Chitral Times

Dec 13, 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • معاشی اور معاشرتی ترقی اورانسانی رویے………..ڈاکٹر ساجد خاکوانی

    December 4, 2017 at 9:44 pm

    (5دسمبراقوام متحدہ کا عالمی یوم رضاکاران برائے معاشی و معاشرتی کے موقع پر خصوصی تحریر )
    drsajidkhakwani@gmail.com

    انسان جنم لیتے ہی سب سے پہلے اپنے معاشی مسئلے کا چینخ چینخ کراظہار کرتا ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ میں ننگاہوں مجھے کپڑے پہناؤیامیں کسی مذہب میں داخل ہوتا ہوں مجھے کلمہ پڑھاؤیانہ ہی وہ اپنے دوست ،دشمن ،خالق ،مالک اور رازق کے بارے میں استفسار کرتاہے اور نہ ہی وہ اپنی نسل رنگ اور زبان وغیرہ کے بارے میں آگاہی چاہتا ہے بلکہ اسکا سب سے پہلا،سب سے زورآوراور سب سے بنیادی تقاضااسکاپیٹ ہوتا جس کے بھر جانے پر وہ اپنے گردونواح سے بے خبر نیندکی آغوش میں اس طرح پہنچ جاتا ہے کہ پھر معاشی مسئلہ ہی اسے اس نیند سے بیدار کرتا ہے۔معاشرہ وہ ابتدائی آماجگاہ ہے جہاں انسان کا جنم واقع ہوتا ہے ۔انسان نہ ہی انڈے سے نکل کر پانی میں تیرنا شروع کر دیتا ہے اور نہ ہی کسی فارم میں اسکی پیدائش وپرورش کے مراحل طے ہوتے ہیں۔ماں کا پیٹ ایک معاشرتی اختلاط سے بارآور ہوتا ہے ،ماں کی مامتاوہ سب سے پہلا تحفہ ہے جومعاشرے کی طرف سے انسان کو پیداہونے سے قبل ہی میسر آجاتا ہے۔پیدائش کے ساتھ ہی معاشرے کا عطا کردہ خاندان اس انسان زادے کو اپنی محبت ،الفت،پیار اور چاہت کی گھنیری چھاؤں میں لے لیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جانور،پرندے یا مچھلی کا بچہ تو شاید کسی معاشرتی پشتیبانی کے بغیر پل بڑھ سکے لیکن آدم زاد کو ایسی صورت حال میں کوئی خدائی معجزہ ہی حشرات الارض سے بچا سکتاہے۔
    گویامعاش اور معاشرہ انسان کی وہ ضرورتیں ہیں جنہیں ذات باری تعالی نے کمال رحمت سے نومولودکی آمد سے قبل ہی پورا کر دیاہے ۔انسانیت ان دونوں عناصر کے بغیر نہ صرف نامکمل ہے بلکہ انسان کا وجودہی انہی دونوں کا مرہون منت ہے۔بچپن

     

    ،لڑکپن،آغازشباب،شباب،ادھیڑپن اور پھر بڑھاپے کی تمام منزلوں میں انسان پہلے سے زیادہ اور مزید زیادہ تر ان دونوں عناصر کا محتاج ہوتا چلا جاتا ہے ۔اسے معاشی اور معاشی ترقی کے لیے اپنا انسانی کردارادا کرنا ہے جس کو قدرت الہیہ نے بڑی خوبصورتی سے ماں کی مامتا اور باپ کی شفقت کے استعاروں میں ڈھانپ دیا ہے ۔یہ دونوں کردار ماں اور باپ دراصل سب سے اولین معاشی و معاشرتی رضاکار ہیں۔اﷲ تعالی کاکیا عجیب اورشاندارنظام ہے کہ ناخن سے رسولی تک انسان کے جسم کے ساتھ لگی تکلیف دہ چیز جب کاٹ کر الگ کی جاتی ہے تو انسان اسے بڑی نفرت اور حقارت سے دیکھتا ہے اور اسے دور پھینک دیتا ہے لیکن نو ماہ تک دردپر درد دینے والا نومولود جب اس دنیا میں وارد ہوتا ہے تو ماں اسے سینے لگا کر اپنے شیریں چشموں سے سیراب کرتی ہے۔اگرچہ جانور کے ہاں بھی مامتا کا یہی کردارہے لیکن جانوروں کے ہاں اکثر نسلوں میں باپ کا کوئی کردار نہیں ہوتابلکہ بعض اوقات تو ماں اپنے بچوں کو نرجانور سے چھپاتی پھرتی رہتی ہے۔اسکے مقابلے میں انسان کے ہاں باپ کاکردارنسل کی پرورش پرمحیط ہے،جس کا بہت بڑا حصہ معاش سے تعلق رکھتا ہے یعنی باپ اپنے قبیلے کی معاشی کفالت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

     

    معاشی ترقی اور معاشرتی ترقی کوجدا نہیں کیا جاسکتا،جو معاشرہ معاشرتی ترقی سے ہم آہنگ ہوگا وہیں معاشی ترقی بھی وقوع پزیر ہوگی اور جہاں معاشی ترقی ہو گی وہیں معاشرتی ارتقا بھی جنم لے سکے گا۔انفرادی سطح پر یہ ایسے ہی ہے جیسے پیٹ بھرے گا تو انسان کام کر سکے گا اور اگر انسان کام کرے گا تو پیٹ بھر سکے گا۔معاش کو معاشرے سے اور معاشرے کو معاش سے اسی طرح علیحدہ نہیں کیا جا سکتا جیسے انسان کو اسکے پیٹ سے علیحدہ نہیں کیا سکتا۔اگرمعاشرتی اقدار ڈھیلی پڑجائیں گی تومعاش بری طرح متاثرہوگی اور اسی طرح معاشی اقداراگرزوال پزیر ہوئیں تو معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی چلی جائیں گی۔معاشرتی اور معاشی حقائق کو جاننے کے لیے انسان نے ہر سطح پر بہت کوششیں کی ہیں۔بہت نچلے طبقے میں دووقت کی روٹی اورعزت کی چھت کے حصول کوتما م مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے،یوں درجہ بدرجہ ہر سطح پر لوگوں کی فکر ایک بہاؤ کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔انسانی اعلی دماغوں نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مختلف نظام ہائے فکروعمل بھی پیش کیے ۔سیکولریورپی دانشوروں میں سے کسی نے انسان کو معاشی جانور کہا ہے اور کسی نے معاشرتی جانور اور کسی نے تو جنسی جانور تک بھی کہا ہے اورڈارون کے کیا کہنے جس نے انسان کو جانوروں کی نسل ہی قرار دے دیا۔

     

    سوشلزم ،کیمونزم،فاشزم،کیپٹل ازم اورملوکیت وجمہوریت یہ سب انسانی فکرودانش کے وہ ناکام تجربات ہیں جن کی آزمائش کی بھٹی میں انسان نے اپنی نسلوں کو جھونک دیا ہے،یہاں تک کہ آج پھر انسانیت چھٹی صدی عیسوی کے تباہ کن مقام تک آن پہنچی ہے ،جس پر قرآن مجید نے یوں تبصرہ کیا تھا کہ’’تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے کہ ہم نے تمہیں بچا لیا‘‘ ۔مانی ازم سے عصری مغربی تہذیب تک تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان جب آسمانی ہدایت سے الگ کر کے اپنی فکر و فلسفے کوبننے لگتا ہے توہمیشہ ٹھوکریں ہی کھاتا ہے۔جبکہ عقل و دانش کی الجھی ہوئی ،گنجلک اورتہہ در تہہ ڈوریوں کوجب آسمان سے جوڑ کر وحی کی تعلیمات میں انکا حل تلاش کیا جائے تو گویاڈورکاایک ایسا سرا ہاتھ لگ جاتا ہے کہ جس سے سارے کے سارے مسائل حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔سودی نظم معیشیت آج اپنے انجام کو پہنچا چاہتاہے،معیارزندگی میں بڑھوتری کی دوڑکے اثرات بدآج عالمی سطح پر آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں،قرض کی مے پراستوار بلندوبالابنکنگ کا نظام ریت کی دیوار ثابت ہوچکا ہے،اشتہاربازی پر مبنی معاشرتی اقتدارکی حقیقت سراب کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئی اور عورت کواسکے اصلی،حقیقی اور فطری مقام سے گرا کر جس معاشرت کا بیج بویا گیاتھا،خاندانی نظام کی تباہی کی فصل اسکے منطقی نتیجے کے طورپر آج کاٹی جارہی ہے۔
    معاشی و معاشرتی ترقی کا انسانی خواب صرف انبیاء علیھم السلام کے طریقے پر ہی پوراہوسکتاہے۔وہ اپناپیغام پیش کرنے کے بعد سب سے پہلے یہی کہتے تھے’’ہم تم سے اس کام کاکوئی اجرنہیں چاہتے‘‘۔یہ معیارنبوت ہے کہ رضاکارانہ طور پر انسانیت کی خدمت کی جائے۔نکاح وہ معاشرتی قدر ہے جس کا تحفظ اور جس کا تسلسل ہی انسانی نسلوں کی بقاکاضامن ہے۔سوال یہ ہے کہ ساری عمر اکٹھی بسر کرنے کی نیت اور ایک خاندان کی پرورش کے ارادے سے ملنے والے مردوعورت کے ہاں ہونے والابچہ اور ہوس نفس اورحیوانی جبلت کی تسکین کی خاطرایک دوسرے کو جھنجھوڑنے اور بھنبھوڑنے کے بعد ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوجانے والے مردوعورت کاہونے والا بچہ کیا انسانی نفسیات میں یکساں ہوں گے؟ہرگزنہیں،انسانی ساختہ تہذیبیں جو بھی کہیں، انبیاء کی تعلیمات نے ان کے درمیان حلالی اور غیرحلالی کا فرق کیا ہے اور یہ حقیقی و آفاقی فرق ہے۔زکوۃ ،صدقات،عشر،خمس اورفطرانہ و قربانی پر بنیاد کرنے والی معیشیت کبھی بھی سود،ناجائزمنافع خوری،ذخیرہ اندوزی،اشتہاربازی اور نسوانیت کی محتاج معیشیت کے برابر نہیں ہوسکتی۔پہلی قسم کی معیشیت انسان کی اعلی اقدار کی حامل اور انکے رواج کی ضامن ہے جبکہ دوسری قسم کی معیشیت شائلاکی سوچ کی آئینہ داراور انسانی مجبوریوں کو اور ضرورتوں کو بڑھا چڑھاکرانکا استحصال کرنے والی ہے۔قرآن مجید نے واضع طور پر سود کو اﷲ اور اسکے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ قرار دیاہے کہ یہ دراصل انسانی تباہی کابھیانک،اندوہناک اورہولناک آغازہے۔

     

    انبیاء علیھم السلام اگراس دنیامیں تشریف نہ لاتے توجنگل کا بادشاہ اور درندگی و سفاکی کی علامت شیر،چیتااور بھیڑیا نہ ہوتے بلکہ انسان ہی ہوتا۔اس لیے کہ اکیسویں صدی کی دہلیزپرچکاچوندروشنیوں اور تہذیب و تمدن کے جگمگاتے گہواروں میں پلنے والی اقوام جو انبیاء علیھم السلام کی عطاکردہ معرفت وشعورزندگی سے بے گانہ ولاتعلق ہیں، کشمیر،چیچنیا،بوسینیا،عراق اور افغانستان سمیت پوری دنیامیں ان کے خونی کردار سے جنگل کے ان گوشت نوچنے والے شکاریوں کو بھی شرم آئے،اپنے آپ کو جانوروں کی نسل کہنے والوں نے پوری کوشش کی کہ انسان کے معاشی و معاشرتی نظام کو بھی ہوس نفس سے آلودہ کرکے تو جنگل کے برابر کر دیاجائے۔یہ انبیاء علیھم السلام کاترتیب دیاہوامعاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں انسانیت کی نسلیں بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہیں،انسانی رشتے تقدس کی مضبوط ترین تسبیح میں ایک ایک دانے کی طرح پروئے چلے جاتے ہیں اور اعلی اخلاقی اقدارسے مزین انسانیت کے عنوان سے لکھاجانے والا معیشیت کا سبق اپنی ایک ایک سطر پر انسان کو اسکے فرائض و حقوق یاد دلاتا چلا جاتاہے۔انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات اور خاص طور پرمحسن انسانیت ﷺ کی تعلیمات دراصل اﷲ تعالی کی عطا کردہ ہدایت کا نچوڑ ہیں،اورانسانی عقل کسی صورت بھی وحی الہی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔سورہ قدرکے مضمون کی ایک جہت یہ بھی ہے کہ سارے انسان ایک ہزارراتوں تک بھی اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے تو ایسا شاندار نظام وضع نہ کرپاتے جتناکہ شاندارنظام اس ایک رات(شب قدر)کی برکت سے عالم انسانیت کو میسرآیا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کل انسانیت کی معاشی و معاشرتی ترقی درکارہے توبانیان انسانیت علیھم السلام کی تعلیمات ہی اسکاواحد حل ہیں۔اسکے علاوہ کسی بھی طرح کے قسم ہائے قسم کے نظام جو انسانی منڈیوں میں موجود رہے ہیں اور موجود ہیں اور قیامت تک خود روبوٹیوں کی ماننداگتے رہیں گے،کسی خاص طبقے ،نسل،گروہ،قوم یا افراد کے لیے توجزوی طور پر فائدہ مند ہو سکتے ہیں انسانیت کے کل اجتماع کی خاطران کے پاس کوئی پروگرام ناپید ہی رہے گایہاں تک کہ خالق کائنات کی آخری عدالت ان استحصالی طبقوں کو انکے اصل انجام تک پہنچا دے گی۔

  • error: Content is protected !!