائیوں کی تعداد بالخصوص تاجک کی20 سے 25 فیصد،جبکہ ہزارہ،ازبک، ایماق، ترکمانستان، بلوچ،پاشایی، نورستانی، عرب، براہوی، پامیری، گرجر، وغیرہ کی تعداد کم و بیش  30سے  33فیصد ہے۔ عالمی قوتیں سمجھتی ہیں کہ افغان طالبان کا اثر رسوخ و قبضہ پشتون خطے میں زیادہ ہے اور غیر پشتون علاقوں میں دیگر مسلح جنگجو ملیشیاؤں کا  نفوذہے اس لئے گمان  یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ نظام و انصرام کا حتمی فیصلہ نہ ہونے  سے خانہ جنگی کا بڑا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ تقسیم کے منصوبے پر افغانستان میں نسلی و سیاسی اکائیوں پر مشتمل اتحادی (عبوری) حکومت بنانے کا مسودہ دیا گیا، لیکن افغان صدر نے امریکی  مسودے کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔

حالیہ دورے میں صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر بھرپور کوشش کی کہ اتحادی افواج کے انخلا ء کو روکا جاسکے، لیکن انہیں کامیابی نہ مل سکی، تاہم امریکی حکام نے اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لئے650 فوجیوں کے تعیناتی برقرار رکھنے کی خبر پر افغان طالبان نے سخت ردعمل دیا،  جس سے خدشات ابھر کر سامنے آئے ہیں کہ اگر کابل ائیرپورٹ پر ترکی اور کابل کے مرکز میں امریکی تعینات رہیں گے تو غیر ملکی افواج سے تصادم کا خطرہ بھی موجود رہے گا جس سے اافغانستان میں امن کے کسی فارمولے پر بات چیت کی کامیابی کے امکانا تمعدوم ہوجائیں گے، تاہم بقول ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، کہ افغان طالبان سے اُس وقت تک مذاکرات کئے جائیں جن تک وہ خود انکار نہیں کردیتے۔


یہ ایک بڑی پیچیدہ صورت حال ہے جس کا اس وقت افغانستان کے علاوہ پاکستان کو بھی سامنا ہے، کیونکہ کسی بھی غیرمتوقع صورت حال میں مملکت کو نئی آزمائشوں سے گذرنا ہوگا، خدانخواستہ خانہ جنگی ہوتی ہے تو مہاجرین کا بڑا ریلا مزید پاکستان ہجرت کرے گا اور ان میں ملک دشمن عناصر چھپ کر آسکتے ہیں، جن کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے، پاک۔ افغان بارڈر منجمنٹ سسٹم امریکی انخلا تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان ہنگامی حالات میں اپنی سرحدیں سیل کرنے کی استعداد بروئے کار لا سکے گا، لیکن افغان مہاجرین کے نئے ریلے میں انتہا پسندوں کی پہچان دشوار گذار عمل ہوگا، مہاجرین کی آمد کو عالمی قوانین کی وجہ سے نہیں روکا جا سکتا، اقوام متحدہ کے دباؤ پرمہاجرین کی آمد پر پابندی عاید کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

ان حالات میں پاکستا ن کو تین اطراف سے ملک دشمنو ں  سے بھی لڑنا ہوگا اور امریکہ کو فضائی اڈے اور افغان جنگ میں حصہ نہ بننے کے پالیسی بیان کے بعد ناراضگی و دوریاں مزید بڑھ جانے سے فیفٹ کی طرح نت نئے مطالبات اور ڈو مور کا سامنا رہے گا۔ جس کا مقابلہ و سامنا کرنے کے لئے قبل ازوقت ایک مشترکہ حکمت عملی بنائے جانا ضروری ہے۔ بقول سابق صد’ر ہم لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی جنگ میں شکست کھا رہے ہیں‘۔  سیاسی و دفاعی موثر حکمت عملی کے لئے ریاست کو پارلیمنٹ کے اندر و باہر تمام سیاسی جماعتوں کی اے پی سی بلانے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، پارلیمانی جماعتوں کو ان کیمرہ بریفنگ پہلے بھی دی جاتی رہی ہے، باالفاظ دیگر ’عوام‘ کو اعتماد میں لینا ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔


شیئر کریں: