رکاری سے چترال آتے ہوئے جیب دریائے چترال میں گرنے سے ایک ہلاک ،6افراد لاپتہ اور8افراد زخمی
چترال(بشیر حسین آزاد)آرکاری سے چترال آتے ہوئے ایک جیب نمبر ajk 1373بے قابو ہو کر چیوپُل کے قریب دریائے چترال میں جاگری جس میں 15افرادسوار تھے۔6افراد دریامیں لاپتہ ہوگئے جبکہ چار افراد کو موقع پر موجود افراد نے دریا سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے ۔ جبکہ چار افراد نے گاڑی سے چھلانگ لگاکر اپنی جان بچائی ۔جن میں بشرالدین ،محمد ولی ،انور میاں داد، گل رحیم،حضور آمان ، سلمان خان ،شیر عجب ،انارشامل ہے جبکہ ایک خاتوں راحلیہ کی لاش دریائے چترال سے گاڑی سمیت نکال دی گئی ہے
تاحال 6 افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے لاپتہ افراد میں محمد غازی ،حسن علی شاہ ، محمد حسین ،اصل الدین ، افضل آمان اورسو میرشامل ہیں ۔جائے حادثے پر امدادی کارروئیاں جاری جن میں چترال سکا ؤٹس ،چترال پولیس اور مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد شامل ہیں۔چترال پولیس کے مطابق جوٹی لشٹ کے مقام پر ایک اور لاش کی برآمدگی کی اطلاع ہے جس کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی۔
پاور کمیٹی چترال نے پی آئی اے چوک چترال میں بجلی کی بحالی تک دھرنے کا آغاز کر دیا ہے
چترال (بشیر حسین آزاد) پاور کمیٹی چترال نے اتوار کے روز زبردست احتجاجی مظاہرہ کے بعد پی آئی اے چوک چترال میں بجلی کی بحالی تک دھرنے کا آغاز کر دیا ہے ۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاور کمیٹی چترال کے صدر خان حیات اللہ خان ، دوسرے مقررین محمد کوثر ایڈوکیٹ ، محی الدین کروچ ، اسرار الدین الہلال ، شکور محمد ، نور محمدچارویلو ، صدر ڈسٹرکٹ بار ساجداللہ ایڈوکیٹ ، حاجی عیدالحسین و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ پاور کمیٹی ایس آر ایس پی کے زیر نگرانی جس بجلی گھر کی تعمیر کا شدت سے انتظار کر رہاتھا ۔ تاکہ چترال شہر کو بجلی کے بحران سے نکالا جا سکے ، لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے ، وہ بیکار ثابت ہوا ، آج گھر گھر بجلی روشن ہونے کی بجائے لوگ احتجاج اور دھرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایس آر ایس پی کی طرف سے چترال ٹاؤن کے لوگوں کو دھوکا دیا گیا ہے۔ اور بجلی گھر کی تعمیر کے بہانے کروڑوں روپے کرپشن کی نذر کئے گئے ہیں ۔ ہم اُن کا حساب چاہتے ہیں ۔ کہ آخر 38کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود یہ بجلی گھر پیداوار کیوں نہ دے سکی ۔ صدر پاور کمیٹی نے اعلان کیا ۔ کہ جب تک چترال شہر کی بجلی کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا ۔ دھرنا جاری رہے گا ۔ مقررین نے چترال کے نمایندگان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔اُن کے خلاف نعرے لگائے ۔ اور کہا ۔ کہ ان کو عوام کی مشکلات کا ذرا برابر احساس نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ لوگوں نے ان ہی مسائل کے حل کیلئے اُنہیں ووٹ دیا تھا ۔ لیکن اُن کے کانوں جوں نہیں رینگتی ۔ مقررین نے کہا ۔ کہ بجلی گھر کی آڑ میں فنڈ انتہائی بے دردی سے خرد بُرد کئے گئے ۔ جنہیں پاور کمیٹی اُنہیں ہضم کرنے نہیں دے گی ۔ انہوں نے واپڈا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ۔ کہ 600کلوواٹ چترال بجلی گھر کیلئے ایک سو افراد ملازم ہیں ۔ اور بجلی کا بڑا حصہ اُن ہی پر خرچ ہوتا ہے ۔ انہوں نے واپڈا کے حکام کو تنبیہ کرتے ہوئے اپنا قبلہ درست کرنے کا مشورہ دیا ۔ بصورت دیگر اُنہیں ضلع سے باہر نکالا جائے گا ۔ انہوں نے نیشنل گرڈ سے چترال کو ملنے والی بجلی کی وولٹیج صحیح کرنے اور شیڈول کے مطابق لوڈ شیڈنگ کرنے کامطالبہ کیا ۔ صدر پاور کمیٹی نے کہا ۔ کہ یا تو بجلی چترال شہر میں بجلی بحال ہو گی یا اُن کا جنازہ دھرنے کے مقام سے اُٹھایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بتدریج بازار یونین ، ڈرائیور یونین ، آل ایمپلائز ایسوسی ایشن اس تحریک میں شامل ہوں گے ۔ اور ٹاون میں بجلی کی بحالی تک جاری رہے گی ۔
ویلج کونسل ریشن کی طرف سے خواتین تنظیما ت کو سلائی مشین فراہم کئے گئے
ریشن (بشیر حسین آزاد) اتوار کے روز ریشن میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ریشن کے خواتین تنظیمات میں سلائی مشینیں تقسیم کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق ویلج کونسل ریشن کی طرف سے خواتین تنظیمات میں سلائی مشین و کمپیوٹر تقسیم کرنے کے سلسلے میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جسکی صدارت ممبر تحصیل کونسل سردار حکیم نے کی جبکہ ویلج کونسل ریشن کے ناظم شہزادہ منیر مہمان خصوصی تھے۔ ویلج کونسل ریشن کی خاتون کونسلر لائق بی بی کے مختص فنڈ سے 14 خواتین تنظیمات میں 54سلائی مشینیں اور دو کمپیوٹر تقسیم کئے گئے۔ تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے مہمان خصوصی شہزادہ منیر نے کہاکہ محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے علاقے کی ترقی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے خواتین تنظیمات کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ صدر محفل سردار حکیم نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علاقے کی ترقی انکی اولین ترجیح ہے اور اسکے لئے وہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں اور مقامی تنظیمات کے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی تنظیمات کے نمائندہ خواتین نے اس کو بہت ہی اہم اقدام قرار دیتے لیڈی کونسلر لائق بی بی اور ویلج کونسل کے ناظم و دیگر ممبران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منتخب نمائندگان اپنی طرف سے تعاون فراہم کرتے رہینگے۔
اہلیان یارخون(بانگ) کی طرف سے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ کو خراج تحسین اور شکریہ
چترال(نمائندہ آئین)رحمت خان ممبر ویلج کونسل بانگ نے اہلیان یارخون(بانگ) کی طرف سے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ کو خراج تحسین پیش کیا اور اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ نے ہر مشکل صورت حال میں چترال کے عوام کی بھرپور مدد کی۔اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ سیلاب اور زلزلہ میں کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس نے سیاسی قائدین اور نمائندگان سے بڑھ چڑھ کر عوام کی خدمت کی ۔اور آج اگر ہمارے سیاسی قائدین اور نمائندگان بھی کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کی طرح ہوتے تو چترال کا حلیہ ہی کچھ اور ہوتا۔اُنہوں نے کہا کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ نے علاقہ یارخون کے عوام کے ساتھ ہر مصیبت میں ہمدردی اور اُن کی مدد کی ہے۔جس کی مثال کئی نہیں ملتی۔رحمت خان نے کہا کہ پاکستان کے وجود میں آئے 70سال ہوگئے لیکن آج تک یارخون کے علاقے میں ایک بھی آر سی سی پل نہیں بنا اور سارے پُل لکڑی کے بنئے ہوئے ہیں جوکہ ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہیں۔بڑے پلوں کی تعداد پانج ہے جن کی حالت کافی خراب ہے جس کی طرف کسی بھی سیاسی نمائندے اور سیاسی قائدین نے توجہ نہیں دی۔اُنہوں نے ایک مرتبہ پھر کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اہلیان یارخون تاحیات اُن کی خدمات اور احسانات کو نہیں بھولنگے اور اپنی دعاؤ میں ہمیشہ اُنہیں یاد رکھینگے۔