“حقوقِ نسواں” – (موروثی جاہلیت سے نام نہاد آزادی تک کا فریب اور شرعی حقیقت) – تحریر: محمد فیصل طارق
ہمارے معاشرے میں خواتین کے حقوق اور ان کے مقام و مرتبے کے حوالے سے آج جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ان کی سب سے بڑی وجہ دینِ فطرت سے دوری اور جاہلانہ رسومات کو شریعت پر فوقیت دینا ہے۔ اسلام نے عورت کو محض ایک گھریلو قیدی بنا کر نہیں رکھا اور نہ ہی وہ مکمل آزادی دی ہے جو یورپ کے خواتین میں پائی جاتی ہیں بلکہ اسے وہ تمام حقوق عطا کیے ہیں جو اس کی شخصیت کی نشوونما اور وقار کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں حقوقِ نسواں کا تصور دو انتہاؤں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ جو مکمل patriarchical system کا حامی ہیں جس میں خواتین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے اور محکوم رکھا جاتا ہے جو سراسر ظلم ہے۔ تو دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو عورت کی آزادی کو صرف مخلوط موسیقی کے پروگرامات، بے پردگی اور نام نہاد روشن خیالی میں تلاش کرتا ہے حالانکہ یہ آزادی نہیں بلکہ عورت کا استحصال ہے۔ اس گروہ کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ یہ دوسروں کی خواتین کے لیے تو بے جا آزادی کے حامی ہیں اور پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں مگر جب اپنے گھر کی بات آئے تو وہی لوگ اپنی خواتین کو محکوم رکھتے ہیں اور انہیں ان کے جائز شرعی حقوق دینے سے کتراتے ہیں جیسے دو بڑے حقوق کی اگر میں بات کروں تو پہلا وراثت میں حصہ دینا اور دوسرا شادی ان کی مرضی سے کرنا، اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے ہیں۔
درحقیقت اسلام نے عورت کو پردے اور حیا کے دائرے میں رہ کر ہر اس جائز سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے جو معاشرے کے لیے مفید ہو (تجارت سے لیکر قانون سازی تک)۔
اگر ہم امہات المومنین کی مقدس زندگیاں اٹھا کر دیکھ لیں تو اس حوالے سے ہمارے لیے ایک ایسا مکمل نصاب ہیں جس کی نظیر ہمیں نہیں ملتی۔
مثلاً سیدہ خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کا ایک عظیم تاجرہ کے طور پر معیشت میں کردار، سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کا علم و اجتہاد کے ذریعے جلیل القدر صحابہ کی علمی رہنمائی کرنا اور سیدہ زینب رضی اللّٰہ عنہا کا دستکاری کے ذریعے معاشی خود مختاری حاصل کر کے غریبوں کی سرپرستی کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پردہ کبھی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہا۔ ان عظیم ہستیوں نے ثابت کیا کہ ایک عورت اپنی حدود میں رہ کر بھی پوری دنیا کے سیاسی، سماجی اور علمی افق پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ جو روشن خیال لوگ پردے کے منافی باتیں کرتے ہیں اور خواتین کے حقوق محض مخلوط پروگرامات سمجھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو خواتین کو مرضی کی شادی اور وراثت جیسے بڑے حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔ یہ وہ سنگین مسائل ہیں جن پر بات کرنے سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر حق سچ کی بات کی تو انہیں اپنے حصے کی زمین یا مال دینا پڑے گا اور وہ فرسودہ مردانہ بالادستی ختم ہو جائے گی جسے وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ناانصافی جنم لیتی ہے اور بعد ازاں رشتوں میں دراڑیں اور ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ یورپ کی نام نہاد آزادی کو مثال بناتے ہیں وہ اس حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں کہ وہاں عورت کو آزادی کے نام پر محض ایک تجارتی شے بنا کر “استعمال” کیا جاتا ہے جبکہ اسلام نے اس عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے روپ میں تقدس اور تحفظ کا وہ لباس پہنایا ہے جو کسی اور تہذیب میں میسر نہیں۔
اگر ہم واقعی معاشرے کی اصلاح کے خواہاں ہیں تو ہمیں ان فرسودہ رسومات کی زنجیروں کو توڑنا ہوگا جو دین کے نام پر عورت پر مسلط کی گئی ہیں اور روشن خیالی کی شکل میں ان کو آزادی دی گئی ہیں۔ بلکہ ہمیں اسے وہ وراثت دینی ہوگی جو اللّٰہ تعالٰی نے مقرر کی ہے اور اسے وہ حقِ انتخاب دینا ہوگا جو رسول اللّٰہ ﷺ نے اسے عطا فرمایا ہے۔ اسلام کی دی ہوئی عزت اور شرعی حدود ہی وہ واحد راستہ ہیں جہاں عورت حقیقتاً آزاد، معزز اور محفوظ ہے۔ مغربی معاشرت میں عورت کا وقار اکثر عارضی فائدوں کی نذر ہو جاتا ہے لیکن اسلام اسے وہ دائمی وقار دیتا ہے جہاں اس کی حیا اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی ڈھال بن جاتی ہے۔

