Chitral Times

Oct 18, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال میں بڑھتی ہوئی خودکُشی کے واقعات اور ہماری ذمّہ داریاں…….وقارعظیم چترال

    August 9, 2018 at 10:54 pm

    آ ج چترال ٹائمز میں نوجوانون طلباؤطالبات کو کم نمبرز حاصل کرنے پر خود کشی کرنے کی خبر پڑھ کربہت دکھ ہوا۔ اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑہے کہ خودکشی کرنے والے جاہِل نہیں بلکہ ہمارے ہی تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباؤطالبات ہیں۔کیا ہم لوگ اپنے آنے والے نسل کی تربیت کرنے میں بالکل ناکام ثابت ہو رہے ہیں؟کیا ہماری قیمتی زندگیوں کامقصد صرف اورصرف امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبرز لینا ہے؟ کیا وہ لوگ جو دنیا کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، خاص طورپر ہمارے اپنے ملک کی، ا ور تعلیم سے عاری ہیں، انہیں عزّت سے جینے کا کوئی حق نہیں؟ کیا تعلیم کا مقصد صرف اعلٰی گریڈز کا حصول ہے؟
    اللہ تبارک وتعالٰی نے ہر انسان کو اُس کی استعدادکے مطابق اَ ن گنت صلاحیتیوں سے نوازاہے، خصوصاً آجکل کے جدیدانٹرنیٹ کے دور میں اِن کا براہِ راست مشاہدہ عام ہے۔ اکثر آپ کوایسے بھی لوگ ملیں گے جنہوں نے بنیادی تعلیم بھی حاصل نہیں کی ہوگی، لیکن وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بِنا پر تعلیم یافتہ لوگوں کی بہ نسبت بہت اچھی معیارِ زندگی جی رہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں پر لاکھوں روپے لُٹا کر، بہترین تعلیمی اداروں میں داخلہ تو دلوا دیتے ہیں، لیکن یہ بنیادی بات سمجھانے سے قاصِر ہیں کہ ہماری زندگی اور اِس کا مقصد، چندکھوکھلی اور عَدَدی نمبروں کے حصول سے کہیں اعلٰی اور اَرفع ہے۔اعلٰی گریڈزحاصِل کرکے آپ کو کسی بہترین تعلیمی ادارے میں داخلہ تومل سکتاہے، ممکِن ہے کہ کسی اچھے ادارے میں اسکالرشپ یا اچھی جاب بھی مِل جائیگی۔لیکن مناسِب تربیت کے بغیر کسی اِمتحان میں کم نمبرز حاصِل کرنے، یا زیادہ سے زیادہ فیل ہونے کے بعد کے حالات کا سامنا اور زندگی میں آنے والے ممکنہ دشواریوں اور مایوسیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے بچوں کو تیارکرنا ممکن نہیں۔
    ہمارا نظامِ تعلیم ہمارے ذہن میں چند رَٹے ہوئے معلومات کا اِمتحان لے کر ہمارے رَٹّوں کو تو تول سکتاہے، لیکن باری تعالٰی کی دی ہوئی اَن گِنت صلاحیتوں کا اَندازہ کبھی نہیں لگا سکتا۔دُ نیا کے کامیاب ترین لوگوں کے امتحانی نتائج اٹھاکر دیکھ لیجئے اکثر و بیشتر اوسط گریڈزہی ملیں گے۔ہم کیوں اپنے بچوں کی زندگیوں کو صِرف اُن کے گریڈز دیکھ کر ماپتے ہیں؟ میرے اپنے تَجربے کے مطابِق، ایسے کئی والدین ہیں، جو اپنے بچوں کوکم نمبرز لینے پر اِمتحانات سے قبل کسی فلمی وِلن کی طری دھمکیاں اور نتائج کے بعد وعیدیں سُنا رہے تھے، اور آ ج اُنہی بچوں کے لاشوں کو ڈھونڈنے کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھِر رہے ہیں،اِیسے والدین پر ترس بھی آتا ہے اور ترس سے زیادہ غُصّہ بھی۔ اگر اپنے بچوں کے ساتھ اس طرح کا طرزِ عمل روا رکھ کر آپ اُن کو نمبرز یا گریڈز دِلواسکتے ہیں، تو یقین جانئے تمام سنگدِل والدین کی اولادآج سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور دانشور ہوتے۔ آخر یہ سب کیوں؟ کیونکہ نمبر کم لئے تھے۔۔۔۔
    ۔اورخدارا ،آپ اپنے ہاتھوں اپنے جِگر گوشوں کا گلا گھونٹنا بند کیجئے ۔والدین کے ساتھ ساتھ تعلیمی اِداروں میں پڑھانے والے اساتذہ سے التجا ہے کہ ، اپنے بچوں،اور طلباء وطالبا ت کو سمجھائیے کہ کم نمبرز حاصِل کرنے سے یا اِمتحان میں فیل ہونے کا ہرگِز یہ مطلب نہیں کہ آپ ناکام ہوگئے ہیں، بلکہ اِس کا یہ بھی تو مطلب ہو سکتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالٰی نے آپ کے اندر کوئی ایسی صلاحیت ضرورکھی ہوگی جسے بروئے کارلاکر آپ ممکنہ طورپر کسی بھی اچھے گریڈز حاصِل کرنے والے سے اچھی زندگی گزارسکتے ہیں، بس ضرورت ہے تو صرف خود کو جاننے کی اور پہچاننے کی۔
    All students can learn and succeed, but not all on the same day or in the same way.

  • error: Content is protected !!