Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٹی ٹی پی اورکالعدم تنظیموں کا اتحاد,پاکستان کے لئے بدستور خطرہ ….قادر خان یوسف زئی

شیئر کریں:

شمالی وجنوبی وزیرستان میں پاکستان سیکورٹی فورسز پر تواتر سے دہشت گردحملے جاری ہیں، مسلح افواج کی جانب سے آپریشن ضرب عضب و ردالفساد کے بعد شمالی وزیرستان سے شدت پسندوں کے خلاف مربوط کاروائیوں سے شرپسند فرار ہوکر افغانستان کی سرزمین پر قدم جمانے میں مصروف ہوگئے۔ قبائلی علاقوں میں شدت پسند عناصر کی تین دہائیوں سے موجودگی کو ختم کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کے ساتھ عوام نے بھی بڑی قربانی دی۔ سیکورٹی فورسز سے تعاون کرتے ہوئے اپنے علاقوں سے آئی ڈی پیز بننے پر مجبور ہوئے،، لاکھوں افراد کا اپنا وطن چھوڑنا بہت غیر معمولی قدم تھا، اسی طرح علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کرنا اور لاکھوں قبائلیوں کو واپس اپنے گھروں میں بحال کرکے علاقے کا انفرا اسٹرکچر بھی بنانا ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا،سیکورٹی فورسز نے باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت سب سے پہلے اُن عناصر کے خلاف کاروائیاں کیں جنہوں نے علاقے کے ساتھ ساتھ ملک کا امن و سکون برباد کیا تھا۔ سیکورٹی فورسز کی مسلسل کاروائیوں سے خوفزدہ ہوکر کالعدم تنظیموں کو ان علاقوں سے فرار ہونا پڑا۔ تاہم ملک دشمن عناصر کو اپنے عزائم میں ناکامی دیکھنے کے باعث سرپرستی و فنڈنگ میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔ جس کے مضر اثرات سے سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آنے لگے۔


کالعدم تنظیموں نے افغانستان میں ایک مشترکہ اتحاد بنایا، جس کا مقصد سیکورٹی فورسز پر حملے اور اُن علاقوں میں دوبارہ خوف کی فضا پیدا کرنی تھی جہاں بڑی محنت و قیمتی جانوں کی قربانیوں کے بعد امن قائم کیا گیا تھا۔ اہم صورتحال یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ کالعدم تنظیموں کے اتحاد کے بعد شمالی و جنوبی علاقوں میں شدت پسندوں کو کچھ ایسے عناصر نے سیاسی چھتری فراہم کرنا شروع کردی، جنہوں نے نام نہاد قوم پرستی کا نعرہ لگا کر عام عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ حقوق کے نام پر شر پسندی اور سیکورٹی فورسز کے خلاف سازشوں کے ذریعے علاقے میں امن کے توازن میں بگاڑ پیدا کرنا شروع کردیا۔ سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے شدت پسند، اپنے سہولت کاروں کو سیکورٹی فورسز کے خلاف مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جہاں عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش کی جاتی ہے تو دوسری طرف سیکورٹی اداروں کی جانب سے احتیاط میں بھی فطری طور پر اضافہ ہوجاتا ہے۔ان علاقوں میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کی مختلف وجوہ بیان کی جاتی، جس میں ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ کالعدم تنظیمیں و جماعت دوبارہ ان علاقوں میں قدم جمانے کی کوشش کررہی ہیں، اور ان علاقوں میں جہاں ابھی تک آئی ڈی پیز کو آباد نہیں کیا جاسکتا، کالعدم تنظیموں کا گڑھ بنتے جا رہے ہیں، اسی طرح پشاور یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات عامہ کے شعبے کے سابق سربراہ اور تجزیہ کار ڈاکٹر حسین شہید سہروردی  کے مطابق افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بین الافغان مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں۔ تاہم پاکستان اور افغانستان میں موجود بعض عناصر جنگ، تشدد اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں چاہتے۔


سیکورٹی فورسز و شدت پسندوں کے درمیان چھڑپیں معمول کا حصہ بن چکے ہیں، سیکورٹی فورسز پر چھپ کر حملے و انہیں ٹارگٹ بم بلاسٹ کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب کہ شدت پسندوں کی جانب سے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کرنے والے حکومتی اہلکاروں کو بھی اغوا کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سیکورٹی فورسز پر حملوں کا ایک بنیادی مقصد قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام ہونے کے بعد ایسے عناصر کے اثر رسوخ میں کمی بھی ہے،جو فاٹا قوانین کی آڑ میں اپنے من پسند نتائج حاصل کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ موجودہ حکومت میں قبائلی علاقوں کا صوبے کے ساتھ انضمام ہوا، جس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند برسوں میں اصلاحات کے عمل میں تیزی آنے کے بعد عوام اپنے حقوق کو خود حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہوسکیں گے۔ ملک کی دیگر عوام کی طرح قومی دھارے میں شامل ہو کر ان علاقوں کا تاریخی تشخص مزید ابھر کر سامنے آئے گا۔ اس حوالے سے گو کہ اصلاحات کے نفاذ کا عمل سست روئی  و مایوس کن رفتار سے رواں ہے لیکن توقع یہی کی جا رہی ہے کہ ایک صدی بعد علاقے کے عوام اپنے حقوق کو جائز طریقے سے اپنی مرضی کے مطابق اختیار حاصل کرسکیں گے۔


 خیبر پختونخوا کی پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف ملک کے امن و امان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بلکہ قبائلی اضلاع کے عوام کو بنیادی آئینی و قانونی حقوق میسر آ رہے ہیں۔ آئی جی ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں امان و امان قائم رکھنے کی ذمہ داریاں اب خیبر پختونخوا پولیس کی ہے۔ تمام اضلاع میں پولیس کے نظام کو وسعت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی تعیناتی کا عمل ابھی بھی جاری ہے۔ ان علاقوں میں پولیس مکمل طور پر با اختیار ہے۔ فورس کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پولیس میں بھرتیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔ جب کہ دیگر اضلاع میں یہ سلسلہ جاری ہے۔


اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مخالف 6000 سے زائد عسکریت پسند افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان عسکریت پسندوں میں اکثر کا تعلق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے جو پاکستان کی فوج اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ داعش سے تعلقات استوار کر چکی ہے جب کہ اس تنظیم کے کئی افراد داعش میں باقاعدہ طور پر شامل بھی ہو چکے ہیں۔ داعش کا افغانستان کے مغربی علاقوں میں کافی اثر و رسوخ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس نے اپنا ہیڈ کوارٹر بھی اسی علاقے میں بنایا ہوا ہے۔اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیرستان میں فوجی آپریشن کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیاں جاری رہیں۔سال 2019 میں ملک میں ہونے والے حملوں میں سے 36 فی صد کی ذمہ داری کالعدم ٹی پی پی نے قبول کی تھی۔ ان کے بعد دیگر علیحدگی پسند تنظیمیں پرتشدد واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہیں۔


اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد بخاری کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، کالعدم ٹی ٹی پی  اور اس سے وابستہ مذہبی انتہا پسند گروہ بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول، خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات میں ٹی ٹی پی ملوث رہی۔لیفٹینٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں داخلی استحکام میں خاصی بہتری آئی ہے۔ امن و امان کے حالات معمول کے قریب آ چکے ہیں۔ تاہم، اس کے باوجود اندرونی طور پر انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، داعش اور اس جیسے گروہوں کی پناہ گاہیں سرحد پار اففانستان میں ہیں جنہیں بھارت کی حمایت حاصل ہے۔اقوامِ متحدہ کی دہشت گرد تنطیموں سے متعلق جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے افغانستان میں موجود غیر ملکی دہشت گرد دونوں ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود ان غیر ملکی عسکریت پسندوں کی تعداد 6000 سے 6500 کے درمیان ہے جب کہ ان میں زیادہ تر کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی  سے ہے۔شمالی و جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے خلاف تشدد کی لہر کا مقصد امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے، ایسے عناصر کو ناکام بنانے کے لئے عوام کو ریاست کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا، بے امن علاقہ جہاں ان کی نسل کے لئے خطرناک ہے تو دوسری جانب ملک و قوم کے لئے یہ زہریلا سانپ بن کر اپنی نسل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔شمالی مغربی سرحد پر ملک دشمن عناصر اپنے لوگوں کو مذمو م مقاصد کے لئے ورغلا تے ہیں تاکہ اداروں سے عوام کا اعتماد کم ہو، تاہم ریاست کے اقدامات سے عوام کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔


شیئر کریں: