غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کا جلسہ۔
•Saif Ur Rehman Aziz•3 منٹ پڑھنے کا وقت
غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کا جلسہ۔
تاریخ: December 5, 2016ایڈیٹر: Saif Ur Rehman Aziz
۔ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی ضلع چترال کا جلسہ۔حکومت ستے فوری نوٹس لینے کامطالبہ چترال (بشیر حسین آزاد) چترال شہر اور مضافات میں پیسکو کی طرف سے غیر اغلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی ضلع چترال نے شاہی بازار مسجد سے جلوس نکالا جوکہ پی آئی اے چوک پہنچ کر جلسے میں بدل گئی جس سے جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا جمشید احمد ، نائب تحصیل ناظم خان حیات اللہ خان ، تحصیل امیر عتیق الرحمن اور نائب سیکرٹری قاری فدا محمد نے خطاب کرتے ہوئے پیسکو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ غیر اغلانیہ طور پر کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ اورانتہائی کم وولٹیچ سے اہالیاں چترال کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیاکہ ایک طرف وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ ماہ اپنے دورہ چترال کے دوران چترال میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا حکم دیا تھا مگر اس کے برعکس بجلی کی فراہمی کی حالت پہلے سے بھی ذیادہ خراب ہے ۔ ان کاکہنا تھاکہ ملک کے دیگر حصوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے اور غیر اغلانیہ لوڈ شیڈنگ سے صارفین کی جان چھوٹ گئی ہے لیکن چترال میں بجلی کی فراہمی ذیادہ بدترہے جس کا حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر صورت حال میں بہتری نہ لانے پر وہ پیسکو کے مقامی دفتر کو تالا لگانے پر مجبورہوں گے۔ اس موقع پر گولین گول میں ایک این جی او کی طرف سے زیر تکمیل بجلی گھر کے کام میں تیزی لانے اور اسے جلد مکمل کرکے چترال ٹاؤن کے عوام کو لوڈ شیڈنگ کی اندوہناک اذیت سے نجات دلانے کا مطالبہ کیا گیا۔
فوڈ گرین سپروائزروں اور چوکیداروں کی اسامیوں کی سیلیکشن کے لئےانٹرویوز سوات کی بجائے چترال ہی میں لئے جائیں۔مولانا جمشید احمد چترال (بشیر حسین آزاد) جماعت اسلامی ضلع چترال کے امیر مولانا جمشید احمد نے حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ ضلع چترال کے بعض گرین گوداموں میں فوڈ گرین سپروائزروں اور چوکیداروں کی اسامیوں کی سیلیکشن کے لئے انٹرویوز سوات کی بجائے چترال ہی میں لئے جائیں کیونکہ ضلعے کے دوردراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لئے ہزاروں روپے خرچ کرکے سوات جانا ممکن نہیں ہوگا ۔ ایک اخباری بیان میں انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ چترال سے سینکڑوں امیدواروں سے ٹیسٹ اور انٹرویو لینے کے لئے محکمہ خوراک کے افسران چترال آنے کی بجائے ان کو سوات بلارہے ہیں جوکہ نہایت نامناسب اور غیر معقول بات ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ ایک امیدوار کو چترال سے منگورہ سوات کا سفر کرنے اور ہوٹلوں میں تین دن قیام کرنے میں دس ہزار روپے سے ذیادہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گاجبکہ لواری ٹاپ روڈ کسی بھی وقت برفباری کی وجہ سے بند ہوسکتی ہے