خیبر پختونخوا میں روسی فاختہ کے شکار کی مشروط اجازت دیدی گئی، قواعد وضوابد جاری، خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کاروائی کی جائیگی۔ محکمہ جنگلی حیات
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) حکومتِ خیبر پختونخوا کے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات نے روسی فاختاؤں کے شکار سے متعلق نئے ضوابط جاری کر دیے ہیں تاکہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قانون پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام Khyber Pakhtunkhwa Wildlife and Biodiversity Act 2015 کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد قدرتی حسن کے تحفظ اور پرندوں کی آبادی کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سال 2025-26 کے دوران روسی فاختاؤں کے شکار کی اجازت صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دنوں میں ہوگی، جبکہ یہ سہولت صرف اُن افراد کے لیے دستیاب ہوگی جن کے پاس سمال گیم شوٹنگ کا درست لائسنس موجود ہو۔
یہ ضوابط فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور 31 مئی 2026 تک برقرار رہیں گے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ دنوں کے علاوہ شکار کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ نے فی شکاری یومیہ زیادہ سے زیادہ 8 پرندوں کے شکار کی حد مقرر کی ہے، جبکہ اس حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں فی پرندہ 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
اسی طرح طلوعِ آفتاب سے قبل اور غروبِ آفتاب کے بعد شکار مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کی ٹیمیں پرندوں کی تعداد کی مسلسل نگرانی کریں گی، اور ضرورت پڑنے پر شکار پر فوری پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
محکمہ نے عوام، بالخصوص شکاری حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں حکومت کا ساتھ دیں۔
جنگلی حیات نہ صرف ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتی ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی امانت بھی ہے۔
حکومت خیبر پختونخوا ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کے فروغ، جنگلی حیات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور روسی فاختاؤں کے شکار سے متعلق یہ ضوابط بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔
