Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سینٹ الیکشن کی شفافیت………………. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا سے سینٹ کی گیارہ نشستوں کے لئے 34امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے۔ جنرل نشست کے لئے تحریک انصاف کی طرف سے محمد ایوب، خیال زمان، فدا محمد، فیصل جاوید، عبدالطیف، ظفر خٹک اور علی خان ، مسلم لیگ ن کی طرف سے علی افضل جدون، حاجی دلدار، صابر شاہ، قاسم شاہ، پی پی پی کے بہرہ مند ، فیصل سخی، قومی وطن پارٹی کے محمد غفران ، عوامی جمہوری اتحاد کے عبدالواسع، اے این پی کے مسعود عباس، جے یوآئی کے مولانا گل نصیب اور طلحہ محمود شامل ہیں۔اعظم سواتی، لطیف یوسف زئی، یعقوب شیخ، دلاور خان اور نثار خان نے ٹیکنوکریٹ و علماء کی نشستوں جبکہ رئیسہ داود، ثوبیہ شاہد، مہرتاج روغانی، نورین فاروق، شگفتہ ملک، انیسہ زیب اور نعیمہ کشور نے خواتین کی نشستوں کے لئے کاغذات جمع کرائے ہیں۔خیبر پختونخوا میں سات جنرل ، ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی دو دو خالی نشستوں کے لئے انتخابات ہورہے ہیں۔124ممبران پر مشتمل خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 61ہے۔ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے پاس سولہ سولہ، قومی وطن پارٹی کے پاس دس، جماعت اسلامی کے سات، عوامی نیشنل پارٹی کے پانچ اور پیپلز پارٹی کے چھ ممبران ہیں جبکہ دو آزاد ارکان بھی ایوان میں موجود ہیں۔الیکشن کمیشن کی طرف سے خیبر پختونخوا کی نشستوں کے لئے ووٹوں کا جو تناسب رکھا گیا ہے۔ اس کے مطابق جنرل نشست کے لئے 41ووٹ، خواتین کی نشست کے لئے سترہ اور ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لئے بھی سترہ ووٹ درکار ہیں۔مروجہ قواعد کی رو سے صرف تحریک انصاف جنرل، ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی نشست کے لئے مطلوبہ اکثریت رکھتی ہے۔ دیگر جماعتوں کو ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی نشست پر حمایت حاصل کرنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑے گی جبکہ جنرل نشست کے لئے مطلوبہ ووٹ حاصل کرنا ان کے لئے بہت مشکل ہے۔ماضی میں بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ سینٹ کا رکن منتخب ہونے کے لئے ووٹ خریدے جاتے رہے اور ان ووٹوں کی قیمت بھی بھاری بھر کم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تقریبا تمام ہی پارٹیوں نے متمول قسم کے امیدوار نامزد کئے ہیں تاکہ وہ کچھ پارٹی کی تائید اور زیادہ تر اپنے بل بوتے پر سینٹ کی نشست حاصل کرسکیں۔سینٹ کے امیدوار کے لئے پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنا بھی ایک بڑا معرکہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں ایک انار اور سو بیمار والی صورت حال ہوتی ہے۔ اور یہ انار نسبتا زیادہ تشویش ناک بیمار کو دینے کی ہمارے ہاں کوئی روایت نہیں۔ جو بولی دے کر انار حاصل کرسکے وہی شفایاب ہوتا ہے۔ماضی میں سینٹ الیکشن میں بدترین ہارس ٹریڈنگ اورووٹوں کے جمعہ بازار کی وجہ سے ملک کی جمہوری ساکھ کو نقصان پہنچتا رہا ہے۔ اس بار گورنر اور وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ہارس ٹریڈنگ اور پیسے کے لین دین کی حوصلہ شکنی کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔لیکن ماضی کے تجربات کے پیش نظر ان انتخابات میں پیسے کا لین دین روکنا ممکن نظر نہیں آیا۔ اور پھر یہ لین دین اسمبلی میں تو نہیں ہوتا۔ اس کے لئے ایک مہینہ پہلے سے تیاریاں شروع کی جاتی ہیں۔ جرگے بٹھائے جاتے ہیں اور پیشگی ادائیگیاں ہوتی ہیں اور ان کی کوئی رسید بھی نہیں لی جاتی۔یہی دیکھا گیا ہے کہ سینٹ انتخابات کے عمل میں پارٹی اصولوں، اخلاقی قدروں، جمہوری طریقوں اور مذہبی پابندیوں کو بھی کچھ دیر کے لئے موقوف رکھا جاتا ہے۔ اور خریدوفروخت کے اصولوں کے تحت سودے طے کئے جاتے ہیں۔ ایک امیدوار کو اپنی پارٹی قائد کی مٹھی گرم کرنی پڑتی ہے۔پھر مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے ممبران اسمبلی پرکروڑوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ جب وہ ایوان بالا کا رکن منتخب ہوتا ہے تو سب سے پہلے اپنا مالی نقصان پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے پھر اگلے انتخاب کے لئے پس انداز کرنے لگتا ہے۔ یہی کچھ قومی اور صوبائی
اسمبلیوں کے انتخابات میں بھی ہوتا رہا ہے۔فوج یا پولیس بلاکر ممبران اسمبلی کی خریدوفروخت کے اس دھندے کو روکنا بھی ممکن نہیں۔اگر مدد کے لئے بلائی گئی فورسز بھی اپنا حصہ لینے پر تل جائیں تو مسئلہ مزید الجھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ خود سیاسی پارٹیاں اپنے منتخب ممبران کو فلور کراسنگ سے نہیں روک پاتیں۔ایوان میں کم نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے لئے سینٹ کا انتخاب جیتنا ایک مشکل ٹاسک ہوتا ہے۔ہماری دعائیں گورنر اور وزیراعلیٰ کے ساتھ ہیں کہ وہ سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور رشوت کے دروازے، کھڑکیاں اور کونے کھدروں میں موجود سوراخیں بند کرکے ملک میں نئی جمہوری مثال قائم کریں۔


شیئر کریں: