تاریخ: December 19, 2016ایڈیٹر: Saif Ur Rehman Aziz
جی او سی ملاکنڈ ڈویژ ن میجر جنرل آصف غفور نے چترال میں پی آئی اے حادثے میں شہید ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی چترال ( بشیر حسین آزاد) جی او سی ملاکنڈ ڈویژ ن میجر جنرل آصف غفور نے چترال سکا ؤ ٹس ہیڈ کوارٹر چترال میں پی آئی اے حادثے میں شہید ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی ۔ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ ، ایم پی اے چترال سلیم خان ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال عبدالغفار اور شہدا کے لواحقین اس موقع پر موجود تھے ۔جی او سی نے کہا ۔ کہ مشیت ایزدی کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا ۔ یہ پورے ملک کیلئے صدمہ ہے ۔ اور پاک فوج اس غم میں برابر کی شریک ہے ۔ دُکھی لوگوں کے غم کا ہمیں اندازہ ہے ۔ شہدا کی میتوں کو چترال پہنچانے میں جو وقت لگا ، اُس کی وجہ ڈی این اے ٹسٹ کے ذریعے ورثا کو اُن کے عزیزوں کی میتوں کی صحیح شناخت کو ممکن بنا نا تھا ۔ جو کہ بہتر طور پر کی گئی ۔ اس لئے لواحقین اور عزیز و اقارب کو انتظار کی گھڑیاں جھیلنی پڑیں ۔ جی او سی نے کہا ۔کہ فوج عوام کے بھر پور تعاون کی بدولت ہی بہتر خدمات کے قابل ہوتی ہے ۔ شہدا کے ورثاء کی طرف سے ایم پی اے سلیم خان ، شہزادہ فہام عزیز اور ڈاکٹر سعد ملوک نے اس سانحے کے دوران حویلیاں اور چترال میں پاک فوج اور چترال سکاؤٹس کی خدمات کی تعریف کی ۔ جی او سی نے بعد آزان پاک آرمی اور چترال سکاؤٹس آفیسرز سے ملاقات کی اور اس ا مر پر خوشی کا اظہار کیا ۔ کہ چترال کے شہری اُن کی خدمات سے مطمئن ہیں ۔ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ نے جی او سی کو سوئنیر پیش کیا ۔ جبکہ ڈی پی او اکبر علی نے بھی اپنی طرف سے چترال کا روایتی تحفہ پیش کیا ۔ جی او سی نے تمام حاضرین سے الوداعی ملاقات کی ۔
شہدا کے لواحقین کا وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی حکومت پر کڑیتنقید چترال ( بشیر حسین آزاد ) چترال طیارہ حادثے کے شہدا کے لواحقین نے وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور صوبائی حکومت کو کڑی تنقید نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ چترال پر گزرنے والے اتنے بڑے سانحے کے متاثرین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ۔ اور صوبائی حکومت اور وفاق کا کوئی نمائندہ چترال آکر شہدا کی غمخواری کرنے کی تکلیف برداشت نہیں کی ۔ ایم پی اے سلیم خان ، ڈاکٹر سعد ملوک اور شہزادہ فہام عزیز نے شہدا کے لواحقین کی موجودگی میں اپنے خیالات اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ حکومت کا رویہ انتہائی افسوسناک تھا ۔ وزیر اعلی نے ڈپٹی کمشنر چترال آسامہ احمد وڑائچ شہید کی قبر پر تو حاضری دی ۔ لیکن چترال کے بیس شہدا اُس کو نظر ہی نہیں آئے ۔ اُن کو اس بات کا ندازہ نہیں ہے ۔ کہ پورے چترال پر کیا گزری ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال صوبہ خیبر پختونخوا کا ضلع ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ موجودہ حکومت کی بے اعتنائی اور سوتیلی ماں کا سلوک مسلسل جاری ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس حادثے میں جان بحق ہونے والے تمام افراد کی جانیں قیمتی ہیں ۔ لیکن سوائے دو افراد کے کسی کو اہمیت ہی نہیں دی گئی ۔ گویا جہاز میں کوئی اورسوار تھے ہی نہیں ۔
بونی ،طیارہ حادثے میں جان بحق نوجوان اخترام الحق سینکڑوں اشکبار انکھوں کے سامنے سپردخاک چترال (بشیر حسین آزاد)طیارہ حادثے میں شہید نوجوان اخترام الحق کو ہفتے کے روز ان کی آبائی قبرستان بونی لوماڑی میں سینکڑوں اشکبار انکھوں کے سامنے سپر خاک کر دیا گیا ان کی نماز جنازہ میں رشتہ داروں کے علاوہ تحصیل ناظم سب ڈویژن مستوج مولانا محمد یوسف، ممبر تحصیل کونسل سردار حکیم، آمیر جماعت اسلامی ضلع چترال مولانا جمشید احمد، سابق ایم پی اے چترال ٹو مولانا عبدالرحمن ،سابق ایم پی اے حاجی غلام محمد، ممبر ضلع کونسل موڑکھو مولانا جاوید حسین ،علمائے کرام اور علاقے کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی قاضی لطف الرحمن خطیب بونی جامع مسجد نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی مرحوم اخترام الحق پروفیشنل ریسورس پرسن اور ماسٹر ٹرینر ایٹ ایپکس کنسلٹینگ تھے۔ اس کے علاوہ مرحوم ایک شریف النفس انسان تھے اور ایک مہینے پہلے ان کی شادی بھی ہوئی تھی۔
پی پی پی اپر چترال کے کارکنان کا ہنگامی اجلاس چترال(بشیر حسین آزاد)گذشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے کارکنا ن کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت وور محمد ناظم ویلج کونسل پرواک ،بونی میں منعقد ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے جیالے کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں پارٹی کارکنان نے اپر چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کو منظم اور ناقابل تسخیر جماعت بنانے کے لئے متفقہ طورپر چند اصولی فیصلے کئے ۔ اجلاس میں شرکاء نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی تنظیمی قیادت نے دورہ چترال کے موقع پر پارٹی کارکنا ن کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ ضلع چترال ایک وسیع وعریض اور صوبہ نما ضلع ہے اس کی دشوار گزاری اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ضلع تنظیمی لحاظ سے دو حصوں یعنی اپر چترال اور لوئر چترال میں تقسیم کیاجائے اپر چترال کے کارکنان نے صوبائی قیادت کے اس فیصلے کو وسیع تر پارٹی مفاد میں ایک بہتر ین فیصلہ قرار دے کر تسلیم کیاتھا اور اس کے تحت ہونے والے انٹرا پارٹی الیکشن میں اپر چترال کے مختلف امیدواروں کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیاتھا ۔ تاحال اپر چترال کے پارٹی کارکنان ان انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے نمائندوں کے نوٹیفیکشن کے منتظر ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف پارٹی کے اندر موجود چند مفاد پرست عناصر اپنے اثر ورسوخ استعمال کرکے اس جمہوری عمل اورکارکنان کی رائے کو یکسر مسترد کرکے خود کو گزشتہ کی طرح کارکنان کے اوپر مسلط کرنا چاہتے ہیں جو کہ کسی بھی صورت پارٹی مفادمیں نہیں ہے ۔ اور نہ ہی اپر چترال کے کارکنان اس یک طرفہ فیصلے کو ماننے کے لئے تیار ہیں۔ اجلاس میں اپر چترال کے پارٹی کارکنان پر مشتمل ایک وفدتشکیل دی گئی جو کہ اپر چترال کے مسائل اور پارٹی کے اندر موجود تنظیمی تحفظات سے پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت اور پارٹی چیرمین بلاول بھٹو زرداری کو آگاہ کرئینگے ۔
کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ کا تاج بہادر کی والدہ کی نماز جنازہ میں شرکت چترال(بشیر حسین آزاد)پیر کے روز چترال کے گاؤں سین لشٹ میں تاج بہادر کی والدہ کی وفات پر کرنل نظام الدین شاہ نے اُن کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔اور اُن کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے گئے۔اُنہوں نے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کی اور مرحومہ کی درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔
جے یو آئی ضلع چترال کے مجلس عمومی کا صد سالہ جمعیت علماء اسلام تقریبات کے حوالے سے اہم اجلاس چترال(بشیر حسین آزاد)اتوار کے روز جے یو آئی کے مجلس عمومی کا ایک اہم اجلاس ٹاون ہال چترال میں منعقد ہوا جسمیں مجلس عمومی کے ارکان جوش وجذبہ اور فکرمندی کے ساتھ شریک ہوئے۔اجلاس میں طیارہ حادثہ پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا اور شہداء کے لئے دُعا اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیااجلاس کا پہلا سیشن صبح دس بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا جبکہ دوسرا سیشن ظہر تا عصر تک جاری رہا ۔اجلاس کا ایجنڈا صد سالہ جمعیت علماء اسلام کا پروگرام تھا۔مالیاتی نظم وضبط ،اطلاعات سمیت سالار جے یو آئی ،تنظیم اساتذہ (وحدت) کو فعال منظم کرنے کے حوالے سے تجاویز زیر بحث آئے۔ضلعی عاملہ کی کارکردگی رپورٹ ناظم عمومی نے تفصیل سے پیش کی۔جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کو زیر بحث لایا گیا۔جماعتی ساتھیوں میں ہم اہنگی کے فروغ پر تفصیلی بحث ہوئی۔اس اجلاس کی بہت ہی نمایاں بات یہ تھی کہ تمام ساتھیوں نے آپس کے اتحاد ،اتفاق اور ماضی کے اختلافات کو بھولا کر تجدید عہد کے ساتھ مل جل کر کام کرنے پر زور دیا۔ امیر قاری عبدالرحمن قریشی سے صد سالہ پروگرام اور آپس کے اتحاد کے حوالہ سے تفصیلی بات کی۔کابینہ کے ارکان کے باہمی مفاہمت پر زور دیا۔صوبائی عمائیدین کے صلح کے کوششوں کا زکر ہوا اور ان کو سراہا گیا۔اجلاس میں تمام شرکاء کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ صد سالہ اجتماع جمعیت جماعت میں اتحاد واتفاق کو فروغ دیگا اور پاکستان کی جمہوری سیاست پر اس کے گہرے آثارات مرتب ہونگے۔خدمات دارالعلوم دیوبنداجتماع کی طرح یہ اجتماع کی طرح یہ صد سالہ اجتماع جے یو آئی کو پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں ایک مقبول سیاسی جماعت کے طورپر بنیاد اور شناخت فراہم کرسکیگا۔یہ اجلاس امیر کے دُعائیہ کلمات اور دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔