کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ آتھارٹی (کے۔وی۔ڈی۔اے) کوجلد ختم کردیا جائے ۔ عمائدین کالاش ویلیز کا مشترکہ پریس کانفرنس
چترال(نمائندہ چترال ٹائمز) کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ آتھارٹی کے نام سے جوادارہ قائم کیا گیا ہے یہ علاقے کے عوام کے ساتھ مشاورت کے بے غیر عمل میں لایا گیا ہے لہذا فوری طور پر اس کو ختم کردیا جائے ، ان خیالات کااظہار تحریک تحفظ حقوق عوام رمبور۔بمبوریت اور بریر کے پلیٹ فارم سے علاقے کے عمائیدین سابق ناظم خورشید احمد۔ثراوت شاہ۔سیف اللہ۔نورشالی۔بزرگ احمد۔ملک شئے۔قدرت اللہ۔دوران خان اور محمد رفیع ایڈوکیٹ و دیگر نے پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک احتجاجی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انھوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے قائم کردہ کیلاش ویلیز ڈولپمنٹ اتھارٹی کو مسترد کرتے ہوئے وادی سے اپنی تمام دفاتر کو خالی کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔
انہوں نے کہا کہ اس ادارے کا قیام مقامی کیلاش اور مسلم کمیونٹی سے مشاورت کے بغیر عمل میں لایا گیا ہے۔جو تین سال گزرنے کے باوجود کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا بلکہ الٹا مقامی لوگوں کے لئے مشکلات کھڑا کر دیا ہے۔مقامی ابادی پر جرمانے۔ٹیکس اور پابندیان لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کا غریب عوام متحمل نہیں ہو سکتا۔ان حوالوں سے کئی مرتبہ ادارے کے اعلی حکام اور بورڈ ممبران سے میٹنگ بھی ہوئیں۔مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اب ہمارا مطالبہ ہے کہKVDA اپنی سرگرماں معطل کرکے وادی سے نکل جائے۔ورنہ انہیں زبردستی وادی کیلاش سے نکال دیں گے اور کسی قسم کی ناخوشگوار واقعے کی زمہ داری KVDAاور ضلعی انتظامیہ پر ہو گی،
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آتھارٹی کےلئے بائی لاس بنایا گیا ہے جوکسی صورت علاقے کے عوام کو منظور نہیں، جبکہ بعض شقین علاقے اور کمیونٹی کی ثقافت کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جبکہ ہم اسی طرح کے کسی بھی بائی لاس اور اتھارٹی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ لہذا کے ۔وی ۔ڈی ۔اے کے زمہ داران اپنے کوڑا دان وہاں سے اُٹھا کر چلے جائیں بصورت دیگر ہم خود انھیں پھینکنے پر مجبور ہونگے۔انھوں نے سابق معاون خصوصی برائے اقلیتی اُمور وزیرزادہ کی اس سلسلے میں کردار پر شدید تنقید کی۔ اور کہا کہ انھوں نے ہم سے اس سلسلے میں کوئی مشاورت نہیں کیا ہے۔
عمائدین نے خبردار کیا کہ جمعہ تک کے۔وی ۔ڈی ۔اے کو تحلیل کیا جائے بصورت دیگر جمعہ کے دن علاقے کے خواتین بھی مردوں کے ساتھ چترال میں احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور یہ سلسلہ مسئلہ کی حل تک جاری رہیگا۔ اس سے قبل علاقے کے عمائدین ایک ریلی اور جلوس کی شکل میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پریس کلب میں داخل ہوئے اور پریس کلب کے سامنے کے۔وی۔ڈی۔اے نامنظور کے نعرے لگائیں،




