ہماری حکومت کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، عوام کرپشن کے ثبوت سامنے لائیں، حکومت بلا امتیاز کارروائی کرے گی۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی کو بھی نوکری سیاسی سفارش پر نہیں ملے گی، تمام صوبائی محکموں، خودمختار اور نیم سرکاری اداروں میں بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر اور ایٹا کے ذریعے ہوں گی۔ ہماری حکومت کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، عوام کرپشن کے ثبوت سامنے لائیں، حکومت بلا امتیاز کارروائی کرے گی۔کوہاٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 16 ہزار بھرتیاں سو فیصد میرٹ پر کی گئی ہیں، اور میں پورے پاکستان کے میڈیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ ایک بھی نوکری سیاسی سفارش پر ثابت کر دے۔ انہوں نے کہا کہ مزید 983 جیل وارڈنز، 3200 لیکچررز، 1800 پولیس کانسٹیبلز اور 640 سی ٹی ڈی اہلکاروں کی بھرتیاں بھی جلد مکمل کی جائیں گی اور تمام ٹیسٹ ایٹا کے ذریعے ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عمران خان کے وڑن کے مطابق میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس پر عمل پیرا ہے اور انسانوں پر سرمایہ کاری ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں اوپن ڈور پالیسی نافذ ہے، تمام ضلعی، ڈویڑنل اور صوبائی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کوئی بھی شہری سرکاری دفتر سے مایوس واپس نہ جائے، عوام کو سننا اور ان کے مسائل حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ کوہاٹ میں گرلز کیڈٹ کالج، کوہاٹ یونیورسٹی میں گرلز کیمپس، ایک ہزار بیڈز پر مشتمل اسپتال اور صاف پینے کے پانی کے مسئلے کے حل کے لیے صوبائی حکومت مکمل فنڈنگ فراہم کرے گی۔
ڈی ایچ کیو اسپتال کی خامیاں دور کی جائیں گی، بلیک ٹاپ سڑکوں اور واٹر سپلائی اسکیموں پر بھی کام تیز کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی کیونکہ یہ عوامی راج ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے عوامی مینڈیٹ چرا کر اقتدار حاصل کیا وہ ہمیں مشورے دے رہے ہیں۔ تازہ سروے رپورٹس کے مطابق پنجاب پولیس ملک کا سب سے کرپٹ ادارہ بن چکی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں سب سے زیادہ فی کس سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی ہے، مگر اس پر کوئی بات نہیں کرتا، حالانکہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ 80 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جو جی ڈی پی کا تقریباً 72 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کو مصنوعی طور پر روکا گیا ہے، عمران خان پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ جب اسے فری فلوٹ پر چھوڑا گیا تو قیمت 300 روپے سے تجاوز کر جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جعلی حکومت اور ادارے عمران خان کو جھکانے اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی مقدمات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن اداروں کو عوام کے مینڈیٹ کی حفاظت کرنی تھی وہی اس پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جیل سے عمران خان کا واضح پیغام آ چکا ہے: آزادی یا موت۔ ہم حقیقی آزادی لے کر رہیں گے۔ عمران خان نے مذاکرات یا احتجاج کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سونپی ہے، اور ہم نے ان سے ملاقات کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جب بھی کال آئے گی، عوام کو تیار رہنا ہوگا۔

