یارخون ویلی؛ پاکستان کا وہ علاقہ جہاں ترقی کا راستہ آج بھی بند ہے ۔ تحریر: سیف الرحمن عزیز
۔
پاکستان میں جب بھی ترقی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں کی بات ہوتی ہے تو سڑک کو ترقی کی پہلی سیڑھی قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ “جہاں سڑک پہنچتی ہے، وہاں ترقی خود بخود اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔” مگر افسوس کہ اپر چترال کی یارخون ویلی اس بنیادی حقیقت سے آج بھی محروم ہے۔
تقریباً پچاس ہزار نفوس پر مشتمل یارخون ویلی، پاکستان بننے کے تقریباً 78 برس بعد بھی جدید سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ آج بھی یہاں کے عوام ایک کچی ٹریک نما سڑک پر سفر کرنے پر مجبور ہیں، جو بارش، برف باری اور سیلاب کے دنوں میں کئی کئی روز تک بند رہتی ہے۔ یہ صورتحال صرف آمدورفت کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت، تعلیم، تجارت، روزگار اور انسانی جانوں سے جڑا ایک سنگین المیہ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قدیم زمانے میں یہی راستہ وسط ایشیائی ریاستوں سے آنے والے قافلوں، تاجروں اور حجاج کرام کی گزرگاہ تھا۔ یہی وہ وادی ہے جس کے بہادر لوگوں نے انگریزوں کے خلاف کئی معرکے لڑے اور انہیں پسپا کرکے اپنی جرات و بہادری کی تاریخ رقم کی۔ مگر آج انہی لوگوں کی نسلیں بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔
یارخون ویلی میں نہ معیاری صحت کی سہولیات ہیں، نہ تعلیم کا خاطر خواہ نظام، نہ صاف پینے کے پانی کی مناسب فراہمی اور نہ ہی دیگر بنیادی انفراسٹرکچر۔ اگر غیر سرکاری ادارے خصوصا آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک اور اس کے ذیلی ادارے گزشتہ کئی دہائیوں سے تعلیم، صحت، آبنوشی اور دیہی ترقی کے منصوبوں پر کام نہ کرتے تو شاید یہ علاقہ آج بھی ترقی کے اعتبار سے کئی دہائیاں پیچھے ہوتا۔
اس وقت یارخون ویلی کے ہزاروں مرد، خواتین، بزرگ اور بچے اپنے بنیادی حق، یعنی مستوج تا بروغل سڑک کی تعمیر کے مطالبے کے لیے پیدل بونی کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب علاقے میں گندم کی کٹائی اور دیگر زرعی سرگرمیوں کا اہم موسم جاری ہے۔ کسانوں کے لیے یہی چند دن سال بھر کی معیشت کا سہارا ہوتے ہیں، مگر لوگ اپنی روزی روٹی چھوڑ کر احتجاج پر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس سے بڑی بے بسی اور کیا ہو سکتی ہے؟
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ لاگت زیادہ ہے لہذا یہ سڑک وفاقی حکومت تعمیر کرے گی، جبکہ وفاقی حکومت کے پاس کسی سڑک پر کام شروع کرنے سے پہلے اسے وفاق کے سپرد کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اگر حقیقت دیکھی جائے تو چترال کی بیشتر اہم شاہراہیں پہلے ہی وفاق کے زیر انتظام ہیں، جن میں لواری ٹنل سے شندور تک این-45، گرم چشمہ روڈ، کالاش ویلی روڈ شامل ہیں، جبکہ تورکہو روڈ بھی وفاقی فنڈز سے تعمیر ہو رہی ہے۔اگر اسی روڈ کو بھی فیڈریلائز کیا جائے تو کیا ہرج ہے۔ مگر ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے پاس آخر رہ ہی کیا گیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اب صرف یارخون، اویر اور موڑکہو جیسی چند سڑکیں ہی صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں باقی رہ گئی ہیں۔ اگر انہی پر بھی کام نہ ہو تو عوام آخر کس دروازے پر دستک دیں؟
مختلف مکاتب فکر کا ایک اور بھی سوال ہے کہ چترال کے عوام نے کونسلر سے لے کر قومی اسمبلی تک بڑی تعداد میں ووٹ صوبائی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو دیے ہیں۔ اس لحاظ سے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ چترال کو کون سا ایسا میگا منصوبہ ملا ہے جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکے؟ لہذا جس کو ووٹ دیا ہے اُ سے اپنا حق بھی مانگتے ہیں۔
اسکولوں کی اپ گریڈیشن، اساتذہ یا ڈاکٹروں کی بھرتی، ادویات کی فراہمی، پینے کے پانی کی اسکیموں کی مرمت یا گلی کوچوں کی تعمیر یقیناً ضروری کام ہیں، مگر یہ معمول کی سرکاری ذمہ داریاں ہیں جو ہر حکومت یہاں تک کے نگران حکومت تک انجام دیتی ہے۔ عوام ایک ایسے بڑے منصوبے کی توقع رکھتے ہیں جو آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل دے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اپر چترال سے پہلی مرتبہ ایک خاتون کو صوبائی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، جو آئینی لحاظ سے صوبے کی تیسری بڑی شخصیت ہیں۔
یہ اعزاز صرف پروٹوکول یا عہدے کی شان بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی ہوتا ہے۔
عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا ڈپٹی اسپیکر یارخون ویلی کی سڑک کے لیے اے ڈی پی میں دو سو کروڑ روپے مختص نہیں کرا سکتیں؟ اگر پوری سڑک ایک ساتھ تعمیر کرنا ممکن نہیں تو کیا مرحلہ وار منصوبہ بندی کے تحت کم از کم مستوج سے بریپ یا بانگ تک سڑک تعمیر نہیں ہو سکتی؟
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ صوبے کے دیگر اضلاع، خصوصاً دیر، شانگلہ اور دیگر پہاڑی علاقوں میں دور دراز دیہات تک پختہ سڑکیں پہنچ چکی ہیں، بعض مقامات پر تو ایک یا دو گھروں تک بھی سڑک تعمیر کی جا چکی ہے، مگر پچاس ہزار آبادی پر مشتمل یارخون ویلی آج بھی بنیادی سڑک سے محروم کیوں ہے؟
یارخون کے عوام کا صبر اب جواب دے چکا ہے۔ وہ احتجاج پر نکل آئے ہیں اور اب انہیں یقین دہانیوں یا وعدوں سے زیادہ عملی اقدامات درکار ہیں۔
حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ عوام کو بونی پہنچنے سے پہلے کوئی واضح اور قابلِ عمل روڈ میپ دے، منصوبے کے لیے فنڈز مختص کرے یا کم از کم مرحلہ وار تعمیر کا باقاعدہ آغاز کرے۔ دوبارہ لولی پاپ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔
بصورت دیگر خدشہ یہی ہے کہ ایک پُرامن اور جائز احتجاج طول پکڑ سکتا ہے، جس سے نہ صرف عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھیں گے بلکہ ایسے عناصر کو بھی فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے جو عوامی بے چینی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
یارخون کے عوام کسی رعایت یا احسان کے طلبگار نہیں، بلکہ وہ صرف اپنا آئینی اور بنیادی حق مانگ رہے ہیں۔ ایک ایسی سڑک، جو انہیں باقی پاکستان سے جوڑ سکے، ان کے بچوں کو بہتر مستقبل دے سکے اور اس خوبصورت وادی کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکے۔
اگر مستوج تا بروغل سڑک تعمیر ہو جائے تو اس سے نہ صرف یارخون ویلی کی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ پورے اپر چترال کی معیشت کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔ اس سڑک کی تعمیر سے علاقے میں سیاحت کو بے پناہ فروغ ملے گا، کیونکہ بروغل نیشنل پارک، وسیع قدرتی چراگاہیں، برف پوش پہاڑ، گلیشیئرز، جھیلیں اور منفرد ثقافت ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتے ہیں۔
بہتر سڑک کی بدولت سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا، جس سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، مقامی تجارت، دستکاری، زرعی مصنوعات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ سیاحت سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ اور مقامی کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ریاستی آمدنی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ یوں مستوج تا بروغل سڑک صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ چترال کے معاشی مستقبل میں ایک بڑی سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے۔


