چترال کی معروف خاتون قانون دان ایچ خونزہ ایڈوکیٹ انتقال کر گئیں ، سینکڑوں آشکبارآنکھوں کے سامنے آبائی قبرستان سین چترال لوئر میں سپرد خاک
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کی معروف خاتون قانون دان ایچ خونزہ ایڈوکیٹ مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر تقریباً 30 برس تھی۔ وہ چترال شہر میں بطور واحد خاتون وکیل خدمات انجام دے رہی تھیں اور قانونی شعبے میں اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ خدمات کے باعث ایک منفرد مقام رکھتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز طبیعت ناساز ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ حالت تشویشناک ہونے پر ڈاکٹروں نے انہیں مزید علاج کے لیے پشاور ریفر کر دیا، تاہم پشاور روانگی کے دوران چارسدہ انٹرچینج کے قریب وہ خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
ایچ خونزہ ایڈوکیٹ نے مختصر عرصے میں وکالت کے شعبے میں اپنی شناخت قائم کی اور بالخصوص خواتین سائلین کو قانونی معاونت فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی وفات سے چترال کی قانونی برادری اور خواتین سائلین ایک مخلص اور باصلاحیت قانون دان سے محروم ہو گئی ہیں۔
مرحومہ کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں سین، چترال میں ادا کی گئی، جس میں وکلاء، سماجی شخصیات، مقامی عمائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں سینکڑوں اشکبار آنکھوں کے سامنے سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ان کے انتقال پر چترال بار ایسوسی ایشن، وکلاء برادری اور مختلف سماجی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
ان کے سوگواراں میں معراج احمد خان مغل ایڈوکیٹ بھائی ، لیکچرر احتشام الدین ، پروفیسر مظہر اللّٰہ ، اشفاق احمد لال، ابوبکر ، محمد یحییٰ ، بابر احمد ۔ محمد ہارون ودیگرشامل ہیں ۔

