چترال میں حکومتی سرپرستی میں فحاشی کسی صورت قابلِ قبول نہیں، انتظامیہ سے وضاحت اور معافی کا مطالبہ، جمعیت علمائے اسلام ۔ لڑکیوں کے کرکٹ ٹورنامنٹ کی شدید الفاظ میں مذمت۔ جماعت اسلامی
۔
چترال(نمائیندہ چترال ٹائمز) جمعیت علمائے اسلام تحصیل دروش کے امیر مولانا قاضی محمد انعام الحق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومتی سرپرستی میں فحاشی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انتظامیہ اپنی غیر اسلامی سرپرستی سے چترال کے پُرامن ماحول کو خراب نہ کرے اور عوام کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
درش سے جاری ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی سرگرمیوں کو گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے، اور دولوموچ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیل کے نام پر بالغ لڑکیوں کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق چترال کے علماء اور عوام اس معاملے پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
مولانا قاضی محمد انعام الحق نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ فوری طور پر عوام سے معافی مانگے اور آئندہ ایسے پروگراموں کی سرپرستی سے گریز کرے جو اسلامی تعلیمات اور مقامی اقدار سے متصادم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چترال ایک مذہبی اور باوقار معاشرہ ہے، جہاں اس نوعیت کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیلاش اور اسماعیلی برادری کی بچیاں بھی چترال کی بیٹیاں ہیں، اور انہیں اس طرح عوامی مقامات پر پیش کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ اس واقعے پر مشاورت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے دروش میں آل پارٹیز اجلاس بلایا جائے گا۔
دریں اثنا جماعت اسلامی چترال لوئیر کی طرف سے ایک اجتماع کے بعد مشترکہ قرارداد پاس کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اجتماع گزشتہ دنوں چترال جیسے مذہبی طور پر حساس علاقے میں مردوں کی جھرمٹ میں لڑکیوں کے کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اور ان تمام اداروں اور افراد کو خبردار کرتا ہے کہ اس پسماندہ ضلع کے سادہ لوح مسلمانوں میں اباحیت پسندی کو رواج دینے اور منکرات کی سرپرستی کرنے سے باز رہیں۔
چترال کے روایتی اقدار، سماجی رجحانات اور ہمارے مذہبی احکامات میں سے کوئی چیز اس عمل کی اجازت نہیں دیتی۔ لہذا بچیوں کو سر عام میدان میں اتار کر مذہبی اقدار اور تہذیبی روایات کو پامال کرنے کی کوشش سے گریز کیا جائے۔

