Chitral Times

Sep 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جشن کا جنون…..پروفیسر ممتاز حسین

Posted on
شیئر کریں:

جشن کسی کامیابی کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ مثلاً جنگ میں فتح کا جشن، آزادی کا جشن۔ زرعی معیشت والے کچھ علاقوں میں قدیم زمانے میں فصل پکنے کے موقع پر جشن منائے جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ کچھ مذاہب میں سالانہ بنیادوں پر رسومات منائی جاتی ہیں لیکن ان کے ساتھ مذہبی تقدس وابستہ ہوتا ہے اس لیے انہیں جشن نہیں کہہ سکتے۔


ہمارے ملک میں جشن کا لفط سب سے پہلے سبی کے میلے کے لیے استعمال ہوا۔ یہ بنیادی طور پر ایک روایتی میلہ ہوتا تھا جہاں لوگ گندم کی فصل کے موقع پر اجناس، مویشیوں اور دوسری اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے جمع ہوتے تھے۔ ایسے میلوں میں کھیل تماشے والے بھی آجاتے ہیں اور مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ ایسے میلے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ ضیاء الحق کے زمانے میں لاہور کے “ہارس اینڈ کیٹل شو” کو قومی میلے کا درجہ حاصل ہوا لیکن اب اس کا ذکر سننے میں نہیں آتا۔


چترال میں میلے ٹھیلے کی کوئی روایت نہیں رہی ہے۔ معلوم نہیں کیسے یہاں پر پولو اور فٹبال کے مقابلوں کو “جشن چترال” کا نام دیا گیا۔ جنرل ضیاء کے دور میں لوگوں کو مشعول رکھنے کا خاص اہتمام ہوا کرتا تھا تاکہ ان کے ذہنوں میں جمہوریت، حقوق جیسے فضول خیالات جگہ نہ لے سکیں۔ اس زمانے میں ہی اس قسم کے علاقائی جشنوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایسا ہی ایک جشن شندور میں 1982 میں منعقد ہوا۔ دوسرے جشن تو اتنے مشہور نہ ہوئے لیکن جشن شندور ایک مستقل ایونٹ بن گیا۔ ہر سال تین دن کے لیے بیس تیس ہزار لوگ شندور میں جمع ہوکر ہلا گلا کرتے۔ کہنے کو تو یہ پولو ٹورنمنٹ ہے لیکن اس میں ٹورنمنٹ والی کوئی بات نہیں۔ گلگت اے ٹیم چترال اے ٹیم سے کھیلے گی، بی ٹیم بی ٹم سے۔ یہاں صرف سیلیکٹڈ کھاڑی ہی پہنچتے ہیں اور نئے ٹیلینٹ کے لیے کوئی موقع نہیں۔ ایک غلط فہمی یہ ہے کہ شندور میں چترال اور گلگت کے درمیاں پولو مقابلوں کی قدیم روایت رہی ہے۔ حالانکہ 1982 سے پہلے ایک صدی کی تاریخ میں صرف تین مواقع پر یہاں پولو کھیلنے کے واقعات کا ذکر ملتا ہے۔


شندور کے مقبول ہونے سے بروغیل میں بھی اسی قسم کی سرگرمی شروع ہوئی اور پھر قالشٹ میں۔ آگے اور لوگ اسی کی پیروی کرکے اپنے اپنے علاقوں میں یہ سلسلہ شروع کریں گے۔ ان سرگرمیوں کا قریب سے جائزہ لیں تو ان میں فایدے کی کوئی بات نطر نہیں آتی بلکہ نقصان ہی نقصان ہے۔ مثلاً:
1۔ دو تین دن کے لیے ہزاروں لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا ماحولیاتی نقطہ نظر سے تباہ کن ہے۔ یہاں کا قدرتی ماحول نہایت نازک ہے۔ نباتات کو آگنے اور اپنی زنگی کا سائیکل مکمل کرنے کے لیے محدود وقت ملتا ہے۔ عین اس وقت جب سبزہ اُگ رہا ہو، اس کو ہزاروں افراد کے پاؤں تلے روندنے کے نتیجے میں یہ سائیکل ٹوٹ جاتا ہے۔ سال بہ سال یہ عمل دھرایا جائے تو نباتات کا وجود مٹتا جائے گا اور یہ علاقہ بالکل بنجر بن جائے گا۔ اس علاقے کی جنگلی حیات کے لیے بھی یہ عمل زہر قاتل ہے۔ اس قدر شور شرابے کی وجہ سے ان علاقوں کے ارد گرد کا وسیع خطہ جنگلی حیات کے لیے ناقابل رہائش ہوچکا ہے۔ ہزاروں لوگ چند دن کے لیے یہاں جمع ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے بڑی مقدار میں کچرا چھوڑ جاتے ہیں جس کی صفائی کا نہ تو کوئی انتظام ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو چند سال کے اندر یہاں کی صورت حال شہروں کے کچرا کنڈی جیسی ہوجائے گی۔


2۔ ان سرگرمیوں کے دوران نشے اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں کی بہتات ہوتی ہے۔ پولیس کے لیے اس قدر بڑے ہجوم میں لوگوں کو چیک کرنا اور غیر قانونی حرکتوں سے روکنا ناممکن ہوتا ہے۔ یوں بھی پولیس زیادہ تر وی آئی پیز کی حفاطت اور پروٹوکول میں مصروف ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ یہاں وی آئی پی سے مراد صرف مہمان خصوصی نہیں۔ ہر چھوٹا بڑا اہلکار وی آئی پی بننے کی کوشش کرتا ہے۔


3۔ عام تأثر یہ ہے کہ ان میلوں کے نتیجے میں سیاحت کو فروع ہوتا ہے اور معاشی سرگرمی بڑھتی ہے۔ بے شک تین چار دن کے لیے یہاں بہت بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں لیکن باقی سارا سال شاید ہی کوئی اس طرف کا رُخ کرتا ہے۔ یہاں کے جتنے پوٹینشل ٹورسٹ ہوتے ہیں وہ پروپیگنڈے کا شکار ہوکر انہی دنوں میں آتے ہیں۔ تین دن میں جتنی زیادہ کاروباری سرگرمی ہو وہ لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ صرف تین دن کے کاروبار کے لیے نہ تو ہوٹل کھل سکتے ہیں اور نہ دکانیں۔ اس کی بجائے اگر یہاں آنے والے لوگوں کا نصف بھی پانچ چھ مہینے کے اندر آجائے تو بڑی معاشی سرگرمی ہوگی۔


4۔ تیس چالیس ہزار کا ہجوم جب ان تنگ وادیوں سے گذرتا ہے تو یہاں کے لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوجاتی ہے۔ ان دنوں سارا کاروبار زندگی ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔ سرکاری ملامین کی ڈیوٹیاں وہاں لگنے کی وجہ سے دفترات بند ہوجاتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر بے انتہا دباؤ پڑتا ہے اور مقامی لوگ کئی دن کے لیے محصور ہوکر رہ جاتے ہیں۔ طبی عملے کی ڈیوٹیاں لگنے کی وجہ سے ہسپتالوں کا کام بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں ہفتوں تک متاثر رہتی ہیں کیونکہ طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد شندور چلی جاتی ہے۔


5۔ روایتی طور پر شندور سے متصل دیہات کے لوگ اس کے وسائل استعمال کرتے تھے۔ یہاں کی محدود آبادی کے لیے یہ وسائل کافی تھے اس لیے ان کے درمیاں کوئی تنازعہ نہیں تھا۔ اب جشن کے انتظام اور اس سے منسلک مالی فواید کی وجہ سے گلگت اور چترال کے درمیان شندور کی ملکیت پر تنازعے اُٹھ رہے ہیں۔ اس تنازعے کی وجہ دونوں علاقے کے لوگوں کے درمیان تلخیاں جنم لے رہی ہیں۔ یہ لوگ صدیوں سے تاریخی، لسانی اور ثقافتی رشتوں میں منسلک رہے ہیں۔ ان تنازعات کی بنیادی وجہ اصل سٹیک ہولڈرز یعنی قریبی دیہات کے باشندے نہیں بلکہ چترال اور گلگت کی سیاسی قیادت اور سرکاری افسر ہیں۔ یہ لوگ مقامی لوگوں کو ان جھگڑوں میں الجھا کر حقیقی مسائل سے دور رکھتے ہیں۔ ایسی مخالفتیں اس سارے ریجن کے لیے تباہ کن ہوسکتی ہیں۔


6۔ اس ایونٹ کے انعقاد کو علاقے کے لوگوں پر حکومت کا احسان بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے جو بجٹ مختص ہوتا ہے وہ سرکاری ملازمین اور سیاسی نمایندوں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ لوگ چند دن سرکاری خرچ پر یہاں یہاں عیش و عشرت کرتے ہیں۔ عوام کے حصے میں گرد وغبار اور پولیس کا لاٹھی چارج آتا ہے۔ وہ ہر سال توبہ کرکے آتے ہیں کہ دوبارہ نہیں جائیں گے، لیکن اگلے سال پھر نکل پڑتے ہیں۔
مندرجہ بالا حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے وقت کی ضرورت ہے کہ ہر قسم کے غیر روایتی میلے ٹھیلے بند کردیے جائیں۔ پولو اس سارے ریجن کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ہے۔ اس کی ترویج کے لیے سارے ریجن کی ٹیموں کے درمیان باقاعدہ ٹورنمنٹ کرائے جائیں جو لیگ یا ناک اؤٹ کی بنیاد پر ہوں۔ یہ ٹورنمنٹ ایک سال چترال، دوسرے سال گلگت اور تیسرے سال اسکردو کے شہروں میں کیے جائیں۔ اس موقع پر دیگر ثقافتی ایونٹ بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ شہروں میں ایسے ایونٹ آسانی سے اور زیادہ با مقصد طریقے سے منظم کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے اس ریجن کے لوگوں کے درمیان رابطے بڑھیں گے اور ہم اہنگی کو فروع حاصل ہوگا۔ شہروں میں ان سرگرمیوں سے معاشی ترقی بھی ہوگی مسائل بھی کم پیدا ہونگے۔ مسائل پیدا ہوئے بھی تو ان سے نمٹنے کے لیے شہروں میں انفراسٹکچر موجود ہوتا ہے۔


شیئر کریں: