Chitral Times

Apr 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاک ترک تعلقات، امکانات اور مشکلات ….پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:


قیام پاکستان کے بعد پاکستان اور ترکی کے تعلقات مذہبی اور ثقافتی سطح تک محدود تھے۔ 1950 کی دفاعی پالیسیاں دوطرفہ تعلقات کے لیے سنگ میل ثابت ہوئیں اوردونوں نے روس کے خطرے کے پیش نظر مغرب سے اتحاد کر لیا۔ بغداد معاہدہ دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں مددگار ثابت ہوا، یوں دونوں ممالک نے 60کی دہائی میں مغربی دفاعی پالیسی پر کاربند رہے۔60کی دہائی کے وسط تک دونوں ممالک نے باہمی آزادانہ تعلقات کوآر سی ڈی کے تحت ترویج دینے کا آغاز کیا۔ پاکستان 1965میں امریکہ دغا بازی کی وجہ سے نیم چینی اتحاد سے وابسطہ ہو گیا جبکہ ترکی سائپرس پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ ترکی قربتیں کم ہو گئیں۔70کی دہائی میں دونوں ممالک فوجی مہمات میں مصرف رہے پاکستان مشرقی پاکستان میں اور ترکی سائپرس میں۔پاکستان نے سائپرس کے معاملے پر ترکی کی بھر پور حمایت کی جسکی وجہ سے تعلقات میں مزید بہتری آئی۔ 80کی دہائی میں افغانستان میں روسی جارحیت نے خطے میں مغربی ممالک کے مفادات کو خطرے سے درکنار کیا تو دونوں ممالک نے ایک بار پھر مغربی اتحاد کو ترجیح دی۔

دونوں ممالک کو ایک جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے جس میں فوجی بغاوتیں، کیمونزم اور ایرانی انقلاب کا نظریہ قابل ذکر ہیں۔دونوں ممالک کی اعلی فوجی قیادت مغربی اتحاد کی حامی رہی ہے۔90کی دہائی ترکی کے لیے سرد جنگ، بالکان اوروسطی ایشیائی ریپلک اور پاکستان افغانستان کی وجہ قدر انجماد کو شکار رہی۔ 9/11کے بعددونوں ممالک کو افغانستان میں اکھٹے کام کرنے کا موقعہ ملا اور دونوں ممالک نے افغان امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ افغانستان کے معاملے پر دونوں ممالک ماضی میں الگ گروہوں کے حامی تھے؛مگر اب دونوں پر امن افغانستان کے لیے متفق ہیں۔اردگان کی حکومت تک دونوں ممالک کے تعلقات رسمی سطح تک محدود تھے۔ دونوں ممالک دفاعی اور تحفظ کے اعتبار سے انتہائی اہم محل وقوع کے حامل ہیں۔ ماضی میں دونوں ممالک کے باہمی اشتراک کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیایہی وجہ ہے کہ ترکی اور بھارت کی تجارت 5ملین ڈالر سے زیادہ اور پاک ترک  تجارت 1ملین ڈالر سے بھی کم ہے تا ہم حالیہ سالوں کے دوران اس کا حجم 40%تک بڑھ گیا ہے۔

ترکی کی جانب سے پاکستانی ٹیکسٹائل پر ڈیوٹیز کی وجہ سے پاکستانی ٹیکسٹائل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران ترکی میں جموریت کی پائیداری کی وجہ سے ترکی معاشی طور پر ایک طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ دونوں ممالک میں عوام کے درمیان روابط کا فقدان رہا ہے اور دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ تر معلومات مغربی میڈیا کے توسط سے ملتی ہیں جو کسی بھی صورت میں مثبت انداز میں پیش نہیں کی جاتی۔ دونوں ممالک میں باہمی تحقیق کا کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا جسکی وجہ سے باہمی تعلقات اتنے پائیدار نہیں رہے۔ مستقبل میں ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھ کر دونوں ممالک ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔ ترکی اپنی تیزی سے ترقی کرتی معیشت اورجی 20کے ممبر کی حیثیت سے پاکستان کے لیے کافی معاون ثابت ہو سکتا  ہے۔پاکستان ترقی کو تعمیرات کے شعبے میں شامل کر سکتا ہے خاص طور پر سستے گھروں کی تعمیر میں ترکی کافی مدد گار ثابت ہو گا۔تعمیرات کے علاوہ ایگرو کی صنعت میں ہم ترقی کے تجربات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

پاکستان دنیا میں ایگرو مصنوعات میں چوتھے نمبر پر ہونے کے باوجود چیز یورپی یونین سے درآمد کر تا ہے۔ دونوں ممالک تعلیمی میدان میں سکالرشپ سے مستفید ہو رہے ہیں اب دونوں ممالک کو آگے بڑھتے ہوئے تعلیمی میدان میں یونیورسٹیوں کے قیام کی طرف اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔دونوں ممالک دفاعی میدان میں خاطر خواہ کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔ ترکی ATAK129 ہیلی کاپٹر کے میدان میں پاکستان کی مدد کر سکتا ہے جبکہ پاکستان ترکی کو JF17تھنڈر کی ٹیکنالوجی میں مدد کر سکتا ہے۔یوں دونوں ممالک سپیس ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے کے تعاون سے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا سکتے ہیں۔ترکی کی اعلی قیادت مشرق و مغرب کے ساتھ تعلقات میں توازن کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ترکی ایک جانب یورپ اور امریکہ پر نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب روس اور چین بھی اس کی پالیسیوں کا اہم حصہ ہیں۔مشرق و مغرب میں ہونے والی دفاعی اورمعاشی تبدیلیوں پر ترکی کی گہری نظر ہے۔روس کے دفاعی اہداف اور چین کی روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے بھی ترکی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

ترکی کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کیوجہ سے دونوں ممالک میں باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ترکی پاکستان کومستقبل میں ایشیاء کی سپر پاور کے طور پر دیکھ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ترکی نے نیوکلئیر سپلائیر گروپ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کیا۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو مختلف مشکلات کا بھی سامنا ہے خاص طور پر ترکی اور سعودیہ کے تعلقات اتنے خوشگوار نہی جتنے پاکستان اور سعودیہ کے ہیں۔ہمیں اپنی ترجیحات کو واضع کرنا ہو گا تاکہ تعلقات سے ہماری آزادی، خودمختاری اور سالمیت متاثر نہ ہو۔ ترکی اور سعودیہ کے تعلقات کی خرابی کے عوامل میں کاشوگی کا قتل، مسلم برادر ہڈکی مصر میں حمایت، لیبیا کے معاملے پر ترکی کا موقف اور قطر کے معاملات سرفہرست ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے ریاض اردگان اور خان تعلقات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ترکی کا خیال ہے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات سے ایشیاء میں ترکی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

ایشیاء میں ترکی کی دلچسپی کی ایک اور وجہ یورپی یونین کی جانب سے سردمہری کا رویہ بھی ہے۔ یورپی یونین برگیزیٹ اور روس کی جانب جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ ترکی کے مسائل کو سرد مہری کا شکار کر رکھا ہے۔ پاکستان افغان امن میں کلیدی کردار اور ایران کے معاملات میں ثالث کی حیثیت سے کافی اہمیت کا حامل ہے جو ترکی کو مشرق اور مغرب میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بہت مفید ثابت ہو گا۔مغرب کا ترکی کی سرحدوں سے مہاجرین کے مسائل کا سامنا ہے۔ پا ک ترک تعلقات مغرب کے لیے بہت سے مسائل کے حل میں کافی معاون ثابت ہو نگے۔ مگر مسئلہ یہ ہے امریکہ دوہرے عدسے سے دیکھنے کا عادی ہے وہ ترکی کو شام اور روس کے عدسے سے جبکہ پاکستان کوچین، افغانستان اور بھارت کے عدسے سے دیکھ رہا ہے۔ ترکی کے سنی رجحان نے ترکی کو سعودیہ اور ایران سے دور کر رکھا ہے۔

ترکی کو اردگان سے کافی فائدہ ملا ہے جبکہ پاکستان کو خان سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ملا خاص طور پر اگر ترکی اور پاکستان میں لیڈران کی عوامی سطح پر بہتر کا موازنہ کیا جائے۔2016کو ترکی کی فوجی بغاوت میں پاکستان نے اردگان کی بھر پور حمایت کی جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں تعلقات کو مزید تقویت ملی۔ دونوں ممالک کے مابین 2022تک باہمی تجارت میں 900ملین سے 10بلین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دونوں ممالک سول ایوی ایشن کے شعبے میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں او ر اس کے ساتھ حال ہی میں سیاحت کے فروغ کے معائدے بھی دونوں ممالک کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہونگے۔ جنرل مشرف مصفطی کمال کو اپنا آئیدیل مانتے تھے اور اس کے بعد کی حکومتوں کی کاوشوں سے لگتا ہے پاکستان بھی ترکی کے ماڈل کو اختیار کر لے گا۔ بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک آذربائیجان، آرمینیااور کشمیر پر ایک دوسرے سے تعاون میں پیش پیش ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے آیا مستقبل میں خان بھی عوام کے لیے اردگان ثابت ہوتے یا خان اور اردگان کا تعاون عوامی بہتر ی کی سطح سے اوپر رہتا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
44734