سبزی منڈی کے تاجروں کا پولیس پر تشدد کا الزام
چترال (بشیر حسین آزاد ) چترال سبزی منڈی کے تاجروں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا ، آئی جی خیبرپختونخوا ، ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن اور ڈی پی او چترال سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ چترال پولیس کی پولیس گردی کا نوٹس لے کر اُن کو ظلم اور بر بریت کا نشانہ بنانے والے چترال تھانے کے عملے کو سزا دی جائے جنہوں نے اُن کی عزت نفس مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں شدید
تشدد کا نشانہ بنایا ۔
چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چترال سبزی منڈی کے تاجروں ظہور زاہد ، علی اکبر ،سلطنت خان ، نسیم اللہ، عمر محمداور چترال تجار کے اپوزیشن رہنماشبیر احمد نے کہا ۔ کہ چترال شہر میں قائم سبزی منڈی میں وہ قانونی کاروبار کرتے ہیں اور چترال کے لوگوں کو سبزی اور پھل سپلائی کرتے ہیں ۔ گذشتہ روز ایک مقامی دکاندار کی شکایت پر چترال پولیس نے تین تاجروں محمد روف ، بدری زمان اور نسیم اللہ کو سبزی منڈی میں بُرا بھلا کہا ۔ اور زدوکوب کرکے تھانے لے آیا ۔ اور وہاں تھانے کے بارہ اسٹاف نے اُن کو لاتوں گھونسوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور کہا ۔ کہ تم نے دکاندار محمد زبور ساکن چمرکن پر خراب انگور بیچ دیے ہیں ۔ اور تمہاری یہ سزا ہے ۔انہوں نے کہا ، مذکورہ دکاندار یہ انگور 24 گھنٹے قبل اپنی مرضی پر خرید کے لے گیا تھا ۔ اور پھل و سبزی ایسی چیزیں ہیں ۔ جن کی ہیت ہر لمحے بدل جاتی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اُن کو چار گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا ۔ اور اُن پر شدید تشدد کیا گیا ۔ نیز اُن کو بُرا بھلا کہہ کر اُن کی بے عزتی کی گئی ۔ جو کہ اُن کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے ۔ مجروح محمد روف نے اس موقع پر اپنی پیٹھ پر پولیس تشدد کے نشانات دیکھائے ۔ جس میں زخم نمایاں نظر آرہے تھے ، انہوں نے کہا ۔ کہ وہ عزت کی رزق کیلئے کاروبار کرتے ہیں ۔ اور خریدو فروخت گاہک اور بیوپاری کی مرضی سے ہوتی ہے ۔ ایسے میں اگر کہیں کوتاہی ہو بھی گئی ہے ۔ تو اُس کی سزا دینے کیلئے عدالتیں موجود ہیں ۔ پولیس کو باعزت تاجروں پر تشدد کرنے کی اجازت کس نے دی ہے ۔ انہوں نے صوبائی وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ۔ کہ اُن کی حکومت پولیس میں اصلاحات کرنے اور پولیس کو عوام دوست بنانے کی بات کرتی ہے ۔ لیکن ابھی تک یہ آواز اور تبدیلی چترال تھانے تک نہیں پہنچی ۔ اور یہاں اب بھی عزت نفس کے ساتھ کھیلا جاتا ہے ۔
انہوں نے پُر زور مطالبہ کیا ۔ کہ اُن کو تشدد کا نشانہ بنانے والے عملے کے خلاف کاروائی کی جائے۔ اور اُنہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ جو کہ صوبائی حکومت کی بدنامی کا باعث بن چکے ہیں ۔ اس موقع پر تاجر رہنما شبیر احمد نے چترال پولیس کے رویے کی پُر زور مذمت کی ۔ اور کہا ۔ کہ پولیس کو لوگوں کو بے جا تنگ کرنے اور اُن کی عزت نفس سے کھیلنے کا سلسلہ ترک کرنا چاہیے ۔ انہوں نے پولیس کے ذمہ دار حکام سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ۔
جماعت اسلامی چترال کی طرف سے یوم حجاب مناتے ہوئے آگہی واک کا اہتمام
چترال ( بشیر حسین آزاد) جماعت اسلامی ضلع چترال نے اتوار کے روز ملک سے بے پردگی اور بے حیائی کے خاتمے اور اسلامی اقدار کے مطابق معاشرے کی تشکیل کی اہمیت واضح کرنے کے لئے یوم حجاب مناتے ہوئے آگہی واک کا اہتمام کیا جوکہ جامع مسجد بازار چترال سے شروع ہوکر
کڑوپ رشت بازار سے ہوتے ہوئے اتالیق بازار میں احتتام پذیر ہوئی ۔ جماعت اسلامی کے امیر ضلع مولانا جمشید احمد کی قیادت میں اس واک کے شرکاء حجاب اور حیاء کی اہمیت پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے ۔ واک کے اختتام پر مولانا جمشید احمد نے ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک کی اسلامی اساس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ملکی میڈیا میں بے حیائی اور فحاشی وعریانی کی بیخ کنی کا اہتمام کیا جائے تاکہ نئی نسل بے روی سے بچ سکے۔ قرارداد میں کہاگیا کہ حیاء کو اسلام میں ایمان کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیاگیا ہے لیکن نام نہاد روشن خیالی اور مغرب زدہ افراد ملک میں بے حیائی کو فروع دے کر معاشرے کی جڑوں کوکھوکھلا کرنے میں لگے ہوئے ہیں جن کو اپنے مقصد میں ہرگز کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ قرارداد میں چترال انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا گیا کہ چترال میں بے حیائی پھیلانے کے تمام ممکنہ صورتوں پر کڑی نظر رکھا جائے ۔واک میں پارٹی کے دیگر رہنما جنرل سیکرٹری ہدایت اللہ، نائب امیر معراج الدین، اسسٹنٹ سیکرٹری عبدالشریف خان، قاری فدا محمد، ناظم تربیت مولانا سلامت اللہ، ناظم بیت المال نثار احمد شاہنوی اور تحصیل امیر عتیق الرحمن نے بھی شرکت کی۔ دریں اثناء یوم حجاب کی مناسبت سے جماعت اسلامی کی شعبہ خواتین کے زیر اہتمام بھی ایک پروگرام بکرآباد کے مقام پر منعقد کیا گیا تھاجس میں خواتین مقرریں نے پردے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے اجلاس میں وزیر اعظم کے دورے چترال کے انتظامات کو آخری شکل دیتے ہوئے متعدد کمیٹیاں بناد ی گئیں
چترال (بشیر حسین آزاد) وزیر اعظم میاں نواز شریف کے 7ستمبر کو مجوزہ دورہ چترال کے موقع پر تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے ان کا فقید المثا ل استقبال کا فیصلہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ لواری ٹنل پراجیکٹ سمیت چترال کی ترقی میں گہری دلچسپی لینے
پر چترال کے عوام ان کو پارٹی وابستگیوں سے بالا تر ہوکران کا استقبال کرنے کو تیار ہیں۔ اتوار کے روز ڈسٹرکٹ ناظم چترال مغفرت شاہ اور چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخا رالدین کی سربراہی میں تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے اجلاس میں وزیر اعظم کے دورے چترال کے انتظامات کو آخری شکل دیتے ہوئے متعدد کمیٹیاں بناد ی گئیں۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر سید احمد خان، جے یو آئی کے مولانا حسین احمد، جماعت اسلامی کے ہدایت اللہ، اے این پی کے سید مظفر جان، پی پی پی کے محمد حکیم ایڈوکیٹ، پی ٹی آئی کے حاجی محمد سلطان، آل ویلج ناظمین فورم کے سجا داحمد خان، تجار یونین کے حبیب حسین مغل، پریس کلب کے ظہیر الدین ، تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس اور مستوج کے تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف بھی موجود تھے۔ اجلاس میں مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن میں آرگنائزنگ کمیٹی کے لئے شہزاد ہ افتخار الدین کو چیر مین جبکہ انتظامی کمیٹی کے لئے مولانا محمد الیاس کو چیر مین مقرر کیا گیا۔ بعدازاں انتظامی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر اعظم کی استقبال سمیت ان کو پیش کی جانے والی سپاسنامہ کے نکات بھی طے کئے گئے جن میں اقتصادی راہدار ی کے لئے چترال کو متبادل راستہ بنانا سر فہرست تھا۔
اپٹا ضلع چترال کا اہم اجلاس محمد جمیل الدین کو اپٹا ضلع چترال کا نیا صدر منتخب کیا گیا
چترال (بشیر حسین آزاد) اپٹاضلع چترال کا ایک اہم اجلاس محمد اسماعیل چیرمین سپریم کونسل آل پرائمری ٹیچر ایسوسی ایشن (اپٹا ) کی زیر صدارت جی پی ایس چترال میں منعقد ہوا۔ جس میں تحصیل کے عہدادارو ں نے شرکت کی۔اجلاس میں سابق ضلعی صدر اپٹا محمد اشرف ایس ایس ٹی
میں ترقی پانے کی وجہ سے اُس کی جگہ جنرل سیکرٹری محمد جمیل الدین پی ۔ایس ۔ٹی کو اپٹا ضلع چترال کا نیا صدر منتخب کیا گیا۔جنرل سیکرٹری کی خالی شدہ سیٹ پر سعید اللہ خان پی۔ایس۔ایچ۔ٹی گورنمنٹ پرائمری سکول چترال کا انتخاب ہوا۔سینئر صدر احمد الدین بھی ایس۔ایس۔ٹی میں ترقی پاچکے ہیں ۔ان کی جگہ حیدر احمد پی۔ایس۔ایچ۔ٹی کے نام پر اتفاق ہوا۔جوائنٹ سیکرٹری کی خالی نشست پر خورشید احمدایس ۔پی۔ایس۔ٹی کا چناؤ کیا گیا۔باقی خالی شدہ تحصیلی عہدوں کے لئے تحصیلوں سے نام طلب کیے گئے
چترال(بشیر حسین آزاد) تفصیلات کے مطابق جغور مسلم ماڈل سکول کے ٹیچر فضل مولا کی طرف سے سکول کے ساتویں جماعت کے طالب
وزیر اعظم پاکستان کے چترال آمد پر اُن کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا۔پارٹی ترجمان نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ
چترال(بشیر حسین آزاد)مسلم لیگ (ن) کے ضلعی دفتر سے جاری ایک اخباری بیان میں پارٹی ترجمان نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وزیراعظم یاں محمد نواز شریف کامتوقع دورے پر فقید المثال استقبال کیا جائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے جلسے کو حتمی شکل دینے کے لئے کا پارٹی ورکروں کی ایک ہنگامی میٹنگ بروز جمعہ بلایا گیا ہے۔جس میں جلسے کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں ضلع بھر سے پارٹی زمہ دران شرکت کرینگے۔اُنہوں نے کہا کہ کل کے میٹنگ کے بعد ضلعی قائدین کے ہمراہ پارٹی کارکنان کا ایک پُرہجوم پریس کانفرنس منعقد کیا جائیگا۔جسمیں میڈیا کے نمائندگان کو وزیراعظم کے دورے اور جلسے کے انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔نیاز اے نیازی نے چترال کے عوام سے وزیراعظم کے جلسے میں بھرپور شرکت کرنے اور کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔
چترال(بشیر حسین آزاد) یوتھ کونسلر ویلج ریشن نے گذشتہ روز پولیس کی طرف سے ریشن گول میں کاروائی کرکے دیسی شراب کی بڑی مقدار کی برآمدگی پر ڈی پی او چترال آصف اقبال مہمند،ایس ڈی پی اوبونی عتیق الرحمن اور ایس ایچ او بونی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی پی او چترال کے حکم سے مذکورہ پولیس اہلکاروں نے ریشن میں شراب فروش پر کامیاب چھاپہ مار کر بڑی مقدار میں دیسی شراب برآمد کیا جس پر علاقہ کے عوام اور نوجوان ڈی پی او،ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او بونی کے مشکور ہیں۔یوتھ کونسلر نے ڈی پی او آصف اقبال مہمند چترال سے مطالبہ کیا ہے کہ ویلیج کونسل ریشن میں منشیات فروشی بھی عروج پر ہے۔منشیات فروشی کی وجہ سے ویلیج کونسل ریشن کے نوجوانان تباہی کی طرف جارہے ہیں اگر ان منشیات فروشوں کے خلاف فوری کاروائی نہیں کی گئی تو ان کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہوجائیگا۔اُنہوں نے کہا کہ ڈی پی او چترال ان منشیات فروشوں کے خلاف بھی سخت کاروائی کا حکم دے کر ویلیج کونسل ریشن کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کریں۔انہوں نے اُمید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او بونی ان منشیات فروشوں کے خلاف بھی کامیاب اپریشن کرینگے اور ذمہ دار پولیس افیسر ہونے کا ثبوت دیں گے۔
تحصیل کونسل مستوج کا خسارہ بجٹ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا
چترال ( نذیرحسین شاہ نذیر) تحصیل کونسل مستوج نے مالی سال 2016-17خسارہ بجٹ بدھ روز کے روزمتفقہ طور پر منظور کر لیا ۔ بدھ کے رو ز کنوئنیرتحصیل کونسل مستوج فخرالدین کی زیر صدارت تحصیل کونسل مستوج کا بجٹ اجلاس شروع ہوا اور تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یو سف نے مالی سال 2016-17کا بجٹ پیش کیا ۔
انہوں نے کہا کہ تحصیل کونسل کی متوقع آمدنی 13کروڑ 73لاکھ76ہزار ہے جبکہ متوقع اخراجات بشمول ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 14کروڑ 13لاکھ 76ہے ۔ اس لئے کونسل کو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے 39 لاکھ 99ہزار روپے کے خسارے کا سامنا ہے ۔ جسے پورا کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دیے جائیں گے ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحصیل مستوج ایک وسیع و عریض رقبے پر محیط پسماندہ علاقہ ہے جسے گذشتہ کئی سالوں سے قدرتی آفات نے گھیرے میں لے لیا ہے ۔ انفراسٹرکچر سیالب زلزلے کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہو چکی ہیں اور لوگ انتہائی طور پر مصائب میں گرفتار ہیں اور اُن کی نگاہیں اپنے منتخب کردہ بلدیاتی نمایندوں پر ہیں لیکن تحصیل کونسل کے پاس ان تمام مشکلات کے حل کیلئے فنڈ کی کمی ہے ۔ تاہم اس کمی کو پورا کرنے کیلئے حکمت عملی وضع کرنی پڑے گی ۔
تحصیل ناظم نے کہا کہ ٹھیکیداری نظام کسی بھی صورت بلدیاتی ترقیاتی منصوبوں کیلئے مناسب نہیں اسلئے حکومت پراجیکٹ لیڈری نظام بحال کرے تاکہ ایماندار پراجیکٹ لیڈروں کے ذریعے صحیح معنو ں میں منصوبے مکمل کئے جاسکیں اور عوام کو فائدہ ہو ۔ انہوں نے تمام ممبران کو یقین دھانی کرائی کہ بجٹ برابری کی بنیاد پر تقسیم کی جائے گی اورہر ممبر کا خیال رکھا جائے گا ۔
بجٹ پر بحث کرتے ہوئے ممبران نے اس امر کا اظہار کیا کہ گذشتہ سال قدرتی آفات کے موقع پر ممبران نے اپنی ذمہ داری میں بحالی کے کام کئے ہیں لیکن ابھی تک آدائیگی نہیں ہوئی ۔ اس لئے ممبران کو بقایاجات کی ادائیگی کے سلسلے میں پریشانی کا سامناہے جنہیں فوری طور پر ریلیز کئے جائیں ۔ انہوں نے گذشتہ سال فنڈ کے غیر منصفانہ تقیسم کا بھی شکوہ کیا ۔ ممبران نے یہ بھی کہا ۔ کہ ٹی ایم اے کے ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے ۔ تحصیل ناظم نے ممبران کو ہدایت کی ۔ کہ وہ اپنے دائرہ کار میں ترقیاتی منصوبوں پر نظر رکھیں اور ناقص تعمیر کی نشاندہی کریں ۔ ہم پرلازم ہے ۔ کہ قوم کے پیسوں کو ضائع نہ ہونے دیں ۔
بحث میں تحصیل ممبران سردار حکیم ، علاء الدین عُرفی ،جمال الدین ، انعام اللہ ، محمد سید خان لال ، میر صاحب بیگ ، محسن حیات سیف الدین اور خواتین ممبران صفیہ بی بی و اشرافیہ بی بی نے حصہ لیا ۔ تاہم بعد آزان متفقہ طور پر بجٹ منظور کر لیا گیا
لینگ لینڈ سکول چترال سے نکالنے پر آیا کا خودکشی کرنے کی دھمکی۔
چترال ( بشیر حسین آزاد) دی لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج چترال کی آیا زرین گُل نے کہا ہے ۔ کہ سکول کی پرنسپل مس کیری نے انہیں بغیر کسی وجہ اور کسی غلطی کے بغیر سکول میں ملازمت سے نکال دیا ہے ۔ جس کی بنا پر وہ انتہائی طور پر ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ،اگر اُن کے مسئلے پر سنجیدہ توجہ نہ دی گئی ۔ تو وہ خود کُشی کا راستہ اختیار کریں گی ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتی ہوئی انہوں نے کہا ۔ کہ انہوں نے 25 سال پہلے آیا کی پوسٹ پر لینگ لینڈ سکول میں اپنی ملازمت کا آغاز ماہانہ ایک ہزار روپے کی تنخواہ پر کیا تھا ۔ جسے مختلف مرحلوں میں بڑھاکر اب تنخواہ دس ہزار روپے ماہانہ مل رہا تھا ۔ اور میں نے ہمیشہ اپنی مجبوری کی وجہ سے اس تنخواہ کو غنیمت جان کر سکول کے کسی کام سے انکار نہیں کیا ، سکول میں صفائی سے لے کھانا پکانے اور ہر قسم کی ڈیوٹی سٹاف کے احکامات کے مطابق انجام دی ۔ اور کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں دیا ۔ موجودہ پرنسپل مس کیری بھی میری بیوگی اور مجبوری پر رحم کرتی رہی ۔ حتیٰ کہ میری بچی کی اسی سکول میں تعلیمی اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرتی تھی ۔ مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے دو ہفتے پہلے مجھے ملازمت سے نکال دیا ہے ۔ جس سے میں شدید ذہنی مریض بن چکی ہوں ۔ کیونکہ یہی ملازمت میری زندگی گزارنے کیلئے آمدنی کا کام کرتی تھی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ملازمت کے خاتمے کی خبر میرے لئے اتنی ناقابل برداشت تھی کہ صدمے سے وہ بیہوش ہوئی ۔ اور تین دن ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں داخل رہی ۔ اور اب بھی اُن کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔ آیا زرین گُل نے کہا ۔ کہ انہوں نے مس کیری سے اپنی برخواستگی کی وجہ پوچھی ۔ اور اپنی نادانستہ اور ناکردہ غلطیوں کی معافی مانگی ۔ تو مس کیری نے کہا ۔ کہ وہ یہ اقدام بورڈ آف ڈائریکٹرزکی ہدایت پر کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کووہ بورڈ آف ڈائریکٹرزکے تمام ممبران سے درخواست کرتی ہیں ۔ کہ اُن کی مجبوری پر رحم کیا جائے ۔ اور دوبارہ انہیں ملازمت پر بحال کیا جائے۔ بصورت دیگر وہ سکول آکر خود کُشی کریں گی ۔ جس کی تمام تر ذمہ داری پرنسپل مس کیری اور سکول کے بورڈ ممبران پر ہوگی ۔
گزشتہ سا ل کی قیامت خیز سیلاب کے بعد مصیبت کی اُس گھڑی میں جماعت اسلامی نے جس خلوص نیت سے انسان دوستی کا ثبوت فراہم کیا ، اس کی نظیر نہیں ملتی۔عوام شغوراوی
چترال (بشیر حسین آزاد) وادی لوٹ کوہ کے گزشتہ سال کاسیلاب زدہ گاؤں شوغور اوی کے عوام نے جماعت اسلامی کی عوامی بھلائی اور سیلاب زدگان کو ریلیف پہنچانے اور بحالی میں جانفشانی سے مدد دینے پر مستقبل میں اس کا ساتھ دینے کا عزم کیا ہے۔ بدھ کے روز جماعت اسلامی کی ضلعی قیادت کے لئے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کرکے شوغور اوی کے عوام نے کہا کہ گزشتہ سا ل کی قیامت خیز سیلاب کے بعد مصیبت کی اُس گھڑی میں جماعت اسلامی نے جس خلوص نیت سے انسان دوستی کا ثبوت فراہم کیا ، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ کمیونٹی کی طرف سے حضرت الدین اور جنرل کونسلر رحمان علی شاہ نے جماعت اسلامی کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس کی تقلید کرنی چاہئے جوکہ انسان دوستی پر مبنی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اسی سے بھلائی اور بہتر نظام حکومت کے قیام کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر مولانا جمشید احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کی سیاست کا محور ہی انسانیت کی فلاح ہے اور اقتدار میں آنے کی جدوجہد کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک فلاحی معاشرہ قائم ہو جہاں کوئی محتاج اور غریب نہ رہے اور سب کو یکساں حقوق اور مواقع میسر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی میں خدمت انسانیت کے تمام کاموں پر فوقیت حاصل ہے اور خدمت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری ہدایت اللہ نے بھی خطاب کیا۔ جماعت اسلامی کے امیر ضلع مولانا جمشید احمد اور جنرل سیکرٹری ہدایت اللہ جب شوغورپہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔
اپنی بساط کے مطابق دن رات عوامی مسائل کے حل کیلئے جدو جہد کریں ،تاکہ عوام کو ہماری کوششیں نظر آئیں۔تحصیل ناظم مولانا الیاس
چترال (بشیر حسین آزاد) تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس نے کہا ہے ۔ کہ محدود وسائل سے درپیش بے پناہ مسائل کا حل ممکن نہیں ۔ لیکن تحصیل کونسل اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن عوام کے توقعات پر اترنے اور اُن کو مشکلات سے نکالنے کی حتی المقدور کو شش کریں گے ۔ اور ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے ۔ کہ ہم اپنی بساط کے مطابق دن رات عوامی مسائل کے حل کیلئے جدو جہد کریں ،تاکہ عوام کو ہماری کوششیں نظر آئیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل کونسل کے بجٹ اجلاس کے دوسرے روز ممبران تحصیل کونسل کی طرف سے اُٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال مسائلستان بن گیا ہے ۔ قدرتی آفات نے اسے اُن حالات سے دوچار کر دیا ہے ۔ جن پر قابو پانے کیلئے حکومت کی طرف سے بھاری خصوصی فنڈ کی ضرورت ہے ۔ جبکہ ہمارے پاس وسائل بہت کم ہیں تاہم ہم اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں ۔ اور نہ ہمارے خلوص میں کمی ہے ۔ انہوں نے ممبران سے اپیل کی ۔ کہ وہ عوامی کاموں پر نظر رکھیں ، اور فعال کردار اداکرکے عوام کو اپنے حقیقی نمایندہ ہونے کا یقین دلائیں ۔ انہوں نے ممبران سے کہا ۔ کہ کوئی بھی کام مقامی ممبر کی تسلی کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں کوئی بھی ادارہ یہ نہیں چاہتا ۔ کہ اُس کی چیک اینڈ بیلنس ہو ۔ مگر عوامی نمایندوں کو چاہیے ۔ کہ عوام کیلئے کئے جانے والے کاموں میں بزور خود کو شریک کریں ۔ اچھے بُرے پر نگاہ رکھیں ۔ اور اگر کسی کام میں کوتاہی ہو رہی ہو ۔ تو اصلاح احوال کیلئے بروقت اقدامات کریں ۔ شکایت حقیقت پر مبنی ہو ۔ تو اُس پر ضرور ایکشن لیا جائے گا ، اور ہم نے ناقص تعمیر کی وجہ سے حال ہی میں سی ڈی ایل ڈی کے پراجیکٹ کو روک دیا ہے ۔ کسی بھی ترقیاتی کام میں بلدیاتی نمایندوں کی تسلی اور اطمینان ضروری ہے ۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ سے باہر شادی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ضلع کونسل کے منظور شدہ قرارداد کو مستحسن اقدام قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ تحصیل خاتون ممبر فریدہ سلطانہ نے اس حوالے سے قدم اُٹھایا ہے ۔ اور تمام سٹیک ہولڈر نے باہمی نشست کے بعد ایک کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے ۔ جو ضلع کونسل کی طرف سے قائم شدہ کمیٹی کی معاونت کرے گا ۔ انہوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ ٹی ایم اے کے انجینئرز کی طرف سے منصوبوں سے متعلق لوکل کونسل بورڈ کو تسلی دینے کے باوجود ابھی تک فنڈ ریلیز نہیں کئے جا چکے ہیں ۔ جبکہ منصوبے کبھی کے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایجوکیشن اور ہیلتھ میں جو بے قاعدگیاں ہو چکی ہیں ۔ اُن سے اس سلسلے میں آیندہ تحصیل کونسل کے اجلاس میں پو چھا جائے گا ۔ انہوں نے چترال میں حالیہ دنوں میں باہر سے پیشہ ور بھکاریوں کی آمد روکنے کیلئے پولیس کی طرف سے اقدامات کا مطالبہ کیا ۔ اور کہا ۔ کہ چترال پولیس اس حوالے سے گذشہ سالوں کی نسبت کم دلچسپی دیکھا رہا ہے ۔ حالانکہ پیشہ ور بھکاریوں کی وجہ سے کئی معاشرتی اخلاقی مسائل جنم لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کونسل کو یقین دلایا ۔ کہ حالیہ دنوں میں آتالیق ٹرانسپورٹ اڈے میں درکار سہولیات ایک مہینے کے اندر مکمل کئے جائیں گے ۔ جس سے عوام کی موجودہ مشکلات میں بہت کمی آئے گی ۔ قبل ازین کنوئنیر تحصیل کونسل خان حیات اللہ خان نے جب اجلاس کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ تو حاجی سلطان محمد نے پسماندہ علاقوں کو بجٹ میں ترجیح دینے ، خاتون کونسلر ارندو نے میرکھنی پھاٹک میں علاقہ ارندو کے لوگوں کو نقل و حمل میں درپیش مشکلات اور شناختی کارڈز کے باوجود مقامی لوگوں کے رشتے داروں کو علاقے میں داخل نہ ہونے دینے سے متعلق اظہارخیال کرتے ہو ئے اس سے سلسلے اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کیا ۔ اقلیتی رکن نظر گئے کی طرف سے بجٹ میں امتیازی سلوک کرنے ، شمشیر خان کی طرف سے اپر چترال کے ملازمین کا تبادلہ اپر چترال ہی میں کرنے ، خوش محمد کی طرف سے بجٹ میں بعض غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور آلو ٹیکس گرم چشمہ ہی میں خرچ کرنے ،شیر نذیر کی طرف سے رجسٹرارسٹلمنٹ کی فیس میں ٹی ایم اے کو حصہ دینے ، محمد علی شاہ کی طرف سے قربانی کے جانوروں پر ٹیکس لگانے ، قاضی فضل معبود کی طرف سے دعوت عزیمت کے ٹی ایم اے گاڑیوں کے بجٹ میں اضافہ کرنے پر بات کی ۔ جبکہ فریدہ سلطانہ نے چترال کی بچیوں کی ضلع سے باہر شادی کی روک تھام کیلئے کمیٹی کو موثر بنانے کا مطالبہ کیا ۔ اجلاس کے اختتام پر کنوئنیر تحصیل کونسل خان حیات اللہ خان نے اپنے ریمارکس میں کہا ۔ کہ اجلاس کے بہت سارے زیر بحث منٹس آگے بھیجتے ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اُن پر عملدرآمد نہیں ہو پا رہا ۔ کنوئنیر نے بعد آزان غیر معینہ مدت کیلئے اجلاس ملتوی کردیا