تاریخ: November 11, 2016ایڈیٹر: Saif Ur Rehman Aziz
مردان کے بعد چترال میرا دوسرا گھر ہے ۔ اور میں چترال سے دلی محبت رکھتا ہوں۔سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کا جلسہ عام سےخطاب چترال ( محکم الدین +بشیر حسین آزاد) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے ۔ کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں خیبر پختونخوا ہ کوبھی اُتنا ہی حصہ ملنا چاہیے ۔جتنی پنجاب اور دیگر صوبوں کو مل رہا ہے ۔ پاکستان کے چار صوبے چار بھائیوں کی طرح ہیں ۔ اس لئے انصاف کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ سب کو برابر حصہ ملے ۔ ہماری جدو جہد ملک کو کمزور کرنے اور نفرتیں بانٹنے کیلئے نہیں ۔ بلکہ مضبوط وفاق کیلئے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال کے اپنے تین روزہ دورے کے پہلے روز چترال پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سابق وزیر تعلیم سردار حسین بابک ،ارم فاطمہ جوائنٹ سیکرٹری اور دیگر موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آج پاکستان کی سیاست صرف پنجاب تک محدود ہے ۔ اور بعض سیاستدان یہ سوچ رہے ہیں ۔ کہ پنجاب میں اکثریت کے بغیر ملک کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا ۔ اور آج نواز شریف اور عمران کا باہمی جھگڑا تخت لاہور کیلئے ہے ملک کی ترقی کیلئے نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ نواز شریف ایک نرم مزاج جبکہ عمران خان ترش لب ولہجے کے حامل شخص ہیں ۔ اُن کو اس بات کا علم نہیں ہے ۔ کہ کرخت زبان سے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے ۔ انہوں نے موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے اپنے شروع کردہ منصوبوں کیلئے فنڈ فراہم نہ کرنے پر کڑی تنقید کی اور کہا ۔ کہ ہم نے لاوی ہائیڈل پاور پراجیکٹ ، چترال ماربل سٹی اور تعلیمی اداروں خصوصاً چترال یونیورسٹی اور دیگر منصوبوں پر سرخ جھنڈی نہیں لگائی ۔ یہ چترال کی ترقی کے منصوبے تھے ۔ اگر اللہ نے موقع دیا ۔ تو 2018کے الیکشن کے بعد یہ منصوبے پورے کرکے رہوں گا ۔ لیکن اس کیلئے چترال کے لوگوں کو ایک مرتبہ اپنا ووٹ اے این پی کے امیدوار کو دینا پڑے گا ۔ حیدر ہوتی نے کہا ۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ کہ اس صوبے کی ترقی کیلئے چترال سے لے کر ڈی آئی خان تک اتفاق و اتحاد کا ایک مضبو ط بندھن قائم کریں تاکہ اپنی ترقی کے کام احسن طریقے سے انجام دے سکیں ۔ ہم نے گذشتہ حکومت میں جو کام چترال کیلئے کیا تھا ۔ وہ چترال کے لوگوں پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ چترال کے لوگوں کا حق تھا ۔ اگر گذشتہ حکومتیں اپنے دور اقتدار میں اپنے حصے کے اتنے کام کر جاتے ۔ تو آج چترال کے کئی مسائل حل ہو چکے ہوتے ۔ لیکن بد قسمی سے گذشتہ حکومتوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ جس کی وجہ سے چترال میں اب بھی غربت اور بے روزگاری کا دور دورہ ہے ۔ انہوں نے کہا ۔کہ ہمیں چترال کو مسائل سے نکالنے کیلئے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ آپ احسان فراموش لوگ نہیں ہیں ۔ چترال کے لوگوں نے پرویز مشرف کو اُس وقت سپورٹ کیا ۔ جب اقتدار کے دوران اُس کے ارد گرد منڈلانے والوں نے اپنے راستے جُدا کردیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں نے چترال کیلئے بہت کچھ کرنے کا دعوی نہیں کیا ۔ لیکن میں یہ جذبہ ضرور رکھتا ہوں ۔ کہ میں اقتدار میں آکر چترال کو وہ سب کچھ دوں گا۔ جو اس ضلع کو ضرورت ہوں ۔اور چترال کے لوگوں کا کوئی گلہ نہ رہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مردان کے بعد چترال میرا دوسرا گھر ہے ۔ اور میں چترال سے دلی محبت رکھتا ہوں ۔ اس صوبے کیلئے اتحادو اتفاق کی انتہائی ضرورت ہے ۔ اور ہمیں اپنے مسائل حل کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم میں جمع ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں نے چترال کو مستقل بنیادوں پر رائیلٹی دینے کی غرض سے ہائیڈل پاور سٹیشن شروع کی ۔ اس سے صوبے کو اربوں اور چترال کو ڈیڑھ ارب روپے رائیلٹی مل سکتی تھی ۔پی پی پی کے سابق صدر عیدالحسین نے اپنے خاندان ،رفقا کی بڑی تعداد میں اور ڈاکٹر سردار نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جس پر امیر حیدرہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والے سابق صدر پی پی پی عیدالحسین ،اُن کے ساتھیوں اور ڈاکٹر سردار محمد کو مبارکباد دی اور اُنہیں ٹوپی پہنا یا ۔ اس موقع پر شمولیتی عید الحسین ، سید توفیق جان ،سینئرنائب صدر اے این پی شیر آغا ،قاری نظام الدین اور سید عابد جان نے خطاب کیا ۔ درین اثنا سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے شاہی مسجد میں تعمیراتی کام کا جائزہ لیاجس کی تعمیر کے لئے اُنہوں نے اے این پی کے صوبائی حکومت کی طرف سے3کروڑ 38لاکھ کاخطیر رقم دیا تھابعد میں اُنہوں نے خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزامان ،امام شاہی مسجد قاری شبیر احمد اور دیگر علماء کرام سے بھی ملاقات کی۔خطیب شاہی مسجد خلیق الزمان نے حیدر خان ہوتی کو چترالی چغہ جبکہ قاری شبیر احمد نے اُنہیں چترال ٹوپی پہنایا۔
موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ضلع چترال کو درپیش خطرات کے باعث لوکل ایڈیپٹیشن پلان آف ایکشن (لاپا) کو آخری شکل دے دی گئی چترال (بشیر حسین آزاد) سوئس فاونڈیشن برائے ترقی وتعاون (ایس ڈی سی ) کا ادارہ انٹرکواپریشن نے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ضلع چترال کو درپیش خطرات کے باعث لوکل ایڈیپٹیشن پلان آف ایکشن (لاپا) کو آخری شکل دے دی ہے جس کے نتیجے میں چترال ملک بھر کے ان معدودے چند ضلعوں میں شامل ہوگئی جہاں یہ منصوبہ عمل تیار کرلی گئی ہے تاکہ آنے والے وقت کے ساتھ مطابقت پیدا کرکے مشکلات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ ڈپٹی کمشنر کے کانفرنس روم میں منعقدہ اس ورکشاپ میں انٹرکواپریشن کے کنٹری ڈائرکٹر ڈاکٹر ارجمند نظامی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جوکہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیر کے اثرات کی زد میں ہے اورچترال کا ضلع ان پانچ اضلاع میں سے ایک ہے جوکہ سب سے ذیادہ قدرتی آفات کی زد میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان حالات میں لاپا کے ذریعے ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جن سے آنے والی موسمیاتی سے مطابقت پیدا کرکے پانی کی دستیابی اور زرعی پیدوار کو مطلوبہ مقدار کے مطابق رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ مختلف ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتائج سے نمٹنے کے لئے مقامی طور پر ایکشن پلان ترتیب دیتے ہیں اور چترال میں اس سلسلے میں محکمہ موسمیات اور زرعی یونیورسٹی پشاور کی تعاون سے اس کام کو سرانجام دیا گیا جس کے لئے انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی کوششوں اور تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ نے کہاکہ چترال میں گلوبل وارمنگ واقعی ایک حقیقی مسئلہ ہے جس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے لاپا کی صورت میں مربوط کوششوں اور اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے الگ ورکشاپ منعقدکرکے ان کے شعبہ جات سے متعلق مطابقتی لائحہ عمل ترتیب دینے پر بھی زور دیا اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ملک کے معروف ماہر موسمیات ڈاکٹر محمد حنیف نے کہاکہ درجہ حرارت میں ہرسال اضافہ مشاہدے میں آرہا ہے اور مون سون کی بارشیں بھی اب ملک کے بالائی علاقوں کا رخ کرنے لگے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ سال چترال میں بڑے پیمانے پر سیلاب آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں صاف پانی اور خوراک کی قلت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ ابھی سے لاپا کے ذریعے ان مشکلات کو پہلے سے ہی مقابلہ کرنے کے لئے سامان پیدا کیا جائے۔ انٹرکواپریشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جواد کے علاوہ زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد جمال خان، پروفیسر ڈاکٹر محمد ذولفقار، اغا خان فاونڈیشن کا ادارہ فوکس کے پروگرام منیجر امیر محمد اور محکمہ زراعت کے ڈاکٹر فخر الدین نے بھی اپنے مقالات پیش کئے۔ سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن کے ایکیسن انجینئر مقبول اعظم، ایس آرا یس پی کے ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر طار ق احمد، ضلع کونسل کے رکن شہزادہ خالد پرویز، ڈی۔ ایف۔ او فارسٹ سلیم خان مروت، اے کے آرایس پی کے منیجر فضل مالک، ڈسٹرکٹ افیسر فنانس نورالامین ، ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بھی موجود تھے۔
نشکوہ مداک واٹر سپلائی اسکیم نا قابل فراموش تحفہ ہے ،سابق یوسی ممبرنظام الدین اور مولانا حسین احمد کا شکریہ چترال(بشیر حسین آزاد)تریچ کے عوام نے تریچ یو سی ڈسٹرکٹ ممبر مولانا عطا ء الرحمن اور مولانا حسین احمدکی انتھک کوششوں /غیر معمولی دلچسپی سے دو ماہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد نشکوہ مداک واٹر سپلائی کی اسکیم پر کام شروع کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں علاقوں نشکوہ اور مداک کے باشندوں کو ان کی ضرورت کے مطابق 40 ، 40عددانیچ پائپ لائن کی اجازت دی گئی ہے۔لونکو ڈوک ، لونگول کے عوام نے جزبہ ایثار سے اس پراجیکٹ کو کامیاب بنایا ہے۔ یوں صدیوں بعد نشکوہ مداک پینے کے شفاف پانی سے بہت جلد پراجیکٹ کی تکمیل سے مستفید ہونگے۔علاقہ کے عوام اس کو نظام الدین کی طرف سے بے مثال خدمت قرار دیتے ہیں ۔ نئی نسل کیلئے نظام الدین کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے ۔ اس پراجیکٹ کو منظور کرانے اورقابل عمل بنانے میں مولانا حسین احمد کی خدمات کو علاقہ کے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ضلعی ناظم مغفرت شاہ صاحب کی دلچسپی اور تعاون ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ اس پراجیکٹ کی تکمیل میں جس نے بھی انفرادی /اجتماعی کردار ادا کیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔
تحریک حقوم عوام کو زلزلہ زدگان کو عدم ادائیگی،زرعی قرضوں کی ریکورئری اور ایس آر ایس پی بجلی گھر کی تعمیر میں تاخیر کے خلاف احتجاجی جلسہ بونی (نمائندہ )تحریک حقوق عوام کا زلزلہ زدگان کو اعلان شدہ نقد امداد کی عدم ادائیگی ،زرعی قرضوں کی معافی کے اعلان کے باوجود عوام سے ریکورئری اور ایس آرایس پی کی طرف سے بنایا جانے والا بونی ایم ایچ پی کی کام میں تاخیر کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ بونی چوک میں منعقد ہوا۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے سینئر رہنما رحمت سلام لال نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ ڈی سی چترال نے زلزلہ متاثرین کے لئے مختص 85کروڑ روپے غائب کردیا اس کی تحقیقات کی آشد ضرورت ہے کہ ڈی سی نے خود اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ زلزلہ متاثرین کو دینے کے لئے 85کروڑ روپے ان کے پاس موجود ہے،اب ڈی سی قوم کو بتا دیں کہ یہ 85کروڑ روپے کہاں ہیں۔جنرل سیکرٹری تحریک حقوق عوام شجاع الدین لال نے ایس آر ایس پی کی طرف سے بنایا جانے والا بونی ایم ایچ پی کی تعمیر میں تاخیر کرنے پر ایس آر ایس پی اور اس کے ٹھیکہ دار پر شدید تنقید کا اظہار کرکے مطالبہ کیا کہ اس سال کی اخر تک بونی کے عوام کو بجلی فراہم کریں بصورت دیگر عوام ایس آر ایس پی کے خلاف سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہونگی۔آل ناظمین فورم اپرچترال کے صدر محمد پرویز لال نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے زرعی قرضوں کی معافی کے بعد ایم این اے چترال نے25مئی2016کو مستوج کے مقام پر واضح طورپرزرعی قرضوں کی معافی کی تصدیق اور عوام کو یہ خوشخبری سنایا تھا کی ان کی کوششوں سے تمام سرکاری بینکوں کے قرضہ جات معاف ہوئے ہیں اور وہ فرسٹ مائیکرو فنانس بینک کی قرضہ جات کو بھی معاف کروالینگے،نہ ہونے کی صورت میں اپنی جیپ سے عوام کی قرضہ جات کو ادا کرونگا،انہوں نے کہا کہ اب تمام بینکوں نے غریب عوام سے سود سمیت ریکورئری شروع کر دی ہے،قرضے واپس نہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جارہاہے۔اگر ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا تو چترال کے عوام ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کے ہوٹل کے سامنے دھرنا دینگے اور ایم این اے کو عوام سے اتنا بڑا جھوٹ بولنے پر معافی مانگ کر استعفیٰ دینے پر مجبور کرینگے۔ ڈیڑھ سال تک سرکاری اداروں کے ساتھ عزت کا تعلق قائم رکھا اور آئندہ بھی ادارتی تعلق قائم رکھیں گے مگر اسے ہماری کمزوری پر ہرگز محمول نہ کیا جائے۔ضلع ناظم مغفرت کا ضلع کونسل اجلاس سےخطاب چترال (بشیر حسین آزاد) ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے کہ ضلع کونسل اس ضلعے کا بااختیار ادار ہ ہے مگر بعض اداروں کے سربراہان اس ایوان اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ضلعی حکومت کو اس حد تک لے جانے میں مصروف ہیں جہاں برداشت کی آخری حد ختم ہوجاتی ہے جس میں مقامی سربراہان کا کوئی قصور نہیں بلکہ انہیں لقمہ اوپر کے حلقوں سے مل جاتی ہیں اور اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں اہمیت رولز آف بزنس کا نہیں عوامی مفاد کا ہے اور ہمیں اس حدتک قدم لینے پر مجبور نہ کیا جائے۔ پیر کے روز ضلع کونسل چترال کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم نے ڈیڑھ سال تک سرکاری اداروں کے ساتھ عزت کا تعلق قائم رکھا اور آئندہ بھی ادارتی تعلق قائم رکھیں گے مگر اسے ہماری کمزوری پر ہرگز محمول نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے بھی نان سیلری بجٹ کے ضمن میں ضلع کونسل کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اس سلسلے میں کئی مہینوں کی غیر ضروری تاخیر کرکے سرکاری محکمہ جات کو مفلوج کرکے رکھ دیا گیا جبکہ اس نوعیت کی تاخیری حربے کو برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ترقیاتی بجٹ اس وقت ریلیز کئے جاتے ہیں جب چترال میں ورکنگ سیزن اپنی اختتام پر ہوتا ہے اور اس میں غیر معمولی تاخیرسوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے جس کا اعادہ کرنے سے افسران کو گریز کرنا ہوگا اور نہ آئندہ کے لئے اس کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب اور زلزلے کی نقصانات سے نمٹنے کے لئے درکار 16ارب روپے کے لئے پی پی اے ایف اور صوبائی حکومت کی تعاون سے اسلام آباد میں اگلے ماہ ایک ڈونر کانفرنس منعقد کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ایک ملٹی سیکٹر انٹیگریٹڈ پراجیکٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف کو عنقریب ایک بار پھر چترال لانے کی کوششیں جاری ہیں جس میں وہ تاجکستان روڈ کے حوالے سے اہم اعلان کریں گے جبکہ ان کے گزشتہ دورہ چترال میں یونیورسٹی اور ہسپتال کے قیام کا ڈائریکٹو بہت جلد جاری ہوں گے اور 20کروڑ روپے کا گرانٹ بھی ریلیز ہوگی جسے ہاؤس کے مشورے پر ترقیاتی کاموں پر صرف کئے جائیں گے۔ اس سے قبل کنوینر مولانا عبدالشکور نے آئندہ کے لئے اجلاس کی کاروائی کے ضوابط طریقہ کار کی بائی لاز ایوان میں پیش کی جس پر ارکان کونسل نے ان کو پڑھنے کے بعد اگلے بحث اور منظوری کے لئے ملتوی کردیا۔ انہوں نے ضلع کونسل کے عارضی ملازمین کے تنخواہ جات کی منظوری کا معاملہ بھی ایوان کے سامنے پیش کردیا جس کی منظوری دی گئی۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن کونسل رحمت غازی خان نے ضلع ناظم پر زور دیا کہ ضلعی حکومت اور کونسل کی حکم عدولی میں ملوث افسران کی نشاندہی کی جائے تاکہ ان کے خلا ف سب مل کر کاروائی کریں گے۔ انہوں نے مختلف محکمہ جات کے لئے قائم اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو فعال بنانے اور ان کے لئے نئی پینل آف چیرمین مقرر کرنے کی تجویز دی۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رحمت الٰہی نے دیار کی سوختنی لکڑی سے فرنیچر بنانے اور ڈاؤن اضلا ع میں فروخت کرنے پر پابندی چاہتے ہوئے قرارداد پیش کیا جس پر پی ٹی آئی کے محمودالحسن، انعام الحق اور رحمت غازی اور اے پی ایم ایل کے شہزادہ خالد پرویز نے اظہار خیال کیا جبکہ کنوینر نے رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ اس میں ضروری تبدیلی کرکے دوبارہ پیش کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے مولانا جمشید نے کنوینر پر زور دیا کہ وہ ہر اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں میں ہاؤس میں پاس شدہ قراردادوں پر عملدرامد کے حوالے سے ہاؤ س کو اپ ڈیٹ کرے۔ پی ٹی آئی کے محمدیعقوب (کریم آباد) اور پی پی پی کے غلام مصطفی (مستوج ) نے ترقیاتی منصوبہ جات میں غیر معمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ضلع ناظم کی طرف سے ورلڈ فوڈ پروگرام کو چترال میں گلگت بلتستان کے طرز پر گندم پر سب سڈی کی فراہمی کی تجویز چترال ( بشیر حسین آزاد) ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے ورلڈ فوڈ پروگرام کو چترال میں گلگت بلتستان کے طرز پر گندم پر سب سڈی کی فراہمی کی تجویز پیش کردی ہے جس سے انہوں نے اصولی طور پر اتفاق کرلیا ہے اور بہت جلد ہی چترالی عوام کو اس حوالے سے خوشخبری سننے کو ملے گی۔ ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہا ہے کہ اتوار کے روز اپنے دفتر میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے صوبائی سربراہ بائی مانکے سانکوہ اور پروگرام کے ہیڈ نعمت اللہ خان کے ساتھ نشست میں انہوں نے ورلڈ فوڈ کی ٹیم پر واضح کردیا کہ چترال موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت سے متاثر ضلع ہے جہاں بڑے پیمانے پر قدرتی آفات رونما ہونے کی وجہ سے غذائی قلت اور غیر یقینی صورت حال کی کیفیت پید اہوگئی ہے اور اس صورت حال میں سبسڈائزڈ ریٹ پر گندم کی فراہمی سے واحد ذریعہ ہے جس سے غذائی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ گزشتہ کئی سالوں کے دوران چترال میں قدرتی آفات نے لوگوں کی پہلے سے کمزور معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور غذائی قلت کے خطرات منڈلارہے ہیں جبکہ قدرتی آفات کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور گزشتہ سال کی طرح کئی دیہات سیلاب کی زد میں ہیں ۔ ضلع ناظم نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کی طرح ضلعے کے چند یونین کونسلوں میں چھوٹے پیمانے پر سرگرمیوں کی بجائے اس مقصد کے لئے مختص فنڈز کو گندم کی سبسڈی کی طرف منتقل کرنا ناگزیر ضرورت بن گئی ہے۔ کالاش زبان و ثقافت کا تحفظ‘‘کی تکمیل پراجیکٹ کے مقامی پارٹنر ایون اینڈ ویلیز ڈیویلپمنٹ پروگرام کے زیراہتمام تقریب چترال ( بشیر حسین آزاد) دنیا کی منفرد تہذیب وثقافت کے حامل کالاش قبیلے کی زبان کلاشہ کو معدومیت کے خطرے سے باہر نکال لیا گیا ہے جس پر کالاش اقلیت نے امریکی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے جوکہ یو ایس ایڈ کے ایک پراجیکٹ کے ذریعے یہ کام انجام دیا اور تاریخ میں پہلی بار اس کو تحریر ی شکل دے دی جوکہ ابھی تک حروف تہجی سے نااشنا تھی۔یوایس ایڈ کی مالی معاونت سے گزشتہ ایک سال سے جاری پراجیکٹ “کالاش زبان و ثقافت کا تحفظ”کی تکمیل پر پراجیکٹ کے مقامی پارٹنر ایون اینڈ ویلیز ڈیویلپمنٹ پروگرام (اے وی ڈی پی ) کے زیر اہتمام تقریب میں کالاش عمائدیں اور خواتین نے کہاکہ کالاش زبان اور ثقافت اب تک ایک نسل سے دوسری نسل تک سینہ بہ سینہ روایات سے منتقل ہوتی رہی تھی لیکن جدید زمانے میں کالاش کے نوجوان نسل کا بڑی تعداد میں وادی سے باہر رہنے ، جدید تعلیم حاصل کرنے ، جدید ٹیکنالوجی کے اپنانے اور کالاش بزرگوں کی وفات کی وجہ سے اس زبان کی معدومیت کا خطرہ بڑھ گئی تھی۔ اس موقع پر تینوں کالاش وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور کے نمائندوں شاہی گل، حضرت گل، میربادشاہ، عرب گل، شیر محمد کالاش، شیر وزیر کالاش، لک رحمت نے کہاکہ کالاش زبان کو تحریر ی صورت مل جانا کالاش کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پرانے نسل کے کالاش بزرگ کالاش کی لوک روایات ، لوک کہانیو ں اور روایات کو اپنے ساتھ لے کر ایک ایک ہوکر دفن ہورہے تھے اور کالاش کا ثقافتی ورثہ ان کے ساتھ ہی دفن ہورہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اکثر کالاش گیت ان کے مذہب کی بنیاد بنتے تھے اور تحریر ی صورت نہ ہونے پر ان کا مذہب بھی خطرے میں پڑگئی تھی۔ کالاش عمائیدین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ نادرا کے ڈیٹا بیس اور پاسپورٹ میں کالاش مذہب کے اندراج کو یقینی بناکر کالاش قوم کو الگ شناخت دے دیا جائے۔ تقریب کے مہمان خصوصی اور چترال پریس کلب کے صدر ظہیرا لدین نے کہاکہ زبان اور ثقافت کا آپس میں گہرا رشتہ اور تعلق ہوتا ہے اور اس وجہ سے کالاش زبان کا تحفظ دراصل کالاش کلچر کے تحفظ کی طرف ایک قدم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کالاش زبان کو پہلی مرتبہ تحریری شکل میں لانے اور اس کے لئے حروف تہجی تیار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اصل کام کا آغاز اب ہوا چاہتا ہے اور تعلیم یافتہ کالاش لوگوں پر یہ فرض عائد ہوتی ہے کہ وہ کالاش زبان و ادب کی بنیاد رکھیں اور اسے ترقی دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ اپنی صدارتی خطاب میں ضلع کونسل کے اقلیتی رکن عمران کبیر نے کہاکہ کالاش قبیلہ کے لئے قلم اور سیاہی کوئی نئی بات نہیں جوکہ چٹرمس تہوار کے لئے خود ہی مقررہ دن کو قلم تراشتے اور اپنی ہاتھوں سے سیاہی بناکر دیوار وں پر نقش ونگار بناتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود کالاش لوگ لکھنے سے ناواقف ہیں جس کی وجہ سے ان کی زبان اور ثقافت معدومیت کے خطرے سے دوچار تھی جسے محفوظ بنانے کے لئے اے۔وی۔ ڈی ۔ پی اور یو ایس ایڈ کی کاوشیں قابل قدر ہیں جوکہ کالاش تاریخ میں ہمیشہ کے لئے یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس پراجیکٹ کے نتیجے میں کالاش زبان کے علاوہ کالاش کے لوک گیتوں، لوک کہانیوں اور کہاوتوں کو بھی محفوظ کرلئے گئے ہیں۔ اس سے قبل اے وی ڈی پی کے سابق سربراہان محکم الدین محکم اور رحمت الٰہی نے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کی کارکردگی اور کالاش تہذیب وثقافت کے لئے اس کے خدمات پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہاکہ اے وی ڈی پی نہ صرف کالاش وادیوں اور ایون گاؤں میں دیہی ترقی کے کاموں اور غربت میں کمی لانے کے منصوبوں میں مصروف رہی ہے بلکہ دنیا میں مشہور ومعروف کالاش کلچر کے تحفظ اور ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس موقع پر اے کے آر ایس پی کے منیجر فرید احمد بھی موجود تھے۔
جی او سی ملاکنڈ آرمی ڈویژن میجر جنرل آصف غفور کا تحصیل لٹکوہ کے گاؤں شاہ سلیم کادورہ چترال(بشیر حسین آزاد)جی او سی ملاکنڈڈویژن میجر جنرل آصف غفور نے جمعہ کے روز گرم چشمہ کے انتہائی پسماندہ گاؤں شاہ سلیم کا دورہ کیا۔وہ علاقے کے لوگوں سے ملے اور اُن کے مسائل سُنے۔میجر جنرل آصف غفور نے اس موقع پرعلاقے کے لوگوں میں غذائی اشیاء کی پیکیجز بھی تقسیم کی۔دورے میں کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ بھی اُن کے ہمراہ موجود تھے۔ بعض مفاد پرست گروہ آل پاکستان مسلم لیگ کا بینر استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔تقدیرہ خان چترال (بشیر حسین آزاد)تقدیرہ خان کوآڈینیشن سیکرٹری آل پاکستان مسلم لیگ چترال و گلگت بلتستان جنرل سیکرٹری (وویمن ونگ) آل پاکستان مسلم لیگ نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ بعض مفاد پرست گروہ APML ( آل پاکستان مسلم لیگ) کا بینر استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ ایسے تمام عناصر کو سختی سے تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ غیرقانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے باز رہیں ۔ بصورت دیگر اُن کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہاں اس امر کا شامل کیا جانا ضروری ہے کہ چترال میں اے۔پی۔ایم۔ ایل (آل پاکستان مسلم لیگ) باقاعدہ طور پر ایک جماعت کی شکل میں موجود ہے نہ کہ کسی گروہ یا دھڑے کی صورت میں ہے ۔اے۔پی۔ ایم ۔ایل کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و صوبائی صدر ریاض خان کے نوٹیفیکیشن کے مطابق شہزادہ خالد پرویز ، اے۔پی۔ایم۔ ایل چترال کے صدر ہیں اُ ن کی کیبنٹ مکمل ہے ۔ ہماری اطلاع کے مطابق چند شرپسند عناصر نے سازش کے تحت کے ایک نام نہاد گروہ تشکیل دیا ہے جس کا نام اے۔ پی۔ ایم۔ ایل (حقیقی ) جو کہ کلی طور پر غیر قانونی اور مجاز اتھارٹی کے علم و ریکارڈ میں نہ ہے جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل ہے ۔ علاوہ ازیں چترال میں اے۔ پی۔ ایم۔ ایل کا صرف ایک ہی دفتر ہے جو ہوٹل ترچ میر ویو میں واقع ہے ۔لہذا اے۔ پی۔ ایم۔ ایل (حقیقی ) کے نام سے جو دفاتر یا دھڑے بنائے جا رہے ہیں ان کا اے۔ پی۔ ایم ۔ ایل سے کسی قسم کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق نہ ہے ، اور مذکور ہ جعل سازوں اور مفاد پرستوں کے خلاف موثر قانونی کاروئی عمل میں لائی جار ہی ہے ۔ وجاہت علی ولد محمد ظفر آف سنوغر چترال نے پاک آرمی کے آئی ایس ایس بی کو پاس کرلی کیمپ آفس پشاور بورڈ کو سب آفس کا درجہ دیکر اسکی اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔جے یو آئی جنرل سیکرٹری پرنسپل سمیع الحق موڑکہو(اعجاز احمد) کیمپ آفس چترال پشاور بورڈ میں عملہ کی کمی کی وجہ سے چترال کے دوردراز سے آئے ہوئے سکول کے طلباء اور متعلقہ سکولوں کو دفتر میں رش بننے سے اپنے دفتری امور نمٹانے کی راہ میں شدید رکاوٹ درپیش ہوتی ہے۔ جے یو آئی تحصیل موڑکہو کے جنرل سیکرٹری پرنسپل سمیع الحق نے اپنے ایک اخباری بیان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ ،صوبائی وزیر تعلیم اور پشاور بورڈ کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا۔کہ چترال کی بڑتی ہوئی آبادی کے باعث فوری طورپر کیمپ آفس پشاور بورڈ کو سب آفس کا درجہ دیکر اسکی اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔اور موجودہ اسٹاف کو مستقل کیا جائے تاکہ دفتر میں بڑتی ہوئی رش کی بناء پر دوردرازسے آآنے والے طالب علموں اور سکولوں کو اپنے جملہ مسائل حل کرنے میں آسانی پیدا ہوکر پریشانی سے نجات مل سکے۔ پی ڈبلیو ڈی لیبر یونین ضلع چترال کا ہنگامی اجلاس۔بحث مباحثہ کے بعد قرار داد کثرت رائے سے منظور چترال(بشیر حسین آزاد)مورخہ 3نومبر 2016کوسی اینڈ ڈبلیو ریسٹ ہاؤ س پی ڈبلیو ڈی لیبر یونین ضلع چترال کا یک ہنگامی اجلاس زیر صدارت اسلام الدین آر آئی منعقد ہوا ۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت فضل الحق آر آئی نے کی ۔ تلاوت کلام پاک کے بعد تحصیل دروش ڈویژن پی ڈبلیو ڈی لیبر یونین کے ڈپٹی جنرل سکرٹری نور حسن جان نے چترال ڈویژن سے آئے ہوئے پی ڈبلیو ڈی لیبر یونین کے عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا اور شاندار الفاظ میں ضلعی صدر پی ڈبلیو ڈی لیبر یونین شجاع الدین کے لیبر یونین کے لئے خدمات اور کاوشوں کو داد دی ۔ اجلاس میں تحصیل دروش یونین کے عہدیدراں سمیت کثیر تعداد میںRoad Gangاہلکاروں شریک ہوئے ۔ اور متفقہ طورپر ایجنڈا میں شامل دو نکات پر بحث مباحثہ کے بعد ایک قرار داد کثرت رائے سے منظور کی گئی۔ ۱۔ یہ کہ گزشتہ کئی سالوں سے ڈپارٹمنٹ کی طرف Road Gangsکو TMPکے مد میں کوئی سامان نہیں دئے گئے ہیں ۔ جسکی وجہ سے بنیادی کام کو کر نے میں شدید مشکلات درپیش ہے ۔ حکام بالا فنڈ کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں ۔ چترال کے جغرافیائی حالات کے تناظر میں روڈز کی بد حالی اور مشکل موسمی حالات کے باوجود بھی روڈ قلی اپنے ذاتی تنخواہ سے TMPکے ساماں خرید کر اپنے ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔ لہذا ہنگامی بنیادوں پراس مسلے کو حل کیا جائے ۲۔ یہ کہ Road Gangs کے اکثر قلی دفاتر اور ریسٹ ہاؤس وغیرہ میں ڈیوٹی دے رہے ہیں جو کہ ایک غیر قانونی فعل ہے ۔ اس عمل کی وجہ Road Gangبد نام ہو تے ہیں اور اکثر روڈ پر ڈیوٹی دینے کے بجائے آفس پر ڈیوٹی سر انجام دے ر ہے ہیں جس کی وجہ سے Road Gang شدید متاثر ہے ۔ لہذا ان لوگوں کو سائیڈز پر بھیج دیا جائے اور آفس میں کلاس فور کے جتنے بھی خالی پوسٹ پڑی ہے ان پر کلاس فور بھرتی کی جائے ۔
چترال میں پی ٹی سی ایل کی طرف سے انٹرنیٹ کے صارفین کے ساتھ روا رکھے جانے مذاق کا فوری نوٹس لیا جائے۔جے آئی یوتھ پریس کانفرنس چترال (بشیر حسین آزاد) جماعت اسلامی یوتھ ضلع چترال کے صدر وجیہ الدین نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال میں پی ٹی سی ایل کی طرف سے انٹرنیٹ کے صارفین کے ساتھ روا رکھے جانے مذاق کا فوری نوٹس لیا جائے جہاں ایک ماہ سے ڈی۔ایس۔ ایل سروس بند ہے اور اپٹیکل فائبر سسٹم کی تنصیب کے باوجود چالو کرنے میں غیر ضروری تاخیر اور صارفین سے 4GBانٹرنیٹ کی چارجز وصول کرکے صرف 500MBکا سروس دیا جارہاہے ۔ ویلج ناظمین فورم کے ضلعی صدر سجا داحمد خان، جنرل سیکرٹری نوید احمد بیگ اور جے ۔آئی یوتھ کے رہنماؤں جہا ن زیب خان، مقصود الرحمن ، عبدالعزیز خان ،صارفین ڈی ایس ایل اور دوسروں کی معیت میں بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جدید دور کا بنیاد انٹرنیٹ کی سہولت پر ہے اور نوجوان طبقہ اور طالب علم اس جدید سہولت پر انحصار رکھتے ہیں اور چترال میں سینکڑوں طلباء وطالبات یونیورسٹیوں کے ساتھ ان لائن ہوکر تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے گزشتہ سال سے چترال کے صارفین کے ساتھ سنگین مذاق کا سلسلہ شروع کیا ہے اور شکایتوں کی شنوائی نہ ہونے پر انٹرنیٹ صارفین سڑکوں پر آ نے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپٹیکل فائبر کی لائن اور مشینری چترال میں نصب کرنے کے باوجود اسے چالو نہیں کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے پی ٹی سی ایل حکام کو خبر دار کرتے ہوئے کہاکہ چترالی عوام کی شرافت کا مزید امتحان نہ لیا جائے ورنہ وہ حالات سے تنگ ہوکر احتجاج پر اتر آتے ہوئے پی ٹی سی ایل کے دفاتر کو تالا لگا نے پر مجبور ہوں گے ۔ انہوں نے پی ٹی اے سے مزید مطالبہ کیاکہ وارید موبائل فون کے خلاف بھی کاروائی کی جائے جوکہ چترال میں 4Gکی چارجز صارفین سے وصول کرنے کے باوجود مطلوبہ سروس فراہم کرنے میں ناکام ہے جو کہ صارفین کو لوٹنے کے مترادف ہے۔ اس سے قبل سینکڑوں انٹرنیٹ کے صارفین نے پولوگراونڈ سے ایک جلوس نکالا جوکہ پی ٹی سی ایل آفس کے سامنے کچھ دیر دھرنا دینے کے بعد چترال پریس کلب میں اختتام پذیر ہوگئی ۔ مظاہرین نے پی ٹی سی ایل کے خلاف شدیدنعرہ بازی کی۔
کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ کا ایف سی پی ایس مستوج کادورہ چترال(بشیر حسین آزاد)کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ نے ایف سی پی ایس مستوج کا دورہ کیا۔مستوج پہنچنے پر سکول کے بچوں نے انہیں گلدستہ پیش کرکے اُن کا استقبال کیا۔اس موقع پر سکول میں سادہ اور پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ایف سی پی ایس مستوج نے تحصیل لیول پر منعقد آفاق اکیڈیمی کے زیر اہتمام انسائیکلوپیڈیا کوئز کمپٹیشن میں تحصیل مستوج سے پہلے تینوں پوزیشن ایف سی پی ایس مستوج کے جماعت ششم کی طالبہ سعیدہ فصیحہ فراز نے پہلی،شمایلہ بی بی نے دوسری اور سیمہ آمر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔30 اکتوبرکو گورنمنٹ سنٹینیل ماڈل سکول چترال میں کوئز کمپٹیشن ڈسٹرکٹ لیول پر منعقد کی گئی جہاں پورے ڈسٹرکٹ سے18طلباء نے شرکت کی جس میں ایف سی پی ایس مستوج کی طلباء سعیدہ فصیحہ فراز نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور اسی سکول کی طالبہ سیمہ آمر نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظا، الدین شاہ نے ان کی اس شاندار کامیابی پر ان کو مبارکباد دی اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ان بچیوں میں کیش انعامات تقسیم کی اور تمام سکول کے بچوں اور بچیوں میں مٹھائیاں بھی تقسیم کی۔
آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان چترال کے زیرنگرانی کام کرنے والی (سی اے ایچ ایس ایس )پراجیکٹ کی طرف سے چترال کے مختلف علاقوں میں دماغی صحت کا عالمی دن منایاگیا چترال (بشیر حسین آزاد)آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان چترال کے زیرنگرانی کام کرنے سنٹرل ایشیاء ہیلتھ سسٹم اسٹرتھینگ(سی اے ایچ ایس ایس )پراجیکٹ کے زیرتعاون معدے،بلڈپریشر،یرقان،بچے اورماں کی صحت کے حوالے سے لاسپور،پرواگ،بگوشٹ گرم چشمہ،مدکلشٹ،سہت موڑکہواوراویرک گرم چشمہ سمینار منعقدکیاگیااوردماغی صحت کا عالمی دن منایا گیا۔اس موقع پر سنٹرل ایشیاء ہیلتھ سسٹم اسٹرتھینگ(سی اے ایچ ایس ایس )پراجیکٹ کے سوشل آرگنائزسجاد زرین،ڈاکٹرشبیراحمدڈی ایچ کیوہسپتال چترال،ڈاکٹرنسیم اورسیکالوجیٹ ڈاکٹرمس شازیہ نے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان چترال کے زیرنگرانی کام کرنے(سی اے ایچ ایس ایس )پراجیکٹ چترال کے دوردرازپسماندہ علاقوں میں بنیادی صحت عامہ کے حوالے سے کمیونٹی کوگھرگھر پیغام دیتے ہیں ۔جس سے دیہاتی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کوبہت فائد ئے ہوتے ہیں ۔اورساتھ ہی چترال کے سرکاری اورغیرسرکاری ہسپتالوں کومعیاری آلات دیگرسامان بھی فراہم کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مشہور زما نہ ضرب المثل ہے کہ’’ جان ہے تو جہاں ہے ’’ اچھی صحت سے ہی تعلیم اور دیگر معاملات زندگی کو چلایا جا سکتا ہے پاکستان کی تقریبا 70فیصد آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے جہاں صحت کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں علاوہ ازیں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے گھرانوں کی بھی اکثریت ہے۔جنہیں علاج تک کی سہولت میسر نہیں آئے روز وہ جان لیوا اور خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو کر زندگی اورموت کی کشمکش میں رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں معیشت کا معاملہ ہو یا صحت و تعلیم کا عوام کسی مسیحا کے انتظار میں رہتی ہے۔اس حوالے سے عوام کواگاہی دینے کی بہت ضرورت ہے۔انہوں نے دماغی صحت کے عالمی دن کے حوالے سے لیکچردیتے ہوئے کہاکہ اس دن کو منانے کا مقصد دماغی عارضے میں مبتلا افراد کی طرف توجہ دینا ہے ۔اور دماغ انسانی جسم کا ایک اہم ترین جزو ہے جس کا متوازن رہنا صحت مند زندگی کیلئے ضروری ہے۔ ذہنی وجسمانی طور پر صحت مند انسان ہی معاشرہ کی بھلائی کیلئے بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا قانون فطرت سے ہٹ کر زندگی گزارنے سے بھی ذہنی امراض لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے لہٰذا ہم سب کوفطرت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ماں اوربچے کی صحت سے ہی صحت مندمعاشرہ جنم لیتی ہے اس لئے بیماریوں پرحفاظتی اقدامات سے ہی قابوپایاجاسکتاہے۔ ماں اوربچے کے ہفتے کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرزگھرگھراورگاؤں گاؤں جاکرحاملہ خواتین اوردوسے پانچ سال تک کے بچوں کوتشنج سے بچاؤکے ٹیکے لگائیں گی ۔اگر ماں کی صحت اچھی ہوگی توصحت مندمعاشرہ پروان چڑھے گا۔ طبی لحاظ سے بھی بچے کے پیدا ہونے کے بعد ماں کا جسم اپنی اصل حالت میں اسی صورت میں تیزی سے واپس آتا ہے جب وہ بچے کو اپنا دودھ پلائے اور فطری تقاضوں کو پورا کرے۔انہوں نے کہاکہ جس طرح لوگ اپنے شوگراور بلڈپریشر کوچیک کرواتے رہتے ہیں اسی طرح انہیں چاہیے کہ وہ کبھی کبھی یرقان کاچیک اپ کروالیاکریں ۔یہ انسانی جگرکامرض ہے جس کی علامت آنکھوں کاپیلاپن ہے اس کاوائرس کئی قسم کاہوتاہے انہوں نے کہاکہ یرقان ایک ایسی بیماری ہے جو کہ بہت ہی خطرناک ہو سکتی ہے اگر اس کا علاج بروقت نہ کیا جائے تو یہ بڑھ سکتی ہے اور آپ کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے اور یہ بیماری گرم چیزیں کھانے سے ہوتی ہے اور اس کے علاوہ گندا پانی پینے سے ہوتی ہے یا خون میں انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے اس بیماری میں انسان کو نیند بھی زیادہ آتی ہے اور انسان کا جسم نڈھال ہو جاتا ہے اور کوئی بھی چیز کھائے جیسے روٹی سالن تو اس سے انسان کے جسم میں گرمائش محسوس ہوتی ہے ہڈیاں بھی درد کرتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جب انسان اپنی غلطی ،غفلت اورمسائل کی وجہ سے ان اعضاء اورجسم کی ضروریات کے مطابق ان کاخیال نہیں رکھتاتوپریشانیاں اوربیماریاں جنم لیتی ہے ۔معدہ انسانی جسم کاایک اہم حصہ ہے انسانی جسم میں توانائی ،حرکت اورنشونماکی بنیادیں اسی میں ہوتی ہیں انسان چوکچھ کھاتاہے ،اسے کھاکرچبانا،ہضم کرنااورپھرسے جسم انسانی کاحصہ بتانایہ سب کام معدہ اوراس کے معاون اعضاہی کرتے ہیں خوارک ہضم کرنے میں لعاب کااہم کردارہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ معدہ کی بیماریوں کی وجہ سے انسان کاپوراجسم متاثرہوتاہے اورمزیدکتنی بیماریوں کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلڈپریشر کو ایک عوامی بیماری کہا جاتا ہے۔اس مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے، جو آہستہ آہستہ جسم کو مختلف امراض کا شکار کرکے موت کی جانب لے جاتا ہے کیونکہ اس عارضے کا تعلق ان افراد کی عمروں سے ہے۔ بلند فشار خون قلبی بیماریوں کی بنیادی وجہ ثابت ہوتا ہے۔دل ایک مخصوص وقفے سے دھڑکتا ہے اور ہر دھڑکن کے ساتھ خون کی شریانوں کے ذریعے جسم کو آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ خون کی ہر نالی سکڑنے یا پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس موقع پرپرنسپل شیرولی خان،وی سی ناظم وورمحمدالمعروف چوٹو،لوکل ہیلتھ چیئرمین راشدخان،چیئرمین ہیلتھ کمیٹی گل مراد نے سی اے ایچ ایس ایس پراجیکٹ صحت عامہ کے حوالے سے آگاہی پروگرام کوچترال کے پسماندہ علاقوں کے لئے انتہائی اہم قرراردیا۔