جہاز حادثے کے شہدا کی چترال آبائ علا قوں میں تدفین
•Saif Ur Rehman Aziz•4 منٹ پڑھنے کا وقت
جہاز حادثے کے شہدا کی چترال آبائ علا قوں میں تدفین
تاریخ: December 18, 2016ایڈیٹر: Saif Ur Rehman Aziz
چترال ( محکم الدین ) چترال میں ہفتہ کے روز 12میتیں چترال پہنچنے کے بعد چترال سے تعلق رکھنے والے شہدا کی میتوں کی تعداد مکمل ہو گئی ۔ اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام میتیں چترال پہنچ چکی ہیں ۔ بیس میں سے پندرہ میتیں بذریعہ سی 130طیارہ چترال پہنچایا گیا ۔ جبکہ پانچ میتوں کو سڑک کے راستے آبائی گاؤں پہنچایا گیا تھا ۔ ہفتے کے روز چترال پہنچنے والے میتوں میں عائشہ عثمان دروش ، میرزا گل ، گل حوراں زوجہ میرزا گل ،زاہدہ پروین ، کرینہ دختران و فرحان علی ، حسن علی پسران میرزا گل ایژ گرم چشمہ ، احترام الحق بونی ، سلمان ذین العابدین و محمد خان موردیر اور شمشاد بیگم جنگ بازار چترال شامل ہیں ۔ جبکہ گذشتہ روز طیارے پر چار شہدا ، شہزادہ فرہاد عزیز اُن کی بیٹی طیبہ عزیز ، اکبر علی جنالی کوچ اور عمرا خان لون کی میتیں پہنچائی گئی تھیں ۔ چترال پولو گراؤنڈ میں شمشاد بیگم کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ جس میں کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ ، تحصیل نائب ناظم خان حیات اللہ خان ،ناظمین اور علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ جبکہ ایژ گرم چشمہ کی ایک ہی خاندان کے چھ افراد کی نماز جنازہ اجتماعی طور پر ادا کی گئی ، جس میں ایم پی اے سلیم خان اور کمانڈنٹ چترال کرنل نظام الدین موجود تھے، شہہید ا کیلئے قبریں پہلے ہی تیار کی گئی تھیں جہاں اُنہیں سپرد خاک کیا گیا ۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ اس خاندان سے اکلوتی بچی حسینہ بچ گئی ہے ۔ جو اپنے ماں باپ بھائی بہنوں کی میتیں لے کر ابائی گاؤں پہنچ گئی ہے ۔ جس کے پاس اپنے خاندان کی صرف یادیں ہی رہ گئی ہیں ۔ اسی طرح دروش میں عائشہ عثمان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور موردیر میں سلمان زین العابدین و محمد خان کی اور بونی میں احترام ا لحق کو سپرد خاک کیا گیا ۔ چترال میں طیارہ حادثہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا ۔ جس میں شہید ہونے والوں کی میتوں کے انتظار نے اس کرب اور اذیت کو اور بھی ناقابل برداشت بنادیا تھا ۔ تاہم شہدا کی میتیں آبائی گاؤں پہنچنے سے انتظار کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے ۔ شہدا کی نماز جنازہ اور تدفین آبائی قبرستانوں میں کی گئیں ۔ جہاں ہزاروں لوگ شریک ہوئے ۔ جن میں سیاسی و سماجی افراد کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ قابل ازین ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ ، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ ، انتظامیہ کے افیسران ، اسسٹنٹ کمشنر الطاف احمد ، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر سید مظہر علی شاہ ، نے سی 130طیارے میں چترال پہنچنے والی میتوں کو وصول کیا ۔ اس موقع پر ائر پورٹ پر لوگوں کی جم غفیر موجود تھی ۔ اور غم کے سائے نے پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔ طیارہ حادثے میں شمشاد بیگم وہ خاتون تھیں ۔ جن کے چچا بھی لواری ٹاپ پر کریش ہونے والے پی آئی اے کے فوکر طیارے میں شہید ہوئے تھے ۔ درین اثنا چترال میں پی آئی اے اکے ڈسٹرکٹ سیلز آفس سے مسافروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا کام دوبارہ شروع ہو گیا ہے ۔ جو کہ طیارہ حادثے کے تیسرے دن بعد سے بند کیا گیا تھا ۔ پی آئی اے ذرائع کے مطابق مسافروں کو ٹکٹ جاری کئے جا رہے ہیں ۔ اور اتوار سے شیڈول فلائٹس دوبارہ شروع کئے جائیں گے ۔