ضلعی انتظامیہ لوئیر چترال کی طرف سے نانبائیوں کے لئے نئے نرخ نامہ جاری، عوامی حلقوں نے یکسر مسترد کردیا، نظرثانی کا مطالبہ
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے عوامی حلقوں نے روٹی کے بارے میں نئی نرخنامے کو یکسر مسترد کردیا جسے 190گرام اور قیمت 30روپے مقرر کردی گئی ہے۔ بدھ کے روز ایڈیشنل ڈی سی عبدالسلام کے زیر صدار ضلعی پرائس ریویو کمیٹی کے اجلاس میں انتظامیہ کی طرف سے روٹی کی قیمت 200گرام کرنے کی تجویز پیش ہوئی لیکن تجاریونین کے صدر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما چارویلو نور احمد خان اور دوسرے تاجر رہنماؤں اورتندور مالکان کی طرف سے اس کی مخالفت میں دلائل سامنے آئے جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں پی ٹی آئی، پی پی پی اور جماعت اسلامی کے نمائندوں اور ڈی ایف سی ارشد حسین کی طرف سے ان کی حمایت پر صدر مجلس نے روٹی کی وزن 190 گرام اور قیمت روپے 30مقرر کردی۔
دریں اثناء عوامی حلقوں کے مطابق آٹاکی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 50فیصد سے ذیادہ کمی آنے کے باوجود روٹی کی وزن میں صرف 20گرام کا اضافہ کرنا ناقابل قبول ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ گزشتہ سال سے عوام کو ریلیف پہنچانے کے بجائے کاروباری حلقوں کو نوازنے میں مصروف عمل ہے،
ان کاکہنا ہے کہ گزشتہ سال سردیوں کے شروع ہوتے ہی ضلعی انتظامییہ لوئیر چترال نے سوختنی لکڑی کے نرخ مقرر کرنے کے ساتھ ایک لائحہ عمل طے کیا، جس کے باعث فی من لکڑی جو سات سو پچاس روپے سے بڑھکر ایک ہزار روپے فی من بکنے لگی ، اسی طرح ضلعی انتظامیہ نے رمضان المبارک سے پہلے گوشت کے نرخوں کو تعین کرنے میں ناکام رہی، ، بڑا گوشٹ آٹھ سو روپے فی کلو جبکہ چھوٹا گوشت بارہ سوروپے فی کلو فروخت ہورہے تھے، انتظامیہ کی طرف سے نرخ نامہ جاری کیاگیا جس کو عوامی حلقوں نے مسترد کردیا جبکہ انتظامیہ نے وہی نرخ نامہ واپس لیکر پرانے نرخ نامے پر گوشت بیجنے کی ہدایت کردی مگر مجال ہے کہ ایک قصائی ان کی بات پر عمل کرے جس کے باعث رمضان کے پورے مہینے قصائیوں نے شٹرڈاون ہڑتال کیا اور روزہ دار گوشت کی عدم دستیابی کی وجہ سے مسائل کا شکار رہے ،
عوامی حلقوں نے مذید کہاہے کہ اس بار بھی ضلعی انتظامیہ نانبائیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ اور روٹی کی نرخ تجار یونین کی ایما پر مقرر کردی گئی ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انھوں نے فوری طور پر اس نرخ نامے پر نظرثانی کا مطالبہ کیاہے۔ تاکہ چیزوں کی قیمتیں کم ہونے کافائدہ عوام تک بھی پہنچے۔

