Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہم ہی ہیں۔۔!……………….شاہ عالم علیمی

Posted on
شیئر کریں:

ایک مشہور شخصیت کہتی ہے کہ میں بڑا نالائق تھا مجھے کوئی بھی بات بڑی دیر سے سمجھ آتی تھی، پھر ایک دن میرے استاد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا؛ دیکھو آہستہ چلو لیکن چلتے رہو، کسی معمے کسی مسلے پر غور کرو چاہئے اسے سمجھنے میں دن لگے یا ہفتے، اپنی صلاحیتوں پر بروسا رکھو، اپنا دماغ استعمال کرتے رہو سوچو کہ سوچ ایک منفرد عمل ہے دنیا بدل دیتی ہے؛ وہ شخصیت کہتی ہے کہ میں نے اپنے استاد کے ان باتوں پر عمل کیا اور اج میں اپنے وقت کا جنئیس ہوں۔ ایک اور ال ٹائم جنئیس کا کہنا ہے کہ تخیل علم سے بہتر ہے، تخیل سے اپ کائینات کے کونے کونے کا سفر کرسکتے ہیں اور محدود علم میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ بے شک ایک کتاب ایک قلم ایک بچہ دنیا بدل سکتے ہیں بشرطیکہ صیح راستے پر ہوں۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ ایک استاد اور ایک مدرسہ یا تو طالب علم کو سیدھے راستے پر ڈال سکتے ہیں یا گمراہ کرسکتے ہیں۔

بھائی عمران خان (وزیراعظم صاب نہیں میرا فیس بک دوست) نے مسیج کرکے پوچھا ہے کہ “حالیہ بارشیں خود بخود نہیں ہوئی ان کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے؛ اس کا کہنا ہے کہ چونکہ ہماری گندم کی فصلیں پک کر تیار ہوچکی تھی سو امریکہ نے ان کو تباہ کرنے کے لیے ہارپ ٹیکنالوجی استعمال کرکے بارش برسایا تاکہ ہماری فصلیں تباہ ہوجائیں اور ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچیں، ہماری ترقی اور بہتری امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں”۔

دیکھیں میرے بھائی اپ کی بات صیح بھی ہوسکتی ہے بھلے ہم جیسے محنتی ایماندار سائنس و ٹیکنالوجی کی ایکسپرٹ اور ایڈوانس قوم سے امریکہ حسد نہیں کریگا تو اور کون کریگا۔ یہ ہم ہی تھے جنھوں نے پانی سے گاڑیاں بلکہ ٹرینیں چلانی تھی لیکن مردود امریکہ نے ہماری پانی والی ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ سائنسدان کو ہی غائب کردیا اج کئی سال گزر گئے ہمارے سائنسدان کا کوئی آتہ پتہ نہیں شاید امریکہ اور یہود نصارا نے دوسرے لوگوں کی طرح اسے بھی مِسنگ پرسنز میں شامل کرلیا ہے۔ اور اپ کو یاد ہوگا یہ ہمارا خلائی ادارہ سپارکو SUPARCO ہی ہے جس نے چاند پر کامیاب لینڈنگ کرنے کے بعد مریخ پر بھی خلا نورد اتارنا تھا لیکن نامراد امریکہ نے اسے بھی خلا میں سنگلاخ تاریں بچا کر ناکام بنا دیا۔

نظام شمسی کو پار کرنے والے وائجر ون اور ٹو جہاز ہمارے ہی تھے لیکن سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے سویت یونین کو نیچا دیکھانے کے لیے یہ جہاز ہم سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر مانگ کر لیا گیا تھا اور ساتھ میں ماں قسم دلایا تھا کہ کسی کو بتانا نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی تمہاری ہے بولنا یہ امریکہ کی اپنی ہے ورنہ ہماری بہت بے عزتی ہوگی۔ اج ایلن مسک کے سپیس ایکس سے لیکر رچرڈ برینسن کے ورجن تک ہماری ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔ ورنہ ان دو نالائقوں کی بس میں نہیں کہ ہماری ٹیکنالوجی اور ہمارے سائنسدانوں کے بیغیر چاند اور مریخ پر تفریح گاہیں تعمیر کرسکے راکٹ کو واپس زمین پر لینڈ کراسکے۔ ایک دو سال پہلے یہ ہم ہی تھے جنھوں نے ایک ساتھ ایک سو چار سٹیلائیٹس کو خلا میں کامیابی سے پھینک آئیں۔ ابھی چند مہینے پہلے کا قصہ ہے ہم نے چاند پر جہاز کو لینڈ کروایا وہاں پر انسانی تاریخ میں پہلی بار پودا اگانے کا تجربہ کیا۔ پودا جرمینیٹ یعنی اُگ ایا تھا لیکن پھر یہ سوچ کر مرجھا گیا کہ نامراد مردود امریکہ یہاں آکر بھی بارشیں برسائے گا اور میری نسل کو پاکستانیوں کی طرح خراب کریگا۔

ایک انسان کا سر دوسرے انسان میں لگانے سے انسان کا دماغ بندر کو ٹرانسفر کرنے تک، جینیٹک انجیئرنگ کے زریعے سے ڈی این اے میں تبدیلی کرکے سپر ہیومن بنانے سے فائیو جی ٹیکنالوجی تک، بلٹ ٹرین چلانے سے سپر سونک جہاز چلانے تک، یہ ہم ہی ہیں۔ ارٹیفشیل انٹلیجنس AI کے میدان میں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں، یہی وجہ ہی کہ ہمارے کالجوں یونیورسٹیوں اور مدرسوں میں ربوٹ ہی پڑھاتے ہیں۔ دنیا سے کتنی ہی خطرناک بیماریوں کا خاتمہ ہماری ایجاد کی ہوئی دوائیوں کی وجہ سے ممکن ہوسکا؛ ہم ہی تھے جنھوں نے انسولین ایجاد کی ، اور پولیو جیسی بیماری کا خاتمہ بھی پر ہی ہونا باقی ہے۔ ان سب باتوں کو چھوڑئیے یہ سب حال ہی کی باتیں ہیں اب ہماری امیدیں اور بھی زیادہ ہیں کیونکہ ہم نے فواد چوہدری جیسے جنئیس اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہر کو وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنایا ہے، اگے اگے دیکھیں۔۔۔

قدیم زمانے سے ہم باقی دنیا سے بہت آگے ہیں؛ پرنٹنگ پریس ہم نے ہی ایجاد کیا تھا، نئی دنیا کو ہم نے ہی دریافت کیا تھا۔ تھری لاز اف موشن ہمارے ہی سائنسدان نے دریافت کیا تھا جو غزنی کا رہنے والا تھا۔ تھیوری اف ریلیٹیویٹی Relativity بھی ہم نے دریافت کیا تھا اور بھی بہت سارے اہم کام کرنے والے ہم ہی تھے۔ پر افسوس اج دنیا مانتی نہیں ہے اور ہاتھ دھوکر ہمارے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ دنیا ہے ہی یہود نصارا کی بھلے ہم تھوڑے رہتے ہیں یہاں، سو دنیا کبھی بارشیں برسا کر ہماری فصلیں تباہ کررہی ہے اور کبھی دھماکے کرکے کوئیٹہ میں ہمارے لوگوں کو مار رہی ہے۔ کبھی بسوں سے نیچے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر زبح کررہی ہے تو کبھی نامعلوم افراد بن کر ہمیں غائب کررہی ہے۔

میرے پیارے عمران؛ افسوس یہ نہیں ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ یہ نامراد امریکہ ہارپ یا شارپ یا جو بھی ٹیکنالوجی ہے اس کی مدد سے ہمیں تو تباہ کررہا ہے لیکن خود اپنی پانی کو ترستی ریاست کیلیفورنیا پر بارش نہیں برسا رہا جو پچھلے کئی سالوں سے خشک سالی کی وجہ سے آگ لگ لگ کر راکھ ہوچکا ہے۔ ہماری ایڈوانس ٹیکنالوجی تو استعمال کررہا ہے لیکن فریادی بن کر ہم مانگ مانگ کر تھک گئے پر چند ایف سولہ جہاز ہمیں نہیں دے رہا۔اب اپ ہی بتائیں کہ ایسے ملک کے ساتھ کیا کیا جائے۔ اور اپ کو اس بات کا بھی علم ہے کہ ہماری جن فصلوں کو بارش برسا کر تباہ کررہا ہے ان کو اگانے میں بھی اس کا کوئی خاص ہاتھ نہیں بس صرف یہی کوئی پچاس ساٹھ برس کا ہے۔ یو ایس ایڈ کے زریعے صرف چند ارب ڈالر ہماری فصلوں اور کسانوں پر خرچ کرچکا ہے۔ اچھا کام کرنے والے اور مثبت سوچنے رکھنے والے ہم ہی ہیں، ہم ہی!!


شیئر کریں: