Chitral Times

May 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نحج البلا غہ، توحید الہی اور انسان کا کردار……….. محمداٰؐمین

Posted on
شیئر کریں:

نحج البلاغہ کے خطبہ نمبر 83 میں آمیروالمومنین جناب علی ابن ابی طالب کا وہ مشہور خطبہ درج ہے جس میں آپ جناب نے اللہ سبحا نہ تعالیٰ کے توحید اور اس کی روشنی میں انسان کی ہداہت اور گمراہی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور فرماتاہے.
.
،،میں گواہی دیتا ہوں کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نیہں جو یکتاؤ لاشریک ہیے وہ اول ہے اس طرح کہ اس کے پہلے کوئی چیز نیہں وہ اخر ہے۔ نہ اس کے اجزاء ہیں کہ اس کا تجزیہ کیا جاسکیں اور نہ قلب و چشم اس کا احاطہ کرسکتے ہیں۔وہ دل کی نیتوں اور اندر کے بھیدون کو جانتا پہچانتا ہے اور وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہیں اور ہر چیز پر چھایا ہوا ہے اور ہر چیز پر اس کا زور چلتا ہے وہ علم و قادر ہیں۔
.
لوگو:اللہ نے اپنی کتاب میں جن چیزوں کی حفاظت تم سے چا ہی ہے اور جو حقوق تمہارے زمے کیے ہیں ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو اس لیے کہ اللہ سبحانہ نے تمہیں بیکار پیدا نیہں کیا اور نہ اس نے تمہیں بے قیدو بند جہالت و گمراہی میں کھلا چھوڑ دیا ہے اس نے تمہارے کرنے اور نہ کرنے کے اچھے اور برے کام تجویز کردیے اور پیغمبر کے زریعے سکھادیے ہیں اس نے تمہاری عمریں لکھ دی ہیں اور تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں ہر چیز کا کھلا کھلا بیان ہے اور اپنے نبیؐ کو ذندگی دیکر مدتوں تم میں رکھا ،یہاں تک کہ اس نے اپنی اتاری ہوئی کتاب میں اپنی نبیؐ کے لیے اور تمہارے لیے اس دین کو جو اسے پسند ہے کامل کردیا۔اور اس کی زبان سے اپنی پسندیدہ اور ناپسند افعال اور اپنے اوامرونواہی تم تک پہنچائے۔
.
اللہ کے بندو :اللہ کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ وہ بندہ محبوب ہے جس سے اس نے نفس کی خلاف ورزی کی طاقت دی ہے اور خوف اس پر چھایارہتاہے اس کے دل میں ہدایت کا چراغ روشن ہے اور انے والے دن کی مہمانی (موت) کا اس نے تہیہ رکھا ہے اور سختیوں کو اپنے لیے اسان سمجھ رکھا ہے دیکھتا ہے تو بصیرت و معرفت حاصل کر لیتا ہے وہ اس سرچشمہ ہدایت کا شرین و خوشگوار پانی پی کر سیراب ہوا ہے جس کے گھاٹ تک (اللہ کی رہنمائی سے) وہ بااسانی پہنچ گیاہے۔ وہ گمراہی کی حالت اور ہوس پرستوں کی ہوس رانیوں میں حصہ لینے سے دور رہتا ہے وہ ہدایت کے ابواب کھولنے اور ہلاکت و گمراہی کے دروازے بند کرنے کا زریعہ بن گیا ہے اس نے اپنا راستہ دیکھ لیا ہے اور اس پر گامزن ہے کیونکہ وہ ہدایت کے مینار کو پہچان لیا ہے محکم وسیلوں اور مظبوط سہاروں کو تھام لیا ہے اور یقین کی وجہ سے ایسے اجالے میں ہے جو سورچ کی چمک دمک کے مانند ہے وہ دین میں خدا کا معدن اور اس کی زمین میں گڑی ہوئی میخ کی طرح ہے اس نے اپنے لیے عدل کو لازم کیاہے چنانچہ اس کے عدل کا پہلا قدم خواہش کے نفس سے اپنے اپکو دور رکھنا ہے۔ حق کو بیاں کرتا ہے اور اس پر دل وجان سے عمل کرتا ہےاس نے اپنی بھاگ دوڑ قرآن کے ہاتھوں میں دے دی ہے وہی اس کا رہبر اور وہ ہی اس کا پیشوا ہے۔
.
اس کے علاوہ ایک دوسرا شخص وہ ہوتاہے جس نے (زبردستی) اپنا نام عالم رکھ لیا ہے حالانکہ وہ عالم نیہں ہے اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہیوں کو بٹور لیا ہے قرآن کو اپنی رائے پر اور حق کو اپنی خواہشات پر ڈھالتا ہے ۔بڑے بڑے جرموں کا خوف لوگوں کے دلوں سے نکال دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کی اہمیت کو کم کرتا ہے کہتا تو یہ ہے کہ یہ شبہات میں توفق کرتا ہے حالنکہ انہی میں پڑا ہوا ہے اس کا قول یہ ہے کہ میں بدعتوں سے الگ تھلک رہتا ہوں۔حالانکہ انہی میں ان کا اٹھنا بیٹھنا ہے صورت تو اس کی انسانوں سی ہے اور دل حیوانوں کا سا۔ نہ اسے ہدایت کا دروازہ معلوم ہے کہ وہاں تک اسکے رسائی ہو اور نہ گمراہی کا دروازہ پہچانتا ہے کہ اسے اپنا رخ موڑ سکے۔یہ تو زندوں میں چلتی پھرتی لاش ہے ۔حالانکہ ان کے درمیاں نبیؐ کی عترت موجود ہے جو حق کی باگیں ،دین کے پرچم اور سچائی کی زبانین ہیں جو قرآن کی بہتر سے بہتر منزل سمجھ سکو وہی انہیں بھی جگہ دو اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سرچشمہ ہدایت پر اترو۔
.
اے لوگو؛خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے اس ارشاد کو سنو کہ (انہوں نے فرمایا) ہم میں سے جو مرجاتا ہے وہ مردہ نیہں ہے اور ہم میں سے جو بضاہر مرکر بوسیدہ ہوجاتاہے وہ حقیقت میں کبھی بوسیدہ نیہں ہوتا ۔جو بات تم نہ جانتے ہوان کے معتلق زبان سے کچھ نہ کہنا اس لیے کہ حق کا بیشترحصہ انہیں چیزوں میں ہوتا ہے کہ جن سے تم بیگانہ اور نااشنا ہو۔(جس شخص کی تم پر حجت تمام ہو) اور تمہاری کوئی حجت اس پر تمام نہ ہو اسے معذور سمجھو اور وہ میں ہوں کیا میں نے تمہارے سامنے ثقل اکبر (قرآن) پر عمل نیہں کیا اور ثقل اصغر (آہل بیت) کو تم میں نیہں رکھا ۔میں نے تمہارے اندر ایمان کا جھنڈا نیہں گاڑا، حلال و حرام کی حدود بتائیں اور اپنے عدل سے تمہیں عافیت کے جامے پہنائے اور اپنے قول و عمل سے حسن و سلوک کا فرش تمہارے لیے بچھائے اور تم سے ہمیشہ پاکیزہ اخلاق کے ساتھ پیش ایا ۔جس کی گہرایئوں تک نگاہ نہ پہنچ سکے اور فکر کی جولانیاں عاجز رہیں اس میں اپنی رائے کو کارفرما نہ کرو۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
28963