Chitral Times

Jul 3, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کورونا ہماری دہلیز پر…..تحریر : سردار علی سردار

شیئر کریں:

                                                                         

پوری دنیا جان چکی ہے کہ کورونا وائرس ایک مہلک بیماری کی صورت میں  لاکھوں انسانوں کو اپنے شکنجے میں لے  چکی ہے اور آئے دن ہزاروں لوگوں کو موت کے منہ میں دکھیل رہی  ہے اور  نظامِ زندگی بھی سکڑ کر متاثر ہوتا جارہاہے،سکول کالج،یونیورسٹیز حتیٰ کہ عبادت گاہیں بھی بندش کا شکار ہیں۔ان ناگفتہ بہ حالات  میں ہر انسان کورونا وائرس کے خوف میں مبتلا ہے اُس کا یہ خوف نہ صرف اُس کی جسمانی حالت کو کمزور کیا ہوا ہے بلکہ اندر ہی اندر سے اُس کی عقلی اور ذہنی سوچ کو بھی بیمار کرکےرکھ دیاہے۔گویا یہ وائرس آج دنیا بھر کے لئے ایک ڈراونا  خواب بن چکا ہے ۔ بڑی بڑی طاقتوں کی نیندیں اُڑ  چکی ہیں۔اُس پر طرہ یہ کہ ایک اور پریشانی  آج کل سوشل میڈیا کی یلغار ہے جو ہر انسان واٹس ایپ ، فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے ایک دوسرے کو جھوٹی خبریں دینے اور لوگوں کو مذید ہراسان کرنے میں لگا ہوا ہےجس کی وجہ سے لوگوں میں اور بھی زیادہ بےچینی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر انسان سنی سنائی اور غیر مستند  خبروں پر یقین نہ کرے بلکہ مصدقہ باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ اپنی جان کی خود  حفاظت  کرنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر کما حقہ عمل کرےاس لئے کہا جاتا ہے  کہ اگر جان ہے تو جہاں ہے ۔

حکما ءنے ہمیشہ انسان کی جسم و جان میں ربط و تعلق اور توازن کو ایک دوسرے کے لئے انتہائی ضروری قرار دیا ہے ۔جسم و جان یعنی روح و بدن  دونوں کی صحت  ہر انسان کے لئے لازمی ہے اگر اس ربط و تعلق میں کسی ایک جانب سے بھی کوتاہی ہو تو یہ دوسرے کی کمزوری کا باعث بنتی ہے گویا دونوں کی بقا ایک دوسرے پر منحصر ہے۔

جاننا چاہئے کہ خداوند تعالیٰ نے اپنے کمال مہربانی سے  اور بہت ہی خوبصورت انداز سے انسان کو تخلیق کرکے یہ زندگی اُسے عنایت کی ہے  جوکہ بہت ہی قیتی اثاثہ ہے ۔لہذا ہر فرد کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے  اور دنیا میں یہ زندگی ہر انسان کو ایک بار ملتی ہے اس کی قدرو قیمت کو سب سے پہلے خود اُسی فرد کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔مگر افسوس کہ آج کل کے جدید دور کے انسان سوشل میڈیا کی گرفت میں مبتلا ہوکر جھوٹی خبروں سے ایک دوسرے پر طنز کے تیر برسارہا ہے ۔کوئی اس کو امریکہ کی سازش قرار دے رہا ہے ،کوئی اس کو مذہبی رنگ دے کر اُمتِ مسلمہ کو ایک دوسرے کے خلاف اکسا نے کی کوشش کر رہا ہے۔میری رائے یہ ہے کہ یہ سب غلط افواہیں ہیں جن پر کان نہ  دھرنے کی ضرورت ہے ۔اس قسم کی وبائیں ماضی میں بھی آتی رہیں ہیں اور کئی انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں اور آج بھی وہی وبا  نہ صرف ہمارے ملک میں داخل ہوچکی ہے بلکہ ہماری دہلیز تک اپنا قدم جما چکی ہے۔

اس وبا کو شکست دینے کے لئے بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ایسی جگہوں پر جانےسے گریز کیا جائے جہاں وبا پھیلی ہوئی ہے ۔کیونکہ اِن دنوں اپنی جان کی خود حفاظت کرنا ہرعقل مند انسان کی ذمہ داری میں شامل ہے۔کہ وہ  بازاروں  یا ہجوم والی جگہوں میں جانے کی بجائے اپنے گھر کے اندر ائسولیٹ ہوجائے۔ اور اپنے بال بچّوں کی عقلی اور علمی تربیت میں ہاتھ بٹاکر اُن کو آنے والے وقت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے بہتر تیاری کے لئے کوشش کی جائے۔اپنے خاندان اور اپنے بال بچوّں کو وقت دے کر اُن کی خدمت بجا لانا بہترین موقع میسّر آیا ہے اس موقع کو ہر گز ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

صحیح مسلم کی روایت ہے نبی کریم ﷺفرماتے ہیں جب پھیلنے والی بیماری آجائے جس سے موت آسکتی ہوتو  آدمی اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور صبرکرتے رہے اس نیت سے کہ ثواب ملے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے زیادہ ثواب دے  گا۔لیکن یاد رکھے کہ اگر کوئی آدمی اپنے گھر میں رہتے ہوئے اُس میں بیماری کے علامات ظاہر ہوں تو وہ لوگوں سے چھپ کر گھر میں نہ بیٹھے رہے۔بلکہ ہسپتال جاکر علاج کرائیں کیونکہ چھپ کر گھر میں بیٹھنےسے یہ بیماری گھر اور محلے والوں تک پھیل جائے گی اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔صحیح مسلم کی یہ بھی  روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں ۔کوئی بیمار کسی صحت مند آدمی سے ملاقات نہ کرے۔ جب ثقیف کا ایک وفد رسول ﷺسے بیعت کرنے کی نیت سے آیا تو اُن میں ایک شخص متعدی بیماری میں مبتلا تھا تو نبی کریم ﷺ نے  اُس سے ہاتھ ملائےبغیر اُس کو فارع کردیا اور فرمایا کہ ہم نے تمہاری بیعت قبول کرلی ہے۔

 عقل مند انسان کو معلوم ہے کہ اس وبا کا نہ کوئی دوست ہے، نہ مذہب ہے ، نہ علاقہ ہے ، اور نہ ہی یہ کسی  بزرگ   کو دیکھتا ہے  اور نہ ہی کسی مومن  مسلمان کو۔یہ چھپا دشمن جب چاہے اپنی تلوار چلاتا  رہتا ہے ۔ جیسا  کہ تاریخ بتاتی ہے  کہ ماضی میں بھی وبائیں آتی رہی ہیں جس میں  زیادہ تر نیکو کار اور عبادت گزار مومنین وفات پاچکے ہیں۔کہتے ہیں کہ پانچویں صدی میں قرطبہ میں ایسی وبا آئی کہ سارے نیکو کار اور دیندار لوگ وفات پاگئے جس کی وجہ سے مسجد میں نماز پڑھنے والا کوئی نہیں بچا۔حالانکہ وہ آج کل کےمسلمانوں سے بدرجاہا بہتر اور باعمل مسلمان تھے پھر بھی وہ وبا میں مبتلا ہوکر زندگی کے بازی ہار گئے۔اور اب بھی جو وبا پھیلی ہے اس میں بھی کافی حد تک نیکو کار اور تبلغی جماعت میں نکلے ہوئے دیندار لوگ وفات پاچکے ہیں۔ ان تمام حقائق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی بھی دوست نہیں وہ جب چاہے اپنا دائرہ پھیلاتا رہتا ہے ۔اُس کے حملے سے وہ لوگ بچ پائیں گے جو احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوں۔ مگر افسوس کہ  معاشرے کے اکثر لوگ  نہ صرف قانون کو پامال کرتے ہیں  بلکہ اُلٹا  اُن لوگوں پر تماشہ کرتے ہیں جو احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہیں۔اس غیر یقینی کیفیت سے معاشرے میں عدم اعتماد پیدا ہوجاتا ہے اور قانون پر مشترکہ طور پر عمل نہ ہونے سے مسائل جنم لیتے ہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے بار بار قانون پر عمل کرنے کی تاکید کی جائے  اور نہ کرنے کی صورت میں سزا بھی متعین کی جائے تاکہ سب مل کر کورونا جیسے خطرناک وبا کو شکست دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ معاشرے  کے علماء کرام   اور آئمہ مساجد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی تقاریر اور خطبوں میں  اس بات کو یقینی بنائیں  کہ کورونا وائرس ایک حقیقت ہے جس سے ہمیں اپنے اپکو ہر طرف سے  محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے۔ عمل نہ کرنے کی صورت میں بہت بڑا نقصان ہوگا جس کا واضح ثبوت ہر روز ہم ٹی وی میں دیکھتے ہیں کہ اب تک پاکستان میں ایک لاکھ چھ ہزار سے ذیادہ لوگ متاثر  ہوکر پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جبکہ چار ہزار سے زیادہ افراد وفات پاچکے ہیں اور ہر روز اموات کی تعداد بڑھتی چلی جاری  ہے ۔ یہ سب لوگ کسی نہ کسی طرح لوگوں سے ملنے کی صورت میں متاثر  ہوکر بیمار  ہوچکے ہیں یا موت کے آغوش میں جاچکے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ علمائے کرام  اور آئمہ مساجد کی  بار بار تاکید اور رہنمائی سے معاشرے کےبہت سے  لوگ اس وبا سے احتیاط کرنے کی صورت میں بچ جائیں گے کیونکہ ایک انسان کی جان کی حفاظت پوری انسانیت کی حفاظت ہے جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے۔ وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا( 5.32)

جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا وہ پوری انسانیت کی جان بچائی۔

یہ آیت ہر دانش مند مسلمان کو یہ دعوتِ فکر دیتی ہے کہ ہمیں نہ صرف اپنی جان کی  خود حفاظت کرنی ہے بلکہ معاشرے کے تمام انسانوں کی جانوں کی حفاظت کے لئے احتیاطی تدابیر پر کما حقہٗ عمل کرنا ہے ۔تھوڑی سی بھی غفلت ہماری زندگی کے لئے وبالِ جان بن سکتی ہے۔اور بعد میں پیشمانی اور ندامت کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ۔ ہمیں یاد ہے کہ چترال میں محترم جناب شہاب الدین جب پہلی دفعہ کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے تو سب لوگ پریشان ہوگئے، اُ نکی نیندیں  حرام ہوگئیں اور وہ  اپنے گھروں م میں محصور ہو کر رہ گئے اور احتیاطی تدابیر پر سختی سےعمل کرنے لگے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع میں دوسو کے قریب کورونا کے مریض   ہیں۔اور اب ذیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اپر چترال میں  بھی بہتّر کے قریب کورونا کے مریض  بونی امامی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اس لئے  وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ کورونا  ہماری دہلیز تک آپہنچاہے  جس کے نتیجے میں اپر چترال کے تین خوبصورت گاؤں یعنی ریشن،کوراغ اور بونی کے مخصوص دیہات   حکومت کی طرف سے وبا پھیلنے کی وجہ سے سیل کردیئے گئے ہیں جنہیں ہم روز اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان تمام خطرات سے سبق لینے کے بجائے  ہم پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔ روز شادی بیاہ  اور دوسری تقریبات میں بھر پور شرکت کرتے ہیں ۔حالانکہ ہمیں پہلے سے زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت ہے  اور توبہ و استغفار کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر بھر پور طریقے سے عمل پیرا ہوناچاہئیے ۔اس وقت کسی پربھی  نہ  طنز کرنے کا وقت ہے اور نہ قانون کی دھجیاں اُڑانے کا ۔ خدا را اس وبا کو اب بھی سنجیدہ لیجیے ۔ قانون پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی فاصلوں پر  بھر پور طریقے سے عمل کیا جائے۔ اور اپنے اپکو اپنے گھر کے اندر محفوظ رکھئیے تاکہ ہم سب کی جان بچ سکے۔

معاشرتی زندگی میں جسمانی اور سماجی فاصلوں کا خیال رکھنا بہت ہی مشکل کا م  ہوتا ہے ۔کسی نہ کسی کام کے بہانے باہر جانا اور اپنا کام خود کرنا لازمی امر ہے۔تو ایسی صورت میں  چاہئے کہ کسی سے مصافحہ بلکل نہ کیا جائے صرف اسلام علیکم کہہ کر اگے نکلنے کی کوشش کی جائے کیونکہ سلام سےبڑھکر  متبرک  دُعا  اور کہیں نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ مصافحہ کرنا سنت ہے اور ہمیں اس عظیم سنت پر عمل کرنا چاہئے لیکن یاد رکھے کہ اس وقت مصافحہ نہ کرنا سنت ہے کیونکہ اس سے وبا کے پھیلنے کا قوی امکان ہے۔

“غرناطہ کے ایک مشہور مسلمان دانشور اور طبیب ابن الخطیب اپنے سائنسی نظریئے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وبائی مرض کا وجود تجربات سے اور حواسِ خمسہ کے شواہد کے مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ  وبا لوگوں کے ذریعے اور متاثرہ علاقوں کے سفر کے ذریعے پھیلتی ہے جبکہ الگ تھلگ رہنے  والے لوگ مرض سے محفوض رہتے ہیں”۔    (کاوش ، ذوالفقار علی جیسانی ص 144 اپریل 2007)  

لیکن معاشرے کے اکثر افراد  حکومت کی تنبیہ اور صحت کے اداروں کی طرف سے تمام تر کوششوں کے باوجود بازاروں میں گھوم رہے ہیں،شادی بیاہ کی تقاریب میں پہلے سے کہیں زیادہ شرکت کرکے قانون کی دھجیاں اُ ڑارہے ہیں، لطیفوں اور قہقہوں سے محفل کو خوب گرما  رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ہے حالانکہ چھپا دشمن وار کرنے کے لئے تیار ہے اور ہم بےخوف اپنی دنیا میں مست ہاتھی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔عقلمند انسان اس وبا سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے اور دوسروں کو بھی سبق دے سکتا ہے مثال کے طور پر یہ وبا خدا کی طرف سے ایک عظیم آزمائش ہے اس میں صبرو تحمل اور قوتِ  برداشت کی اشد ضرورت ہےتاکہ انسان اپنے ناکردہ گناہوں سے توبہ و استغفار کرکے خدا سے بخشش طلب کرکے اپنی زندگی پھر آباد کرسکتا ہے۔اس وبا سے یہ سبق ہمیں ملتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی بنانے والا قادرِ مطلق موجود ہے جس کے ایک ہی اشارے سے ناممکن ممکن میں بدل جاتا ہے ۔مثلاََ ایک چھوٹا سا وائرس پوری دُنیا کی نیندیں حرام کرکےکئی لوگوں کو موت  کے منہ میں دھکیل چکا ہے۔لیکن ان تمام تباہیوں کے باوجود  اس وائرس کو ختم کرنے کے لئے امریکہ جیسا سپر پاور بھی بےبس نظر آتا ہے۔یہ تمام حقائق ہر ذی عقول انسان کو دعوتِ فکر دیتی ہیں کہ خدا اگر چاہے تو غرور اور تکبر کا سر نیچا دیکھانے  میں دیر نہیں لگادیتا ۔اس لئے ہمیں خدا کی قدرتِ کاملہ پر بلاشک و شبہ ایمان رکھتے ہوئے اپنے اپکو اُس ذات کا فرمان بردار ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کے بندوں سے حسنِ سلوک، رواداری اورمساوات کا درس دینا چاہئے۔اسی میں ہماری نجات ہے اور خدا کی رضا بھی۔کیا خوب فرمایا الطاط حسین حالی ؔنے۔

یہی ہے عبادت یہی دین و ایمان

کہ کام آئے دُنیا میں انسان کے انسان۔

بلاشبہ انسانی زندگی پھولوں کی سیج نہیں  ہے ۔ یہاں غم اور دکھ آتے رہتے ہیں جو انسان کی سیرت سازی میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔جو اس کے اندر اس رنج و غم کو سہنے کی ایک طاقت پیدا کر  کے  اُس کو   خدا کے ساتھ پھر سے  اپنے رشتے کو مضبوط کرنے کا ایک زرین موقع دیتے ہیں  اور اُسے یہ یقین  دلاتے ہیں کہ جس طرح یہ زندگی فانی ہے اسی طرح یہ مصائب اور تکالیف بھی عارضی اور فانی ہیں۔نیز ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ میری رائے  کے مطابق  یہ خدا کی طرف سے ایک آزمائش ہے جس پر ہمیں صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا یقیناََ  ہر تکلیف کے بعد خوشی اور راحت میسر آنا قدرت کے قانون میں شامل ہے۔ یاد رہے کہ اللہ کی رحمت اس کائنات سے ختم نہیں ہوئی ہے وہ رحمان ہے رحیم ہے  اُس کی رحمانیت کی انتہا نہیں ۔ وہ جب چاہے ناممکن کو ممکن بنا نے میں دیر نہیں لگاتا ۔ہمیں اس کی رحمانیت سے نااُمید نہیں ہونا ہے کیونکہ یہ اس  کا اپنا وعدہ ہے  ۔ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ یعنی اللہ تعالیِٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔    (39:53)

اللہ کی رحمت اب بھی اس دُنیا میں موجود ہے اُس کی رحمت سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے ہمیں خدا کے بندوں کے ساتھ حسنِ سلوک ، رواداری اور رحم دلی سے پیش آنا چاہئے۔بے سہاروں کی مدد کرتے ہوئے اللہ سے اپنی اور تمام انسانوں کی صحت و تندرستی کے لئے دُعا اور عبادت و بندگی کا سہارا لینا چاہئے۔کیونکہ ہماری زندگی کا مقصد نئے نئے مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے حالات کا سامنا کرناہےتاکہ ہر آنے والی صبح ہمارے لئے کوئی نہ کوئی نوید لے کر  نمودار ہو ۔ہمیں اُس کا انتظار کرنا ہے ۔ اس وبا کو ہم شکست دے سکتے ہیں اگر ہم حکومتی اقدامات کو اپنے لئے لائحہ عمل بناکر اپنی جان کی حفات خود کریں  ،اسی میں ہم سب کی بقا کا راز مضمر ہے۔


شیئر کریں: