The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 17 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

یقین سے مشاہدے تک: جب ایمان اور فلسفہ ہم کلام ہوئے ۔ تحریر: پی ایچ ڈی اسکالر ساجد الرحمٰن

Chitral Times

یقین سے مشاہدے تک: جب ایمان اور فلسفہ ہم کلام ہوئے ۔ تحریر: پی ایچ ڈی اسکالر ساجد الرحمٰن

یقین سے مشاہدے تک: جب ایمان اور فلسفہ ہم کلام ہوئے ۔ تحریر: پی ایچ ڈی اسکالر ساجد الرحمٰن

یقین سے مشاہدے تک: جب ایمان اور فلسفہ ہم کلام ہوئے
The Epistemological Transition: How Philosophical Inquiry Engaged with Religious Beliefs
تحریر: پی ایچ ڈی اسکالر ساجد الرحمٰن

اسلام میں علم کی طلب کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ قرآن بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے:
“أفلا يتفكرون؟” (کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے؟)

إن في خلق السماوات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب”* (بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے آنے جانے میں اہل عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے” اور “حکمت مومن کا گم شدہ خزانہ ہے، جہاں سے ملے، لے لو”۔

یہ اسلامی اصول انسان کو تقلید کے بجائے تحقیق، اور اندھے یقین کے بجائے شعور و فہم کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ علم کو محدود کر دیا گیا۔ صدیوں تک انسان اُس علم کی تلاش میں سرگرداں رہا جو نظر سے اوجھل تھا—وہ علم جو کسی مقدس کتاب میں درج ہوتا، کسی بزرگ کی زبان سے جاری ہوتا، یا خواب میں الہام کی صورت میں سامنے آتا۔ آسمان سے بجلی گرتی تو اُسے دیوتاؤں کا غضب سمجھا جاتا، بیماری پھیلتی تو جن بھوتوں یا گناہوں کی سزا قرار دی جاتی، اور زمین کا لرزنا ناراض روحوں کے غصے سے جوڑا جاتا۔ ایسے ماحول میں سوال اٹھانے والا گستاخ، اور شک کرنے والا گمراہ تصور کیا جاتا تھا۔

مگر انہی تاریکیوں میں ایک محقق اور حقیقت پسند سوچ نے جنم لیا۔ اُس نے کہا کہ حقیقت وہ نہیں جو محض سنائی جائے، بلکہ وہ ہے جو خود دیکھی، پرکھی اور ناپی جا سکے۔ یہی وہ نکتہ آغاز تھا جہاں سے “پوزیٹوزم” (Positivism philosophy) کا تصور ابھرا—ایک ایسا نظریہ جو علم کو مشاہدے، تجربے اور عقلی دلائل کی بنیاد پر جانچنے کا قائل ہے۔

اوگست کومٹ (Auguste Comte) نے اس نظریے کو باقاعدہ فلسفیانہ شکل دی اور بتایا کہ انسانی شعور نے ترقی کے تین مراحل طے کیے: پہلا دیومالائی دور، دوسرا مابعدالطبیعاتی دور، اور تیسرا سائنسی دور۔ سائنسی دور وہ مرحلہ ہے جہاں انسان نے اندھے یقین سے ہٹ کر، کھلی آنکھوں اور بیدار ذہن کے ساتھ حقیقت کو جاننا شروع کیا۔ یہاں اب سچ کسی آسمانی صحیفے سے نہیں، بلکہ خردبین، دوربین اور تجربہ گاہ کی خاموشی سے دریافت ہوتا ہے۔

پوزیٹوزم کی اصل طاقت یہی ہے کہ یہ علم کو صرف معتبر نہیں بناتا، بلکہ انسان کو فکری آزادی بھی عطا کرتا ہے۔ وہ سچ جو بغیر تحقیق مسلط ہو، غلامی کو جنم دیتا ہے؛ جبکہ وہ سچ جو مشاہدے اور تجربے کے بعد اپنایا جائے، شعور اور خود اختیاری کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ نظریہ دراصل انسان کو اندھی عقیدت کی زنجیروں سے آزاد کر کے اُسے شعور، سوال اور جستجو کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

یہی وہ لمحہ تھا جب انسان نے خود کو خالق کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ کائنات کے طالب علم کی حیثیت سے پہچانا۔ اور شاید یہی پہچان، اصل علم کی پہلی سیڑھی ہے۔