یونیورسٹی آف چترال اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی سینٹ کے الگ الگ اجلاس
پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) صوبائی وزیربرائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش (پروچانسلر) کی زیرصدارت بدھ کے روز گورنرہاؤس پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور اور یونیورسٹی آف چترال کی سینٹ کے الگ الگ خصوصی اجلاس منعقد ہوئے۔یونیورسٹی آف چترال کی سینٹ اجلاس میں یونیورسٹی کے سٹیٹیوٹس میں ترامیم پیش کئے گئے جس کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔یونیورسٹی کو صوبائی حکومت کی طرف سے منظورشدہ فنڈ کی ریلیز کے حوالے سے صوبائی وزیر کامران بنگش کاکہناتھاکہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ سینٹ نے ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ کوبھی درخواست کی کہ یونیورسٹی کے بقایافنڈ کو جلد ازجلد ریلیز کیاجائے۔
دریں اثناء اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے سینٹ اجلاس میں مذکورہ یونیورسٹی کے مالی سال 2022-23 کے سالانہ بجٹ کو ریشنلائز کرنے کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کے سفارشات کو پیش کیاگیا جس کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ واضح رہے کہ گذشتہ سینٹ اجلاس میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا سالانہ بجٹ 2022-23 میں صرف ملازمین کی تنخواہوں اورپنشن پر مشتمل حصہ منظور کیاگیاتھا جبکہ بجٹ کے اعداد و شمار کو دوبارہ دیکھنے اوراسے ریشنلائز کرنے کیلئے اسے ایک خصوصی کمیٹی کے حوالے کیاگیاتھا۔ اجلاس میں اسلامیہ کالج کی ملکیتی جائیدادکے حوالے سینٹ کی ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی جو کہ یونیورسٹی ملکی جائیداد کے معاملات پر نظررکھے گی۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی وزیرکامران بنگش نے بڑھتی ہوئی فیس کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ کوہدایت کی کہ موجودہ سیلاب اور کورونا جیسی آفات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیس میں اضافے کا معاملہ پر سینڈیکٹ میں نظرثانی کیلئے پیش کیاجائے اور طلباء کے والدین کو فیس میں ریلیف دی جائے۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلٰی تعلیم محمدداؤدخان،سپیشل سیکرٹری اعلٰی تعلیم راشد پائندہ خیل،ایڈیشنل سیکرٹری برائے گورنر سیف الاسلام، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ، ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں سمیت اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلرز کے علاوہ سینٹ کے دیگر اراکین موجود تھے۔

