Chitral Times

Sep 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ذرا سوچۓ۔۔۔۔۔۔۔حوا کی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔تحریر:ہما حیات، چترال   

شیئر کریں:

     سزا میرے لئے ہی ہے؟ ظلم کی اگ میں جھلسوں؟حوا کے گود سے جنمی تو میں انصاف کو ترسوں؟      کیا کوئی ہے جو مجھ کو دے سکے انصاف، منصف سے؟ وہ تختہ دار پہ لٹکییں؟ یا پھر اس بار بھی لٹکوں؟
         ذہن کی فضا میں یہ گھٹن میرا گلہ یوں دبا رہا ہے کہ سانس لینا مشکل لگ رہا ہے۔ انکھوں میں انسو کاغذ پر لکھے لفظ مجھ سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں اور لرزتے ہاتھ میرے قلم کو بار بار جھٹک رہے ہیں۔ درد دل سے ہوتا ہوا انکھوں میں اتر رہا ہے۔ 

       صنف نازک کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور موٹر وے پر ہونے والے واقعے کے بعد ذہن پر دباؤ اور دل میں ڈر پیدا ہو گیا ہے۔ اور کیوں کر نہ ہو؟ اخر کار اپنی ذات میں میں بھی ایک مکمل بیٹی ہوں۔ اکیلے میں بھی سفر کرتی ہوں۔ اور مجھ جیسی کئی دوسری بیٹیاں بھی۔ لیکن یہاں ہونے والے واقعات نے ہماری شخصیت کو ڈر کے ایسے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے کہ امید کی روشنی مدھم ہو گئی ہے۔ خوف خون میں اترنے کو آرہا ہے۔ 

       بات صرف موٹر وے پر زیادتی کا شکار ہونے والے تین بچوں کی ماں کا ہی نہیں ہے اور نہ ہی معصوم زینب کا ہے بلکہ سب کے گھروں میں موجود گڑیوں کا ہے جو اپ کے گھروں میں خدا کی طرف سے رحمت ہیں۔ ﷲ تعالیٰ نے پوری جنت ماں کے قدموں میں رکھ دیا ہے اور اس کے محبوب نے بھی جاتے ہوۓ  عورتوں کے حقوق کو صاف لفظوں میں بیان کیا ہے۔ لیکن موت تو اس بات پر اتی ہے کہ مجھے پھر بھی اس کے لئے لڑنا پڑتا ہے۔

       کیا میری عزت اور جان کی حفاظت صرف میرے بابا اور بھائیوں کے ذمہ ہے؟ بہادری یہ نہیں ہے کہ اپ وہاں میری حفاظت کریں جہاں مجھے خطرہ نہ ہو بلکہ شجاعت تو یہ ہے کہ اپ وہاں میرا ہاتھ تھام لیں جہاں میں کمزور پڑ جاتی ہوں۔ میرے چادر کی لمبائی و چوڑائی وہاں بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے جہاں میرے اردگرد چار دیواریاں موجود ہوں بلکہ وہاں اس کی نگرانی کریں جہاں میرا دوپٹہ تو زمین پر رینگتی ہے لیکن حواس کی نگاہ میرے پورے وجود کو کپکپا دیتی ہیں۔ 

        سکے کے ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں۔ My body, My choice کے بھی دو پہلو تھے۔ ایک وہ پہلو تھا جیسے اپ نےصرف لباس تک محدود کر دیا اور ایک وہ پہلو تھا جو اس ظلم و ستم کی داستان تھی اور حق کی مانگ تھی۔ اس نعرے کی مخالفت میں جتنی اوازیں ابھری، اگر وہ ان جیسے واقعات پر گونجتی تو شاید ہماری امید باقی رہتی۔

           زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ظلم بھی ہم پر ہو رہا ہے اور غلط بھی ہمیں ہی ٹھرایا جا رہا ہے۔ موٹر وے پر ہونے والے واقعے کا جتنا غم ہے اتنا ہی غم اس سوال کا ہے کہ” وہ اکیلی کیوں تھی؟” 

    سال میں میں بھی تین ،چار بار اپنے گھر جاتی ہوں۔ اور جب بھی جاتی ہوں اکیلی جاتی ہوں۔ ہر بار تو بابا کا ہاتھ تو نہیں پکڑ سکتی۔ کبھی کبھی ڈوپٹہ خود بھی سنبھالنا پڑتا ہے۔ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئےجب  میں اپنے سفر کا اغاز کرتی ہوں تو مجھے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ میں محفوظ ہوں۔ اور یہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کر پاتے ہیں تو اپ خود بتائیں کہ اپ اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہے ہیں یا میں اپنی حد پار کر رہی ہوں؟ کیا مجھے اپنے حقوق کی جنگ کے ساتھ اپنی عزت کے لئے بھی لڑنا ہو گا؟ کیا My body,My choice کے بجائے میںMy war, My strategy کا نعرہ لگاؤں؟ اور جہاں تک سزا کی بات ہے ظالموں کے لئے کوئی رعایت نہیں ہے۔ اگر انھیں کیفرکردار تک پہنچانا انسانیت کی توہین ہے تو روز ہونے والے واقعات انسانیت کا کونسا پہلو ہیں؟ پوچھنے اور بتانے کو تو بہت کچھ ہے لیکن شاعر نے کیا خوب کہا ہے

؂         درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آ سکتےاور پھر ذرا سوچۓ۔۔۔ جہاں میرے عزت کی تحفظ غیر یقینی ہو وہاں میرے قلم سے لکھے الفاظ کے کیا معنی ہونگے؟


شیئر کریں: