Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کچھ تو ادھر بھی …………محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خبر آئی ہے کہ بہاول نگر کا ایک غریب مزدور راتوں رات چار ٹیکسٹائل ملوں کا مالک بن گیا۔ نجی اسٹیٹ کمپنی میں ماہانہ پندرہ ہزار روپے کی تنخواہ پر کام کرکے کرائے کے دو کمروں پر مشتمل گھر میں رہنے والے سلیم فیروز بھٹی کو اس وقت اپنے کروڑ پتی ہونے کا علم ہوا۔ جب ایف بی آر والوں نے انہیں ٹیکس جمع کرانے کا نوٹس بھیج دیا۔ قبل ازیں کراچی کا فالودہ فروش، جھنگ کے سرکاری سکول کا طالب علم، ٹنڈو محمد خان کا دھوبی اور لاہور کا رکشہ ڈرائیور کروڑ پتیوں کی صف میں آچکے ہیں۔ پشاور کے ایک اسپتال کی خاتون ٹیلی فون آپریٹر بھی راتوں رات کروڑ پتی بننے والوں میں شامل ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے خلاف فائلوں کی پوری گٹھڑی کھول دی گئی ہے۔ کروڑ پتیوں کی اس فہرست میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ بعض لوگ روزانہ کی بنیاد پر اپنے بینک اکاونٹ چیک کرنے لگے ہیں کہ ان کے اکاونٹ میں کسی مخیر نے لاکھوں کروڑوں روپے جمع تو نہیں کروائے۔ کچھ لوگ شیخ چلی کی طرح راتوں رات کروڑ پتی بن کر اس غیبی امداد سے پراپرٹی، گاڑیاں خریدنے اور غیر ملکی کرنسی کا کاروبار شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا۔ کہ جن لوگوں کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے منتقل کئے گئے ہیں۔ اس میں سے انہیں کچھ ملے گا یا نہیں۔ اور چار ٹیکسٹائل ملوں کا مالک بننے والا سلیم اسٹیٹ ایجنسی میں ہی مزدوری کرتا رہے گا یا ایک آدھ فیکٹری اسے انعام کے طور پر دی جائے گی۔ایجنسیاں اور سرکاری ادارے ہنوز عوام کو نہیں بتارہے کہ غریبوں کے اکاونٹس میں کروڑوں روپے جمع کرانے والے حاتم طائی کون ہیں۔ اس دولت کو غریبوں سے چھین کر کہاں لے جایاجائے گا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہ غیبی امداد وہ دولت ہے جو متمول لوگ ملک سے باہر لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن پابندیاں سخت ہونے کی وجہ سے انہیں گمنام لوگوں کے نام پر چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اگر کسی نے نیک نیتی اور خوف خدا کے جذبے کے تحت اپنی دولت غریبوں پر لٹانے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو ایسے غریب پرور لوگوں کے بارے میں سب کو پتہ چلنا چاہئے تاکہ دوسرے دولت مند وں میں بھی غریب پروری کا جذبہ پیدا ہوسکے۔جو بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ کچھ لوگ خاموشی سے نیکی کرنے کے عادی ہوتے ہیں تاکہ ایک ہاتھ سے دیدیں تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ ایسے مخیر اور خداترس لوگوں کی معاشرے میں کمی نہیں۔ شاید معاشرے کا نظام بھی ایسی ہی شخصیات کی بدولت چل رہا ہے۔ وگرنہ یہاں ہر چوک پر سفید پوش لٹیرے کھڑے ہیں جو ہماری ہی جیب کاٹ کر اس میں سے چند ٹکے ہمیں انعام کے طور پر دیتے ہیں تو ہم ان کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ اب اگر انہوں نے پکڑے جانے کے ڈر سے لوٹی گئی دولت غریبوں کے اکاونٹس میں ڈالنا شروع کیا ہے تو اس رجحان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ ایف بی آر اور ایف آئی اے والے یوں پے در پے ان پر یلغار کریں گے تو نیکی کا یہ کام ختم ہونے کا خدشہ ہے۔اس ملک میں ہزاروں لاکھوں ڈاکو موجود ہیں اور ہزاروں گذر چکے ہیں لیکن سلطانہ ڈاکوکا نام آج بھی غریب لوگ بڑی عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امیروں کو لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتی تھی ۔جن لوگوں کو سلطانہ نے لوٹا تھا۔ وہ لوگ سلطانہ کے اس عمل کو سراسر زیادتی ، ظلم اور ڈاکہ قرار دیتے ہیں لیکن لوٹے گئے مال سے جن کے چولہے جلتے تھے وہ اسے نیکی اور عین عبادت قرار دیتے تھے۔ بہتر ہے کہ نیکی بدی، گناہ ثواب،سزا و جزا، جنت و دوزخ اور حساب کتاب کا کام اللہ تعالیٰ پر چھوڑدیا جائے۔ اور اپنے دامن کے داغ صاف کرنے پر ساری توجہ مرکوز رکھی جائے تو ہمارے بہت سے معاشرتی اور معاشی مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں۔ فتووں کی دکانیں بند کرکے اگر ہم اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانا اپنا مشن بنالیں تو ہماری دنیا اور عاقبت سنور سکتی ہے۔ شاعر کی یہ نصیحت کا تذکرہ تو ہم اپنی تقریروں کو جذباتی بنانے کے لئے اکثر کرتے ہیں کہ ’’ کرو مہربانی تم اہل زمین پر۔ خدا مہرباں ہوگا،عرش برین پر‘‘ لیکن اہل زمین پر زمین تنگ کرنے کے سوا ہمیں کوئی کام نہیں آتا۔ نیتوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ اگر قومی وسائل لوٹنے والوں نے گڑگڑا کر اللہ نے معافی مانگ لی ہے اور گناہوں کے کفارے کے طور پر کسی غریب کے اکاونٹ میں کچھ پیسے ڈالتے ہیں تو کسی کے پیٹ میں مروڑ نہیں اٹھنی چاہئے۔ مخیر خواتین و حضرات کی نظر التفاف کے ہم جیسے ہزاروں بھی منتظر ہیں۔ ’’ اوروں کی طرف پھینکتے ہیں گل بلکہ ثمر بھی۔ اے خامہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی۔۔۔


شیئر کریں: