بسم اللہ الرحمان الرحیم
مشرقی اُفق – یرغمالی تندرست قیدی نیم مردہ – میر افسر امان
دنیا نے ابھی اور اس سے قبل یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی کے موقعہ پر دیکھا کہ یہودی یرغمالی تو ہشاش بشاش اور تندرست ہیں۔ جبکہ فلسطینی قیدی بیمار، مریل اور بیزار نظر آتے ہیں۔رہائی کے وقت جب یرغمالیوں نے خوشی سے حماس مجاہدین کے سروں سے بوسے لیے، اور یہ سین دنیا نے دیکھا کہ مسلمان کا کیا کردار ہے اور یہود کا کیا کردار ہے۔ جب یہود دنیا میں بدنام ہوا تو حماس پر، یرغمالی رہائی پرایسے ایونٹ کرنے سے حماس کومنع کیا۔
یہودی پیدائشی دہشت گرد ہیں۔ ان کی مذہبی کتاب تلمودکہتی ہے یہود کے علاوہ دنیا کے انسان کیڑے مکوڑے ہیں۔یہودی اللہ کے چہتے ہیں۔انسانوں پریہود کو تصرف کا حق ہے۔ ان کی جیلیں عقبوت خانے ہیں۔ اسرائیل کی فوجی چھاونی میں ایک جیل ہے۔ اس میں غزہ سے قید کیے گئے فلسطین قید تھے۔ یہودی فوجیوں نے پچاس قیدیوں کے پاخانے کے راستے میں ڈھنڈے ڈال ڈال کر ایذیتیں دے دے کے ہلاک کر دیا۔ملزم فوجی گرفتار ہوئے۔ قانونی کاروائی کا کہا گیا۔ مگر یہودی شہریوں نے مظاہرہ کے ان مجرم فوجیوں کو چھڑوا لیا۔یہود نے اسی لاشیں بغیر شناخت کے غزہ میں پھینکیں تھیں۔
یہود نے جب سے باہر سے آکر فلسطین پر قبضہ کیا، تو اس وقت سے دو دفعہ”نکبہ“(یعنی فلسطین کی مکمل تباہی) کا ارتکاب کیا۔اس وقت سے یہود نے ویسٹ بنک اور غزہ کو فلسطین کو ایک تالاب بنا دیا ہے۔ جب چاہیں کانٹا ڈال کر مچھلی کاشکار کر لیتے ہیں۔یعنی فلسطینیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں گرفتار کر لیتے ہیں۔ان ہی مظالم کا بدلہ لینے کے لیے فلسطینیوں نے ۷/اکتوبر ۳۲۰۲ء کو طوفان اقصیٰ کیا۔ تاکہ اسرائیل عقبوت خانوں سے اپنے قیدی چھڑوائیں۔یحییٰ السنوار جو بیس سال سے قید تھا۔ ایک اسرائیلی کو یرغمالی بنایا اور اس کے بدلے رہا کروایا تھا۔اسرائیلی جیلوں میں ظلم کی داستان سناتے ہوئے بی بی سی لندن نے ۲ مئی ۳۲۰۲ء کو خبر نشر کی تھی کہ بیس سالہ قیدی، اسرائیل کی قید میں ۵۴ سالہ فلسطینی قیدی خضر عدنان ۸۶دن کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے شہید ہو گیا۔فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد شطیہ نے اسرائیل پر قتل کا الزام لگایا۔ شہید قیدی کی بیوی رندا
موسیٰ نے کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ میرے شوہر پر غم کا اظہار کیا جائے۔شہادت ہمارے ہاں شادی کی طرح ہے۔ یعنی خوشی کا موقعہ ہے۔ میرے خاوند کی شہادت پر صرف ہمدردی کی جائے۔قیدیوں کے حقوق گروپ”ادامیر“ نے الزام لگایا کہ اسرائیل حکام فلسطینیوں کو پریشان کرنے کے لیے انہیں جعلی الزامات کے تحت گرفتار کرتا رہاہے۔ ۵۲ نومبر ۳۲۰۲ء اسرائیل قید سے رہا ہونے والے قیدی نے کہا تھا کہ اسے قید تنہائی میں رکھا جاتا تھامگر اللہ پر ایمان نے سب کچھ آسان کر دیا۔فلسطینیوں کا کہنا ہے اپنی آزادی پر احتجاج کرنے پر انہیں مجرم کہہ کر قید کر دیا جاتاہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کی ایک تہائی آبادی اسرائیل جیل میں رہ چکی ہے۔ اپنے علاقے پر قبضہ کرنے والے آباد کاروں پر جب فلسطینی پتھر پھینکنے پر قید کر دیا جاتا ہے۔فلسطینی کے قیدیوں سے متعلق ”کلب پی پی سی“ کا کہنا ہے کہ اسرائیل حکومت سات اکتوبر۳۲۰۲ء سے اب تک ۰۰۹ بچوں سمیت ۰۰۰۳ سے زیادہ کو قید کیاہے۔ان کے مطابق اکثریت بغیر کسی فرد جرم کے انتظامی بنیادوں پر قید میں رکھا جاتاہے۔ایسے ظالم بھی امریکہ میں موجود ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے چار ہزار فلسطینی بچوں کو قتل کیا تو یہ کافی نہیں ہے۔ سابق امریکی صدر اوباما دور کے سابق مشیر مسلم مخالف نفرت انگیز گفتگو پر گرفتار ہوا ہے۔
نسانی حقوق کی تنظیم”کلب پی پی“ کے مطابق قیدیوں کی اکثریت کسی سیاسی یا عسکری گروپ کاحصہ نہیں ہوتے۔اسرائیل کی فوجی عدالتوں پر فلسطین کے لوگوں کااعتماد نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ۹۹ فی صد مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو سزائیں سنائی گیں۔ فلسطینی قیدیوں کوایک بس لے کر”بیتو نیا“ کے اندر داخل ہوئی تو ساری فلسطینی عوام نے خوب جشن منایا۔ ابھی تاز ہ اسرائیل حماس جنگ بندی معاہدہ پر حماس نے ۰۲ زندہ یر غمالیوں کر رہاکر دیا۔ بدلے میں اسرائیل قید سے فلسطینیوں کی رہا ئی بھی ممکن ہوئی۔۰۰۹۱ سے زاہد قیدی اسرائیلی جیل سے رہا ہوئے۔ اسرائیل ان قیدیوں کو غیر قانونی جنگجوکہتا جاتا ہے۔ ان کو مہینوں بغیر عدالتی کاروائی اور وکلاء تک رسائی کے بغیر حراست میں رکھا گیا۔ اس کے ساتھ بُرا سلوک کیا گیا۔ جس میں مار پیٹ، ناکافی خوراک اور قید تنہائی شامل ہے۔ ان میں ہرغوطی، حسن سلامہ، احمد سعادت اور عباس الیسد سمیت تقریباً نصف درجن ہائی پروفائل قیدی شامل ہیں۔ برغوتی کو تو موجودہ صدر محمود عباس کا جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ان قیدیوں میں مغربی کنارے کے زائد شیخ، محمود عیسیٰ،شماسنہ بھائی، ایاد فتافتہ بھی شامل ہیں۔اس وقت اسرائیل ے زندہ سارے قیدی رہا کر دیے گئے ہیں۔
صرف بیس لاشیں باقی ہیں جو اب بھی ٹنوں ملبے تلے بے ہوئے۔ اسرائیل ان کی رہائی کا کہتا ہے مگرمشینری جیسے بلڈوزر کو غزہ میں داخل نہیں ہونے دیتا۔ کہ انہیں تلاش کر اسرائیل کے حوالے کیا جائے۔ بد نیت یہود نے جنگ کی خلاف دریاں کرتے ہو ئے مختلف وقتوں میں بمباری سے اب تک ساٹھ کے قریب غزہ کے شہریوں کو شہید کر چکا ہے۔ اس کے دو سپاہی زمین میں دبی بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ الزام حماس پر لگا کر سو سے زاہدجگہوں پر بمباری کر دی۔ بد عہد یہودبار بار کہتا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد ہم دوبارہ جنگ شروع کر دیں۔ اس کے خزانے کے متعصب وزیر سموترش نے کہا یرغمالی رہا کراکر پھر جنگ چھیڑدو۔
ڈاکٹرعنان برغوتی نے کہا اسرائیل ایسی ہی وعدہ خلافیوں کی اکثرباتیں کرتا رہا ہے۔مرح بکیر۲۲ برس قید والی پہلے فلسطینی خاتون ہے جس کو حماس اسرائیل معاہدے کے بعد رہائی ملی۔ انھیں ۶۱ سال کی عمر میں ۵۱۰۲ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسرائیل کی باڈر پولیس افسر پر چاقو سے حملہ کی سزا دی گئی۔ ان کولڑکیوں کی قید سے علیحدہ اور قید تنہائی میں رکھا گیا۔انسانی حقوق پر کام کرنے والے وکیل محمد خطیب نے کہا کہ اچھا ہوتا کہ بے گناہ فلسطینی قیدیوں کو بغیر معاہدے کے چھوڑا جاتا۔مگر اسرائیل طاقت کی زبان ہی سمجھتا ہے۔ اسرائیل کے قومی سلامتی کے متعصب وزیر اتمر بن گویرکے مطالبہ پر انسانی بنیادی قیدیوں کے حقوق کی خلاف دردی کرتے ہوئے اسرائیل پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا ظالمانہ بل منظور کر لیا۔اسرائیل فلسطینیوں کو ختم کر کے گریٹر اسرائیل بناناچاہتا ہے۔ ٹرمپ اس سازش میں شریک ہے۔ مسلمانوں کو یہود کو خود مقابلہ کرنا ہے۔ اپنی متحدہ فوج بنا کر اسرائیل سے قبلہ اول چھڑانا ہے۔ فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل قابض ہے۔ اس کا قبضہ چھڑوانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس وقت اسرائیل کے مظالم اور غزہ میں نسل کشی پر سارے دنیا کے خلاف ہے۔ اس سے فاہدہ اُٹھانا چاہیے۔ اللہ فلسطین کو اسرائیل سے آزادی دلائے آمین۔
